گوجرانوالہ : کالعدم تنظیم تحریکِ لبیک پاکستان کے ’لانگ مارچ‘ کے شرکا کو لاہور میں روکنے کی کوششیں ناکام رہی ہیں اور اب یہ قافلہ لاہور کی حدود سے نکل کر جی ٹی روڈ کے راستے اسلام آباد کی جانب گامزن ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق اس قافلے کے شرکا نے رات جی ٹی روڈ پر قیام کیا اور اتوار کو ضلع گوجرانوالہ میں مریدکے کے نواح سے اپنے سفر کا دوبارہ آغاز کریں گے۔پنجاب پولیس نے ابتدا میں لاہور اور اور پھر ضلع شیخوپورہ میں اس قافلے کو روکنے کی متعدد بار کوشش کی تاہم اسے ناکامی کا سامنا رکنا پڑا۔ تاہم تحریک لبیک کے ذرائع نے کہا ہے کہ کالا شاہ کاکو سے نکلنے کے بعد مریدکے تک انھیں پولیس کی جانب سے کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جمعے کی شام سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک کم از کم دو پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ تحریکِ لبیک کے ترجمان کی جانب سے بھی درجنوں کارکنوں کے زخمی اور متعدد کے ہلاک ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قافلے کے شرکا کی جانب سے شدید پتھراؤ سے ایک ڈی ایس پی اور دو ایس ایچ اوز سمیت 50 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سربراہ لاہور پولیس غلام محمود ڈوگر نے لاہور کے گنگا رام اور سروسز ہسپتال میں زخمی اہلکاروں کی عیادت کی ہے۔
اس قافلے کے لاہور سے نکلنے کے بعد جہاں لاہور میں معطل کی گئی انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے وہیں حکام نے گوجرانوالہ شہر کے علاوہ مریدکے، کامونکی، وزیرآباد اور ضلع گجرات میں انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
لانگ مارچ کی آمد کے خدشے کے پیشِ نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد کے علاقے کو کنٹینرز لگا کر مکمل سیل کر دیا گیا ہے اور راولپنڈی کی اہم شاہراہ مری روڈ پر بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔تنظیم کی مرکزی شوریٰ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اگر اب یہ مارچ روکنے کی کوشش کی گئی تو ان کے پاس ’پلان بی بھی موجود ہے۔‘
خیال رہے کہ تحریک لبیک کی قیادت حکومتی مذاکراتی ٹیم سے فرانسیسی سفیر کے معاملے پر کیے گئے معاہدے پر عمل کرنے پر مصِر ہے اور اس تنظیم کا اپریل میں ہونے والے احتجاجی مظاہرہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب سے فرانس کے سفیر کی ملک بدری پر بحث کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کے فیصلے کے بعد ختم کیا گیا تھا۔
ادھر تحریکِ لبیک سے مذاکرات کے لیے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید سنیچر کو لاہور پہنچے۔ لاہور آمد کے بعد وزیرِ داخلہ نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں اس احتجاج سے نمٹنے کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔اس اجلاس میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری، وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کے علاوہ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت ،آئی جی پنجاب بھی موجود تھے۔
سنیچر کو رات گئے تک فریقین کے درمیان مذاکرات کی خبریں گردش میں تھیں تاہم اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔جمعے کو جھڑپوں کے بعد تحریکِ لبیک کی مرکزی شوریٰ کی جانب سے بیان میں کہا گیا تھا کہ اب بات چیت صرف اسی صورت میں ہو گی کہ جب لاہور میں قید تنظیم کے قائد سعد حسین رضوی کو رہا کر کے جلوس میں نہیں لایا جاتا اور اب وہی مذاکرات میں تنظیم کی نمائندگی کریں گے۔
تحریکِ لبیک کے لانگ مارچ کے شرکا ملک سے فرانسیسی سفیر کی بےدخلی کے معاہدے پر عملدرآمد اور تنظیم کے سربراہ سعد حسین رضوی کی رہائی کے مطالبات کر رہے ہیں۔تاہم سنیچر کو سعد رضوی کی نظر بندی کے معاملے پر وفاقی نظر ثانی بورڈ کا اجلاس بغیر کسی کارروائی کے ملتوی ہو گیا۔
اے ایف پی کے مطابق ہفتے کی شام تک ٹی ایل پی کے مارچ میں شرکا کی تعداد ہزاروں تک جا پہنچی۔ تاہم مارچ کے شرکا کی حتمی تعداد جاننا مشکل ہے۔ٹی ایل پی کا کہنا ہے کہ اس کے سات ہمدرد پولیس سے جھڑپوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔
گروپ نے ایک ٹویٹ میں کہا: ’ پولیس کی فائرنگ سے زخموں کی تاب نہ لا کر مزید دو افراد ہلاک ہو گئے، جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد سات ہو گئی۔‘
پارٹی عہدے داروں کے مطابق ہلاک شدگان کی لاشیں بھی مارچ کے ساتھ لے جائی جارہی ہیں جن کو فیض آباد سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا جائے گا۔ادھر پولیس ترجمان کے مطابق مارچ شرکا کے پتھراؤ سے دو پولیس اہلکار دم توڑ گئے جب کہ درجنوں زخمی ہیں لیکن ’پولیس ٹی ایل پی مارچ کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔‘
لاہور پولیس کے ترجمان رانا عارف نے ہفتے کو اے ایف پی کو بتایا کہ حکام ’ہجوم کے خلاف دفاعی آپریشن کر رہے ہیں۔۔۔۔ ہم ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے صرف شیلنگ کر رہے ہیں۔‘
تحریک لبیک کے ترجمان صدام حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اگر حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو بات ہوسکتی ہے ’باوجود اس کے کہ ہمارے پرامن کارکنوں پر تشدد کیا گیا اور شیلنگ کی جا رہی ہے، ہم ہر صورت فیض آباد پہنچیں گے۔‘

