کالمکشور ناہیدلکھاری

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو !!۔۔کشور ناہید

یہ بات تو 1996کی ہے، جب میں بھی نوکری میں تھی۔ ایک کمیٹی بنائی گئی ۔ اس کمیٹی کے سربراہ سید فخر امام تھے۔ میں نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب ہم کسی سفیر کے ساتھ ملاقات کیلئے جاتےہیں تو اسکی میز پر ایک IN اور ایک OUT ٹرے ہوتی ہے۔ نہ باہر چپڑاسی ،نہ چائے والا سکون اور اطمینان سے اس کے ساتھ پروجیکٹ پر تفصیلات طے ہوتی ہیں۔ میٹنگ کے ختم ہونے کے بعد مہمان اور سفیر محترم دونوں اٹھ کر ٹی روم میں جاتے ، اپنی چائے بناتے ہیں۔ علاوہ ازیں میں نےکہا کہ ہمارے زیادہ تر سیکرٹری (اس زمانے میں) نمائش کیلئے کمپیوٹر سامنے رکھ لیتےتھے۔ کوئی نوٹ لکھوانا ہو تو سٹینو بلا کر لکھوا دیتے تھے۔ میں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ساری دنیا میں عملے کی تعداد کم سے کم کر دی گئی ہے۔ کوئی ضرورت نہیں dispatch Rider کی کہ کمپیوٹر کے ذریعہ خط متعلقہ شخص تک پہنچ جائے گا۔ اسی طرح U.D.C. L.D.C اسسٹنٹ جیسی اسامیوں کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ فخر امام صاحب بولے یوں تو بڑی سوشلسٹ بنتی ہو اور غریبوں کی نوکری کے پیچھے پڑ رہی ہو۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہم لوگ انگریزوں کی چھوڑی ہوئی روایتوں کو ختم کرنےکی جگہ، بڑھائے اور پھیلائے جا رہے ہیں۔ اب جبکہ کمپیوٹر آچکا ہے اس وقت اسکائپ اور دیگر لوازمات نہیں آئے تھے۔ ہمارے دفتروں میں رواج ہے کہ صاحب کا بیگ پکڑنے کیلئے سیکرٹری کو فون کر کے بتا دیا جاتا ہے کہ صاحب گھر سے چل پڑے ہیں۔ وہ نیچے کھڑے ہو کر انتظار کرتا ہے۔ ان کے آنے پر دروازہ کھولتا ہے۔ ہاتھ میں انکا بیگ پکڑتا ہے اور پھر صاحب دفتر پہنچتے ہیں ۔ آج کےزمانے میں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم خود گاڑی چلا کر موقع پر پہنچتی ہے۔
1996 کےزمانےکے 24سال بعد پھر ابال اٹھا ہے کہ دفتروں میں عملہ کم کیا جائے سارا مسئلہ یہ ہے کہ سفارش پہ رکھے ہوئےچاہے وہ سرکاری دفتر ہو کہ پی آئی اے کہ ریلوے یااسٹیل ملز۔ کہیں بھی تجزیہ کریں تو آپ کو کم از کم 30 فی صد سفارشی لگے دکھائی دینگے جو کہ کام واقعی کچھ نہیں کرتے۔ غنڈہ گردی انکا شیوہ ہے شرفا ان سے ڈرتے ہیں۔ یہ سلسلہ ساری طرح کی حکومتوں کے درمیان پھلتا پھولتا رہا۔ اسی طرح لیبر فیڈریشن کے نام سے لوگ اپنی دھونس جماتےرہتے ہیں۔
اعلیٰ عہدوں پر ایسے سفارشی طریقے پے تعینات لوگوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہمارے تو پر جلتے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ دو رقیبوں کا میزبان ایک ہی شخص ہوتا ہے ۔ کورونا کے زمانے کے آشوب کےوقت ہم کیا ساری دنیا کہتی رہی ہے کہ اب جب کہ اس وقت لاکھوں لوگ موت کا نوالہ بن چکےہیں۔ حقیقت میں ہزاروں میں ہوٹل، پب اور ریستوران بند ہو رہے ہیں۔ مگر ہماری سرکاری دفاتر کی وہی ہے چال بے ڈھنگی کسی بھی سیکرٹریٹ میں چلے جائیں کرسیوں پہ اوپر ٹانگیں کر کے ویلے بندے نظر آئینگے۔ جب تک ہمارے دفتروں میں آدھا فالتو اور بیکار اسٹاف کم نہیں کیا جاتا جب تک فائل پر سیکشن انہیں نوٹ لکھ کر بھیجتا رہے گا۔ یہ سب تفصیلات آخر کمپیوٹر کے ذریعے ایک افسر سے دوسرے تک پہنچائی جائیں۔ کاغذ ، وقت اور فیصلہ سازی میں ہر روز کسی کمیشن بنانے کی ضرورت ہی نہیں پڑیگی۔ مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ ، جب تک ٹیکنیکل ٹرینڈ لوگ عملے میں شامل نہیں ہونگے۔ کسی نہ کسی پارٹی کے چہیتے ملازم ہوتے رہیں گے۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر اس لشکر بے مہار سے نجات کیسے دلائی جائے۔ اور سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اولین طریقہ تو یہ ہے کہ ان تمام نچلے اسٹاف کو گولڈن ہینڈ شیک دیکر فارغ کر دیا جائے۔ باصلاحیت نیا عملہ نئے اسکیل پر رکھا جائے۔ اس و قت کوئی رو رعایت نہیں برتی جائے۔ صرف صلاحیت کو سامنے رکھا جائے۔ مثال کے طور پر نوشین جاوید کو ان کی اعلیٰ صلاحیتوں کے باعث چیئرمین ایف بی آر لگایا گیا۔ ڈاکٹرحیدر یوسف پاکستان کا ہی پڑھا لکھا ہے اور باہر جا کر اور سونا بن کر چمکا۔ اسی طرح ٹیلی کمیونیکیشن کو ایک ماہر قانون کی ضرورت تھی اور ہمارے نکمے افسروں سے عاجز ہونے کے باوجود کام کر رہی ہے۔
ہمارے یہاں دستور یہ ہے کہ بچہ میٹرک کرے تو اس کو دفتر میں چپراسی لگوا کر پکی نوکری کرو ادی جائے پھر باپ کے مرنےکے بعد وہ اس کی جگہ لگارہتا ہے اور سارے محکموں میں یہی دستور ہے چاہے وہ ڈرائیور ہو کہ الیکٹریشن ہوکہ باورچی کہ خاکروب۔ نسل در نسل لوگ لگائے جاتےہیں۔ اب ذرا حالات بہترہوئے ہیں۔ میٹرک کے بعد لڑکے کو کمپیوٹر اس طرح سکھا دیتےہیں جیسے ٹائپنگ اور پھر زمانہ بدل کے کہیں کا کہیں پہنچ گیا۔ ہم ہیں کہ میٹرک اور کمپیوٹر بیسک کو کافی سمجھتے ہیں۔ آج سے تیس برس پہلے ٹریکٹر خراب ہو کہ بجلی خراب ہو گاؤں میں کوئی کاریگر نہیں ہوتا تھا۔ اب یہ ہوا ہے کہ مرد تو مرد خواتین بھی بجلی کا فیوز لگا لیتی ہیں۔ ٹریکٹر اور ا س سے متعلق دیگر سامان کی مرمت گاؤں ہی میں ہو جاتی ہے۔فصل چھڑنے کیلئے ٹریکٹر آگئے ہیں باقاعدہ گودام بنائے جا رہے ہیں اور بیج کی اعلیٰ نسل حاصل کرنے کی بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ بہت سے لڑکے باہر سے پڑھنےکے بعد اپنی زمین پر خود کوشتکاری کرر ہے ہیں۔ پھربھی بہت بدلے آبپاشی کے نئے طریقے ۔ اعلیٰ کوالٹی کا بیج اور کٹائی کے طریقے۔کورونا کے کے بعد سنا ہے دنیا بدل گئی ہے۔ پاکستان میں میٹرک کی سند اور سفارش بس یہی ترقی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker