ایم ایم ادیبکالملکھاری

بے گوروکفن جابر حکمران اور تاریخ کا سبق۔۔ ایم ایم ادیب

انسان کتنا سر کش ہے ،اس کے رب نے زمانے کی قسم کھا کر اس کے خسارے کا عندیہ دیا ہے ،یہ پھر بھی صالح اعمال والا تو کیا ،حق کا ساتھ دینے والا بھی نہیں بنتا،کوئی اور امّت ہوتی تو اب تک صفحہءہستی سے مٹ چکی ہوتی،رب نے اس پر عتاب نازل نہیں کیا ،یہ امّت سے قوم اور قوم سے ریوڑ بن گیا ،اس سے زیادہ پستی پر اُترا تو برادریوں میں بٹ گیا۔



اپنا اپنا کھیت چرتا ہے ،کسی کو پاس نہیں بھٹکنے دیتا ،آپ اپنے لئے عذاب پسند کرتا ہے ،آپ ہی صبح شام گریہ زاری اور نوحہ خوانی کرتا ہے ،اس کے لئے زباں بندی کے دستوربنائے جاتے ہیں ،پھر دستور بنانے والے خود مکافات عمل میں گِھر کر آہ و زاری کرتا ہے ،یہ پھر بھی سمجھتا نہیں ،اختیارات پر قدرت ہو تو بے جا استعمال ہی نہیں استحصال کرتا ہے ،عبرت پکڑنا اسے آتا ہی نہیں ۔اپنے وعدوں کو ایفاکرنا یکسر بھول جاتا ہے ،خود پسندی کے عارضے میں ،ہر ایک کو ہیچ سمجھتا ہے احساس زیاں کی محرومی میں غرق ،نہیں گردانتا کہ خسارے کی دلدل میں اتر رہاہوں ،ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہوگا،اپنے سے پیچھے والوں کا انجام نہیں دیکھتا۔



آمریت اس قوم کا نصیب ہے،اسی کی گود میں پنپتی اور پھلتی پھولتی ہے،،ایک آمرآیا احوال زیست سمجھتا تھا ،کچھ بھی نہ کیا ہو ترقی کا پہیہ تو چلتا چھوڑ گیا ،نئے شہر بسائے ڈیم تعمیر کئے،ٹیلی فون فیکٹری اور بہت کچھ،عوامی سیلاب کا سامنا نہ کیا، بہت با حمیت تھا ،پل بھر میں سب کچھ چھوڑ کر گھر کی اَور سدھایا،اتنا کچھ بنا گیا کہ اولاد آج بھی اس کا بویا کھا رہی ہے ۔ اس کے بعد جوآمر آیا اس نے پاک سر زمین کو اپنی داشتہ اکلیم اختر کی اقلیم بنا دیا ،رات دن مستیءصہبا کے سرور میں عشرت کدے میں اونگھتا رہتا ،کاروبار مملکت جنرل رانی چلاتی ،اسی کے زریں دور میں سقوط ڈھاکہ کا سانحہ رونما ہوا ،مگر لوگ کہتے ہیں کچھ قصوراس میں پہلے سول مارشل لاءایڈ منسٹریٹر کا بھی تھا،جس نے روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے پر عوام کے دلوں پر حکومت کی ،جس نے اپنے طبقے(جاگیرداروں) کے خلاف طبل جنگ بجایا،شومیءقسمت کہ رفتہ رفتہ اپنے آدرش سے ہٹتا چلا گیا،بڑے بول بولے اور جو اس کے روبرو بولا اس کے سامنے ” ڈیفنس آف پاکستان رولز“ کی دیوار کھڑی کر دی،اچھا یہ کیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا ،اپنی آخرت بنا گیا،مگر دنیا میں دی گئی سزا نے اسے دلوں میں زندہ رکھا ہوا ہے ۔

وہ جس نے اس کو لحد میں رکھ کر لحد کے منہ پہ چٹان رکھدی
وہ یاد رکھے کہ اس نے گونگی زمیں کے منہ میں زبان رکھدی
جس آمر نے اپنے محسن کا چہرہ کسی کو نہ دکھایا اور آسودہ خاک کردیا ،اس کا اپنا چہرہ تو کیا پورا وجود کوئی نہ دیکھ سکا،فعتبرویا الی لا بصار۔

پھر گیارہ برس تک اندھیرے کی حکومت رہی ،آمرِ مطلق جس نے واشنگٹن سے اپنے دفتر پاکستان یہ ٹیلی گرافک پیغام ارسال کیا کہ” قائد عوام “ کا پھانسی کے تختے تک پہنچانا یقینی بنایا جائے“اسی آمر کے بطن سے 18 جنوری1986 ءکو ایک اور مسلم لیگ نے جنم لیا ،سندھڑی کے ایک شریف النفس آدمی کہ جسے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے وزیر اعظم بنایا گیا تھا اسے نئی جماعت کے صدر کا عہدہ بھی تفویض کردیا گیا،اسی مسلم لیگ پر شب خون مار کر ن لیگ وجود میں آئی اور ن لیگ کے سربراہ وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچے ،ان کے دیگر کارناموں میں ایک یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے خلاف عوامی احتجاج روکنے کے لئے آزاد کشمیر سے پولیس منگوا کر تشدد کروایا،ایک شہید وزیر اعظم کی نہتی بیٹی کے لانگ مارچ کو روکنے کے لئے اٹک پُل پر دیوار چنوا دی،وہ نہتی لڑکی ملک کی منتخب وزیر اعظم بنی تو وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پروٹوکول تک نہ دیااور پھر اس نہتی لڑکی کو لہو کا کفن دیکر رزق خاک بنایا۔
قصہ مختصر سب نے اپنی اپنی باری لگائی،اداروں کو بدنام کیا ،ملک کو دیوالیہ کیا،اپنے اپنے کئے کی سزا جس جس کو مل رہی ہے وہ سب کے لئے عبرت نگاہ ہے ،مگر عبرت کوئی نہیں پکڑ رہا ،اب جو ایک سرکش خود کو پہاڑ تصور کرتا ہے ،اسے معلوم ہونا چاہیئے کہ دنیا کا سب سے بلند پہاڑ انسان نے سر کر رکھا ہے ،یہ تو خاک کا پتلا ہے،بلکہ کسی کی انگلیوں پر ناچتی پتلی، جسے دفعتاََ کوئی ایسا آ دبوچے گا کہ سانس تک لینے کی فرصت نہیں دیگا،یہ دنیا مکافاتِ عمل کی آماجگاہ ہے ۔ غلطیاں پوشیدہ نہیں رہتیں ،تاریخ بڑی ہی بے رحم شے کا نام ہے ،اس کے صفحات میں جابر حکمران عبرت کے لئے دفن ہیں،بے گورو کفن۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker