ایم ایم ادیبکالملکھاری

حکومتی رویئے اور اپوزیشن کا اصل کردار!۔۔ایم ایم ادیب

حقائق کی تلخیوں سے چراغ پا ہوکر امور مملکت چلانے والے حکمران کبھی سیدھے راستے پر نہیں چل سکتے ،حکمرانی ٹھنڈے دل و دماغ سے کام کرنے کا نام ہے ،جو اس اصول کو بالائے طاق رکھ دے وہ نہ اچھا حکمران ہو سکتا ہے نہ معتبر سیاستدان ہم ایک مدت سے اسی کربناک المیئے کا شکار ہیں ،حاکم وسعت ِقلب سے محروم ہیں اور وہ لوگ جو انہیں امور مملکت چلانے کے داؤ پیچ سکھاتے ہیں ،جو حکمرانی کی اجتماعی نفسیات سے آگاہ ہیں ،ان کا عالم یہ ہے کہ اپنی اپنی منفعت کے دائرے میں رہ کر کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔یہی بات ہے کہ باہر کا ماحول بد سے بدتر ہوتا چلا جارہا ہے ۔شخصی وقار کی کسی کو پروا ہ نہیں رہی ،فیصلے حکومت کرے یا اپوزیشن دونوں کے صائب ہونے میں بہت ساری گنجائشیں رہ جانے کا احساس صریحاََ عیاں ہوتا ہے ۔مگر کوئی اس پر غور کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتا ،نتیجہ سب کے سامنے ہوتا ہے ،جو کبھی ملک و قوم کے لئے سود مند نہیں ہوتا ۔
20ستمبر کوکو آل پارٹیز کانفرنس کے اہتمام کا غوغاکیا جارہا ہے ،اس کے متحرک ترین رہنما مولانا فضل الرحمن ہیں ،جن کافرماناہے کہ ” اے پی سی کا مقصد حکومت سے عوام کو نجات دلانا ہے “۔اس میں حکومت گرانے کے علاوہ قومی بھلائی اور ملک میں امن و سلامتی کا ایجنڈا کس قدر ہے اس کا کوئی ذکر نہیں۔کیا اپوزیشن کا کردار یہی ہوتا ہے کہ وہ اسمبلیوں میں آتے ہی حکومت کے گھٹنے ٹکوانے کے ایجنڈے پر کام شروع کردے مارشل لاءہوکہ جمہوری دورِ حکومت ،ہمارے سیاستدان ہمیشہ اے پی سی کا بازار گرم کرنے کی کاوشیں کرتے آئے ہیں ،مگر ان کا مقصد فقط اپنے اقتدار کی راہ ہموار کرنا ہو تا ہے ۔کبھی ایسے نہیں ہوا کہ خواندگی پراے پی سی کا اہتمام کیا گیا ہو،کبھی ایسے نہیں ہوا مہنگائی کے عفریت پر قابو پانے کے لئے اے پی سی کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہو،بے روزگار ی کے سیلاب کو روکنے کے اقدام پر کبھی اے پی سی نہیں بلائی گئی،جو مشترکہ تجاویز کا ایجنڈا حکومت کے سامنے رکھے۔غربت وافلاس قوم کا ایک بڑا مسئلہ ہے اس پر بھر پور توجہ دلانے کیلئے حکومت پر دباؤڈڈالنے کے لئے کبھی اے پی سی بلانے کا خیال اپوزیشن کے دل میں نہیں آیا۔
یہ خیال ایوان اقتدار میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے اور ایوان اقتدار سے باہر اپنی ناکامیوں پر ماتم کناں سیاسی رہنماؤں کو تنگ کرتا رہتا ہے کہ کسی طرح حکومت کا دھڑن تختہ کرکے اقتدار پر دسترس حاصل کر لی جائے ۔اس سے آگے سوچنے اورکرنے کے امکانات کے سب دروازے بند کر لئے جاتے ہیں اور یہ فقط ہماری سیاسی تاریخ کی روایت ہے اور کسی جمہوری ملک میں ایسی روایت خال خال ہی ملتی ہے ۔
ہمارے یہاں کا سیاسی کارکن بھی اتنا باشعور نہیں کہ اپنے پارٹی رہنماؤں کو اس ڈگر پر چلا سکے کہ وہ سیاست کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل کو بھی حرز جاں بنائیں ،سیاست اور سماجی عمل کا چولی دامن کا ساتھ ہے ہر دو میں ربط باہم ہو تو بہتری کے اسباب پیدا ہو سکتے ہیں بصورت دیگر ایک قسم کی سیاسی اور معاشرتی انارکی تہذیبی عمل میں بھی رکاوٹیں پیدا کر دیتی ہے ۔ہمارا معاشرہ جو پہلے ہی اقدارو روایات کی ایسی تصویر کا روپ دھار چکا ہے جس کی محبت واخوت ،ہمدردی وبھائی چارے کی لکیریں مٹ چکی ہیں ،اس لحاظ سے پڑھے لکھے سیاسی کارکنوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے کہ وہ اپنی اپنی سیاسی جماعت کے رہنماؤں کواس تہذیبی زوال کا احسا س دلائیں اور سیاسی قیادتوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے کردارکا بغور جائزہ لیں ۔
اس وقت حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں اپنے اصل کردار سے روگردانی کی راہ پر چل رہی ہیں ،حکومت عوامی مسائل سے ہٹ کر انتقامی کارروائیوں میں مصروف ہے تو اپوزیشن بھی عوام کے حقوق کے لئے ،ان کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ۔مقتدر جماعت اپنے اقتدار کی کرسی کے پائے مضبوط کرنے پر لگی ہے تو اپوزیشن جماعتیں اپنے اقتدار کی راہ ہموار کرنے کے کام میں جُتی ہیں ۔غریب ،غریب تر ہوتا جا رہا ہے ۔دولت چند خاندانوں تک محدودہونے کے رجحانات فروتر ہورہے ہیں ۔عام آدمی کا زندہ رہنا مشکل ہوتا جارہا ہے ،خصوصاََ وہ تنخواہ دار طبقہ جو رشوت وبدعنوانی کو خود پر حرام سمجھتا ہے وہ بدحالی کی لپیٹ میں آتا چلاجارہاہے اس کے بچے تعلیم جیسی سہولتوں سے بھی محروم ہوتے جارہے ہیں ۔مگر حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں سیاست ،سیاست کھیل رہے ہیں ۔ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں کو ووٹر کی مجروح ہوتی عزت نفس کا ذرہ برابر احساس نہیں ۔حکومت تو بیگانگیت کی راہ پر چل ہی رہی ہے، اپوزیشن ہی کو اپنے اصل کردار کا گیان کر لینا چاہئے۔۔!

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker