قمر رضا شہزادکالملکھاری

علی تنہا نے شاعری کیوں چھوڑی ؟ : خود نوشت ” گذر گیا جو زمانہ “ / قمر رضا شہزاد

ایک طرف تو لاہور اور اس کے گردونواح کی ادبی سرگرمیاں تھیں دوسری طرف میں ملتان میں اپنے دوستوں شاکر حسین شاکر اور رضی الدین رضی کے ساتھ مل کر ادبی زندگی گزار رہا تھا۔ ان دنوں ملتان کے سینئر لکھنے والوں میں عرش صدیقی، اسلم انصاری، ارشد ملتانی ، ڈاکٹر اسد اریب، اقبال ساغر صدیقی ، ڈاکٹر انوار احمد، اے بی اشرف، نجیب جمال ، عاصی کرنالی، حزیں صدیقی، پرواز جالندھری، ڈاکٹرمقصود زاہدی، فیاض تحسین، غلام حسین ساجد، شمیم حیدر ترمذ ی، انور زاہدی ، ماہ طلعت زاہدی، ڈاکٹر طاہر تونسوی، حسین سحر ، اقبال ارشد ، کیپٹن اختر جعفری ، ڈاکٹر محمد امین، انور جمال، حیدر گردیزی ، کرامت گردیزی، خالد سعید، منیر فاطمی، نوشابہ نرگس نمایاں تھے ۔ ملتان ادبی لحاظ سے تقریبا تین اہم ادبی حلقوں میں تقسیم تھا۔ ایک حلقہ زکریا یونیورسٹی کے اساتذہ اور ان کے احباب پر مشتمل تھا۔ جس کے سرخیل پرفیسر عرش صدیقی تھے جبکہ دوسرا حلقہ عاصی کرنالی، حسین سحر، اقبال ارشد اور ان کے دوستوں پر مشتمل تھا۔ تیسرا حلقہ کینٹ میں حزیں صدیقی ان کے احباب اور تلامذہ پر مشتمل تھا۔ اگرچہ ان تینوں حلقوں میں بظاہر کوئی اختلاف بھی نہیں تھا۔ لیکن اندرون خانہ یہ ایک دوسرے کو قبول بھی نہیں کرتے تھے۔ اس کے علاوہ عیش فیروزپوری کے تلامذہ ممتاز العیشی اور مذاق العیشی بھی بزم عیش کے زیر اہتمام ادبی سر گرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے ۔ اردو اکیڈیمی ملتان کی سب سے فعال ادبی تنظیم تھی۔ جس کا باقاعدگی سے ہر جمعہ کو تنقیدی اجلاس منعقد ہوتا تھا۔ بلاشبہ یہاں پیش کئے جانے والی تخلیقات اور ان پر ہونے والی تنقید کسی طور بھی حلقہ ارباب ذوق لاہور سے کم نہیں تھی۔ ان دنوں یہاں ادیبوں اور شاعروں کے بیٹھنے کی جگہ بابا ہوٹل نواں شہر تھا۔ یہاں مستقل بیٹھنے والوں میں حیدر گردیزی ، ارشد ملتانی ، اقبال ارشد ، پروفیسر محمد امین ، انور جمال اور سلمان غنی تھے۔ گردونواح سے آنے والے ادیب و شاعر اکثر اوقات بابا ہوٹل میں آتے تھے جن کی میزبانی عموماً حیدر گردیزی کرتے تھے۔



شاکر حسین شاکر اور رضی کی وجہ سےزیادہ تر میری قربت حسین سحر اور اقبال ارشد سے تھی۔ اس کے علاو ہ اپنے ترقی پسندانہ نظریات کی وجہ سے میں ڈاکٹر انوار احمد کی محبت میں مبتلا تھا۔ اسی طرح فیاض تحسین سے میری محبتوں کا سلسلہ اس لئے بھی تھا کہ وہ کبیروالہ تعینات رہے جہاں ان کی شخصیت اور شاعری نے مجھے متاثر کیا۔ شاکر اور رضی نے الثنا ہوٹل میں میرے پہلے شعری مجموعے پیاس بھرا مشکیزہ کی تعارفی تقریب منعقد کی تو اس کی صدارت پروفیسر عرش صدیقی نے کی جبکہ مضامین پڑھنے والوں میں فیاض تحسین ، غلام حسین ساجد ، حسین سحر ، علی تنہا ۔ رضی الدین رضی اور اظہر سلیم مجوکہ شامل تھے۔ اس تقریب میں ملتان کے نمائندہ ادیبوں اور شاعروں کی اکثریت نے شرکت کی تھی۔
ان دنوں ریڈیو پاکستان ملتان بھی ادبی سرگرمیوں کا گڑھ تھا۔ علی تنہا اور کیپٹن اختر جعفری جیسے تخلیق کار یہاں سینئر پروڈیوسر تھے۔ علی تنہا ادبی پروگرام کے انچارج بھی تھے ۔ ان سے میرے گہرے تعلق کی ایک وجہ تو ان کا خانیوال کا ہونا بھی تھا۔ لہٰذہ وہ گاہے بگاہے مجھے ادبی پروگرامز میں مدعو کرتے رہتے تھے۔ ملکی سطح پر بہت عمدہ علامتی افسا نہ لکھنے والوں میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ بہت سادہ طبعیت کے مالک ہیں ۔ ایک مرتبہ مجھے کہنے لگے میں بھی شاعری کرتا تھا۔ میں نے ایک روز اپنی غزلیں رام ریاض کو سنائیں تو وہ کہنے لگے علی تنہا افسانہ لکھا کرو لہذا میں نے شاعری چھوڑ کر افسانہ لکھنا شروع کردیا۔ اور آج تک افسانے لکھ رہا ہوں ۔ میں نے انہیں جواب دیا اس کا مطلب ہے شاہ صاحب آپ نے اپنا کوئی افسانہ رام ریاض کو نہیں سنایا۔ فوری طور پر انہوں نے کہا ۔۔ جی ہاں ۔ لیکن چند لمحوں کے بعد انہیں میری بات کی سمجھ آئی تو قہقہہ لگا کر کہنے لگے ۔تو بہوں شیطان ایں۔۔۔۔،( تم بڑے شیطان ہو)



علی تنہا انتہائی معصوم اور بھلکڑ تھے ملتان میں ریڈیو پاکستان کے نزدیک کرائے کے ایک گھر میں اکیلے مقیم تھے۔ ایک مرتبہ ریڈیو پاکستان سے ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد پیدل اپنے گھر جارہے تھے راستے میں کنوؤں کی ریڑھی سے ایک کلو کنو خریدے اور گھر چلے گئے۔ گھر جاکر غسل کیا اور پھر کنو کھانے کے لئے کنوؤ ں کا لفافہ تلاش کرنے لگے۔ کافی تلاش و بسیار کے بعد انہیں لفافہ کہیں نہیں ملا۔ وہ بہت حیران اور پریشان ہوئے ۔ خیر اگلے روز وہ اس کنوؤں والے کے پاس پہنچے اور کنوں نہ ملنے کا تذکرہ کیا۔ ریڑھی والا کہنے لگا شاہ صاحب تساں ای کمال کیتا۔ اپنے کنوؤں دا لفافہ اتھائیں چھوڑ گئے تے میرے نمک دا لفافہ گھن گئے۔(شاہ صاحب آپ نے بھی کمال کیا اپنے کنوؤں کا لفافہ یہاں چھوڑ گئے اور میرا نمک کا لفافہ لے گئے)
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker