خالد مسعود خانکالملکھاری

عقل سے عاری بابو اور بے چاری عوام۔۔خالد مسعودخان

جب تک میں کمبوڈیا روانہ نہیں ہوا‘ شوکت تقریباً ہر روز پوچھتا تھا کہ آپ روانڈا کب روانہ ہو رہے ہو؟ کسی روز پوچھتا کہ آپ یوگنڈا کب روانہ ہو رہے ہو اور کسی دن پوچھتا کہ افغانستان روانگی کب ہے؟ وہ دراصل اپنی طرف سے میرے کمبوڈیا جانے کے فیصلے پر طنز فرماتا تھا۔ اسد ‘اسلام آباد سے ملتان‘ شوکت کے ساتھ آیا۔ راستے میں شوکت نے اسد کو کمبوڈیا کے بارے میں خاصا گمراہ کرنے کی کوشش کی‘ مگر بھلا ہو گوگل کا۔ اب معلومات کا حصول اتنا آسان ہو گیا ہے کہ اس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ادھر سوال پوچھا اور ادھر ہاتھ میں پکڑے ہوئے موبائل پر چلنے والے موبائل ڈیٹا کی سہولت کے طفیل وہیں بیٹھے بیٹھے گوگل کھول کر جواب دیکھ لیا۔ اسد‘ گزشتہ ایک ماہ کے دوران کمبوڈیا کے بارے میں بہت کچھ پڑھ چکا تھا۔ وہ اپنے انکل شوکت کی باتیں سن کر ہنستا رہا۔ گھر کے سامنے اسے اتارتے ہوئے شوکت نے تاکید کی کہ وہ اسے واپس آ کر کمبوڈیا کے بارے میں بالکل صحیح صحیح اطلاع دے کہ وہ کیسا ملک تھا اور اس نے وہاں جا کر کیسا محسوس کیا ہے؟ اسد نے وعدہ کر لیا۔ شوکت نے مزید کہا کہ محض اپنے ابا کے فیصلے کی عزت رکھنے کی خاطر کمبوڈیا کے بارے میں غلط بیانی سے کام نہ لے اور واپسی پر نہایت ہی ایمانداری سے اپنی رائے سے آگاہ کرے۔ اسد نے ہنستے ہوئے پکا وعدہ کر لیا۔
میری اور اسد کی ٹکٹ نیٹ سے Expedia کے ذریعے خریدی گئی تھی۔ تب ہم دونوں ہی کمبوڈیا جا رہے تھے۔ اسد اپنے تیسرے سمسٹر سے فارغ ہو کر چھ تاریخ کو ملتان آ رہا تھا اور آٹھ کو ہماری کمبوڈیا روانگی تھی۔ یہ دس روزہ تفریحی دورہ تھا‘ انیس کو ملتان واپسی تھی‘ بیس کو اسد نے اسلام آباد روانہ ہو جانا تھا اور اکیس سے اس کا چوتھا سمسٹر شروع ہو رہا تھا۔ بعد میں فیصلہ ہوا کہ انعم بھی ہمارے ساتھ جائے گی۔ اب Expediaپر تیسری ٹکٹ بک کرنے کی کوشش کی
گئی تو عجب مصیبت نے آن گھیرا۔ ایکسپیڈیا والے کوئی نوید تو تھے نہیں کہ میری عین مرضی کے مطابق ٹکٹ بک کر دیتے۔ آٹو میٹک سسٹم تھا ‘کبھی جانے کی ٹکٹ ہماری گزشتہ دو ٹکٹوں کے ساتھ بک کر دیتا اور کبھی واپسی والی۔ گھنٹوں سر کھپایا‘ مگر بات نہ بنی۔ مجبوراً نوید سے رابطہ کیا اور اپنی مرضی مطابق شیڈول کا ٹکٹ بنوا لیا۔
ہفتہ پہلے نوید کا فون آ گیا کہ باقی تو سب کچھ ٹھیک ہے ‘لیکن ملتان سے فلائی دبئی والے ”او کے ٹو بورڈ“ نہیں کر رہے۔ اسے کہا کہ وہ امارات والوں سے رجوع کرے۔ ٹکٹ امارات کی ہے۔ بے شک ملتان سے دبئی کے لیے ان کی کوڈ شیرنگ فلائی دبئی کے ساتھ ہے‘ مگر میں امارات کا مسافر ہوں‘ فلائی دبئی کا نہیں۔ امارات والوںنے جواب دیا کہ آپ کے پاس کمبوڈیا کا ویزہ نہیں ہے ‘ لہٰذا آپ کو Ok To Board نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں بتایا کہ پاکستانیوں کے لیے کمبوڈیا کا ویزہ ایئر پورٹ پر اترتے ہی مل جاتا ہے ؛بشرطیکہ آپ کے پاس ہوٹل کی بکنگ ہو اور کوئی دعوت نامہ ہو۔ میرے پاس کمبوڈیا میں پاکستان کے سفیر امجد علی شیر کا باقاعدہ دعوت نامہ موجود ہے۔ کمبوڈیا کی خارجہ امور کی وزارت کے ڈائریکٹر جنرل کی طرف سے ویزہ کی منظوری کا خط ساتھ لف ہے۔ کمبوڈیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے باقاعدہ اس دعوت نامے کی تصدیق کی گئی ہے اور اس کی کاپی بھی ساتھ لگی ہوئی ہے ‘اب اور کس چیز کی ضرورت ہے؟ جواب ملا کہ امور خارجہ کی وزارت کی طرف سے آپ کو جاری کی گئی جو منظوری آپ نے فراہم کی ہے ‘وہ اللہ جانے کیا چیز ہے؟ ہمیں تو اس پورے خط میں صرف آپ کے نام ‘پاسپورٹ نمبر‘ پاکستان ایمبیسی اور نوے دن کی منظوری کے علاوہ اور کوئی چیز سمجھ نہیں آ رہی ‘کیونکہ صرف یہی چار چیزیں انگریزی میں درج ہیں‘ باقی سب کچھ تو کیڑوں مکوڑوں والی زبان میں ہے اور جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ دو تین دن کی سر کھپائی کے بعد یہ سمجھ میں آ گیا کہ دیوار سے سر پھوڑنے کا کوئی فائدہ نہیں‘ دوبارہ امجد کو فون کیا۔ اگلے روز امجد نے اس کمبوڈیا کی Khmer زبان والے خط کا انگریزی ترجمہ اور اس پر Attestation کی مہر لگا کر مجھے واپس میل کر دیا۔ اب سب کچھ واضح تھا ‘لیکن مشکل اب بھی آسان نہ ہوئی۔ امارات والوں نے انعم کی ٹکٹ تو او کے ٹو بورڈ کر دی‘ مگر میری اور اسد کی ٹکٹ کو او کے ٹو بورڈ کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا موقف تھا کہ یہ ٹکٹ ایکسپیڈیا سے خریدی گئی ہے۔ میں تنگ آ کر ان سے تقریباً لڑ پڑا کہ بکنگ کہیں سے بھی کروائی گئی ہو‘ ٹکٹ تو آپ کی ایئر لائن کی ہے۔ مسافر میں آپ کا ہوں۔ اس ٹکٹ کے پیسے بھی ایکسپیڈیا والوں سے آپ نے ہی لیے ہیں۔ بکنگ ریفرنس پر آپ کی ایئر لائن کا نمبر ہے تو اس دو ٹکٹوں پر آپ کیسے او کے ٹو بورڈ نہیں کرتے؟ جواب ملا: آپ ملتان کے فلائی دبئی کے دفتر چلے جائیں۔ تنگ آ کر فلائی دبئی کے دفتر چلا گیا۔ شکر ہے‘ وہاں کوئی بھلا آدمی بیٹھا تھا ‘اس نے ہم تینوں کو او کے ٹو بورڈ کر دیا۔ میرا خیال تھا کہ معاملہ حل ہو گیا ہے‘ لیکن میرا خیال خام ثابت ہوا۔
ایئر پورٹ پر پہنچا تو بورڈنگ کاﺅنٹر پر پھر پھڈا پڑ گیا۔ میں احتیاطاً سارے کاغذات کی فوٹو کاپی ہمراہ لے گیا تھا۔ سارے کاغذات ان کوپکڑا دیے۔ کاﺅنٹر پر موجود لڑکے نے مدد کے لیے اپنے سینئر کو بلا لیا۔ سینئر نے اپنے سپروائزر کو بلا لیا اور سپروائزر نے شفٹ انچارج کو امدادی پارٹی کے طور پر طلب کر لیا۔ سب لوگ میرا مسئلہ حل کرنا چاہتے تھے‘ مگر نہ وہ حل کر پا رہے تھے اور نہ ہی مجھے کچھ بتا رہے تھے۔ میں نے ایک دو بار ان سے پوچھا بھی کہ کیا معاملہ ہے ‘مگر وہ مجھے تسلی رکھنے کا کہہ کر کمپیوٹر سے زور آزمائی کرنے لگ جاتے۔ بالآخر وہ اپنی کوششوں میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے مجھے بورڈنگ پاس پکڑا دیے‘ جونہی میں ایف آئی اے کاﺅنٹر پر گیا‘ کاﺅنٹر پر بیٹھی خاتون نے مجھے اشارے سے بتایا کہ میں ”ان میڈم صاحبہ“ کو ملوں۔ اس میڈم نے مجھے اپنے جونیئر کے پاس بھیج دیا۔ اس نے مجھے پوچھا کہ ویزہ کہاں ہے؟ سارا معاملہ گھوم پھر کر وہیں آ گیا ‘جہاں سے چلا تھا۔
میں نے اسے بتایا کہ کمبوڈیا کا ویزہ “On arrival” ہے۔ جب ویزہ آن ارائیول ہے تو پھر اس کی یہاں ملتان ایئر پورٹ پر پڑتال کی کیا تک بنتی ہے؟ جب ویزہ ملنا ہی کمبوڈیا جا کر ہے تو میں اسے آپ کو یہاں ملتان سے کیسے دکھا سکتا ہوں؟ لیکن عقل سے عاری اہلکار میری کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہیں تھے۔ انہیں کمبوڈیا میں پاکستان کے سفیر کا دعوت نامہ دکھایا۔ ڈائریکٹر جنرل امیگریشن آف کمبوڈیا کی طرف سے ویزے کا اجازت نامہ دکھایا۔ پاکستان کے سفیر کے لیٹر پر وزارت امور خارجہ کے ڈی جی کی طرف سے منظور شدہ خط کی کاپی دکھائی‘ لیکن وہ مجھ سے میرے پاسپورٹ پر ویزہ سٹکر طلب کر رہے تھے‘ پھر اچانک انہوں نے فرمائش کر دی کہ ایئر لائن والوں سے بات کروائی جائے۔ ایئر لائن والے مجھے پہچان گئے تھے ‘تبھی تو ان سب نے مل جل کر میرا مسئلہ حل کرتے ہوئے مجھے بورڈنگ کارڈ جاری کر دیے تھے۔ ان کا شفٹ انچارج اوپر آیا اور کہنے لگا: ہم نے سسٹم میں چیک کر لیا ہے کہ کمبوڈیا کا ویزہ آن ارائیول ہے اور ان کے پاس دعوت نامہ‘ ریٹرن ٹکٹ‘ وہاں رہائش کا بندوبست اور دعوت نامے کی کمبوڈیا کی امیگریشن اور وزارت امور خارجہ کی طرف سے تصدیق شدہ کاپی موجود ہے ‘لہٰذا کوئی مسئلہ نہیں۔ تب میرے پاسپورٹ کو ڈیڑھ درجن بار کھول کر چیک کرنے والی بی بی نے پوچھا: آپ پہلے کس کس ملک میں گئے ہیں؟ میں نے کہا :پاسپورٹ آپ کے ہاتھ میں ہے‘ بلکہ کافی دیر سے آپ کے ہاتھ میں ہے‘ دیکھ لیں کہ کہاں کہاں جا چکا ہوں‘ پھر پوچھنے لگی: کون کون سے ملک کے ویزے لگے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا: برطانیہ کا اگلے دس سال کے لیے‘ یعنی 2028ء تک کا ویزہ لگا ہوا ہے۔ کینیڈا کا 2025ء تک کا ویزہ لگا ہوا ہے۔ امریکہ کا ویزہ بھی لگا ہوا ہے اور کون سا ویزہ درکار ہے؟ بی بی نے کاﺅنٹر پر بیٹھی ہوئی خاتون کو کہا :ان کو جانے دو۔
دونوں بچوں کا کافی دیر سے خون خشک ہوا پڑا تھا کہ اللہ جانے وہ کمبوڈیا جا بھی سکتے ہیں یا نہیں۔ یہ دو حرفی حکم سنتے ہی ان کی جان میں جان آئی۔ ہم لاﺅنج میں جا کر بیٹھ گئے۔ میں دیر تک سوچتا رہا کہ کامن سینس سے عاری‘ لیکن بے پناہ اختیارات کے حامل یہ پڑھے لکھے جاہل افسر کب تک عوام کو مشکل میں مبتلا کرتے رہیں گے؟ ابھی چند روز پہلے ہی ملتان ایئر پورٹ سے آٹھ لوگ ایک ہی فلائٹ میں بغیر ویزہ کے سوار ہو کر بیرون ملک چلے گئے تھے۔ گمان ہے‘ ان سے موٹی رقم ماری گئی ہوگی ‘جبکہ ادھر سے ان کو ایسی کوئی علامت نظر نہیں آ رہی تھی‘ لہٰذا ساری اصول پسندی کا نزلہ میرے جیسے لوگوں پر گرتا ہے۔ اللہ جانے پاکستان کے ایئر پورٹس پر مسلط ان عقل سے عاری بابوﺅں سے کب نجات ملے گی؟
(بشکریہ:روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker