ادبلکھاریماہ طلعت زاہدی

ٹیگور ، خدائے واحد کے روبرو( 2 ) ۔۔ماہ طلعت زاہدی

( گزشتہ سے پیوستہ )
ایک دھرتی ہے جنگلوں، چشموں ، دریاﺅں،سمندروں ، موتیوں ، پھولوں سے بھری ہوئی۔ ایک آسمان ہے بادلوں ، بجلیوں ، طوفانوں ، کرنوں ،ستاروں ، اندھیروں ،چاند اور سورج سے جگمگاتا ہوا َ نوع بہ نوع رنگ بدلتاہوا۔ ایک فضائے طلسمی ہے۔ جس میں صبح کا سنہری اجالا ، شام کا نارنجی اندھیرا ،گھاس کا سبز دریا ، شہد کی مکھیوں کا گنگنانا ، بہار کے جھونکوں کا معطر معطر ڈولتے پھرنا، حجلہءشاعر کی امید بھرے گیتوں سے ساز اور آواز سے گونجتی ، بھری بھری خاموشی ، خواب اور خیال کی لہریں اور ان پر بہتی ہوئی احساسِ وجود کی ناﺅ ،ہر پل انسان کی تخلیق کی اہمیت پیشِ نظر ،ہر لمحہ خالقِ کائنات کا دھیان ، گیان کا دھواں ،فکر کا چراغ ،عشق کی لَو ، لگن کی لے ، مستی اور محویت،سرشاری اور سرمستی کی پھواریں وجودِ شاعر کا گمشدگی میں رہنا اور دریافت کے عمل میں بارِ وجود کو سہنا۔ ”گیتان جلی“ ایسی ہی سنہری ، دھندلی ،کہرے میں ڈوبی ، کرنوں میں جھلملاتی ، بارش میں بھیگتی ، سمندروںسے نہا کر نکلتی ،سبزے پر لوٹتی ، پھولوں میں مہکتی ، اندھیرے میں چراغوں کا سراغ لگاتی ، رات کوسویرے سے بدلتی اور سویرے کو شاندار ، جینے کے قابل بناتی ایک بھید بھری دنیا کا نام ہے۔
Rabindranath Tagore
شاعر نے اس کتاب شعر میں ایک معصوم بچے کی طرح خود کو دنیاوی آلودگیوں اور آلائشوں سے ارادتاً بھی پاک رکھا ہے اور شاعر کی ذات کو ایسا ہی ہونا چاہیے ، یہ بھی ثابت کیا ہے۔ اردگرد کے سینکڑوں دکھ درد کیا دلِ شاعر میں تلاطم نہیں پیدا کرتے؟ کیا غربت ، اور وہ بھی بنگال کی غربت ، شاعر کی توجہ کو ڈانواڈول نہیں کرتی؟ کیا موسموں کی سختیاں جس طرح وجودِ انسانی پر ستم توڑتی ہیں ، ان سے شاعر آشنا نہیں ؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اتنے مبحر عالم، ایسے معتبر عاشقِ فطرت ، ایسے صادق ماہرِ کلام کو اتنا بے حس اور بے نیاز جان لیں۔ مگر شاعر نے ایک نئی دنیا خلق کر کے، محض فطرت اور خالقِ فطرت کا ہاتھ پکڑ کے خود کو (ہمیں بھی) یہ بتایا ہے کہ زمین و آسمان کا بے پناہ حسن اور انسان کو اسی عالمِ حسن میں خلق کیے جانے کا کوئی ایسا مقصد ضرور ہے جسے جاننا چاہیے۔ اول تو یہ کہ جب حُسن سے دل کو موہ لیا تو خلاقِ حسن کے آگے تمام تر عاجزی سے جبینِ عشق ٹیک دینی چاہیے۔ دوسرے یہ کہ جب ایک مرتبہ خود کو خالق و مالک کے سپرد کردیا تو پھر ہر قسم کے خوف مصیبت کا خیال دل سے نکال دینا چاہیے۔ ٹیگور کا زبردست ایمان ہے کہ جس قوت نے ہمیں اس دنیا میں سانس دیے ہیں ، وہی ہمارا رکھوالا ہے۔ ٹیگور کا یقین کامل یقین ہے کہ جو خدا ہمیں طوفانی رات میں دیکھ رہا ہے وہی صبح دم ہمارے دریچے پر اپنی محبت کا پھول بھی رکھے گا۔ ٹیگور کو معلوم ہے کہ ہم خدا کی توجہ کے طالب نہیں ہیں، بلکہ خود خدا ہماری محبت اور نظرِ التفات کا طلبگار ہے۔ خدا کو بھی ایک ایسے پاک باطن ، بے غرض بے لوث وجود کی ضرورت ہے جو اس کی بنائی ہوئی حسین و جمیل ،نادر و نایاب تصویرِ کائنات پر تحسین بھری نظریں ڈالے اور اس کی تعریف و توصیف ہر صلے سے بے نیاز ہو کر کرے۔ یہاں تک کہ ایک نظم میں شاعر خود کو غریب بھکاری کے روپ میں دیکھتا ہے جس کے سامنے خدا کا شاندار رتھ آکر رکتا ہے۔ بھکاری خوش ہے کہ آج نصیب جاگ گئے۔ آج کائنات کا خالق اس کی جھولی بھردے گا۔ مگر حیران کن موڑ وہ ہے کہ جب خدا نے خود بھکاری کے سامنے ہاتھ پھیلا دیے کہ تُو مجھے کیا دے گا؟ پتہ چلا کہ ٹیگور انسان کو اس عظیم الشان درجے پر فائز دیکھنا چاہتے ہیں جہاں انسان بجائے خدا سے مانگنے کے ، خدا کو دینے پر قادر ہوسکے۔ تبھی تخلیقِ انسان کا منشا پورا ہوگا اور ظاہر ہے کہ یہ آسان عمل نہیں۔ یہ عمل تو تطہیرِ ذات ، اقرارِ نعمت ، سپردگی اور شکرِ عظیم کا عمل ہے۔
خدا کو ٹیگور نے طرح طرح کے روپ بدل کر چاہا ہے۔ کہیں بہ حیثیت شاعر ، کہیں دوست کی طرح ، کبھی عورت کے روپ میں ¾ کبھی بہادر سپاہی کی حیثیت سے،کبھی ایک معصوم بچے کی صورت میں ، کسی جگہ پجاری کے انداز میں ، کہیں فطرت کے عاشق کے حوالے سے ، کہیں غریب سڑک کوٹنے والے مزدوروں کے تیور میں ، کہیں دنیا میں آغازِ سفر سے دوچار ہونے والے مسافر اور کہیں سفر کے اختتام پر سہمے ہوئے دل سے۔ مگر کوئی راہ اور کوئی موڑ ایسا نہیں جہاں شاعر خدا سے بچھڑ گیا ہو۔ واقعی اگر خدا کو رگِ جاں کے قریب محسوس کرنا ہو تو ”گیتان جلی“ کو کھول لیا جائے۔ خدا ہمارے سانسوں ، ہماری باتوں ، ہماری آنکھوں،منظروں ، موسموں، تہواروں ، ہمارے سفر اور منزلوں، ہمارے گھر اور بیابانوں ، ہمارے یقین اور وسوسوں ، ہماری خوشی اور غموں ، کہاں پر نہیں۔ ہر جگہ، ہر دہلیز ، ہر دریچے ہر معبد ، ہر تخلیے ،ہر محفل ، ہر ہنگامے ، ہر سرگوشی ، ہر نغمے ، ہر آہ ، ہر قہقہے میں چپکے سے ہمارے قریب آجاتا ہے۔ وہ جیسے خود ہمارا ہی ہونا ، ہوجاتا ہے۔ وہ ہماری ابتدا اور انتہا میں کھو جاتا ہے۔ ہم ایک پِراسرار طلسماتی ، دیومالائی فضا میں خود کو محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ”گیتان جلی“ کی شاعری میں ، اگر ہم بچے ہیں تو ہم ساحل پر سیپیوں اور ٹوٹے پھوٹے گھونگوں اور ریت کے گھروندوں میں سکون محسوس کررہے ہیں۔ اس بات سے بے نیاز ہو کر کہ ساحل پر بحری جہازوں والے خزانوں کے کاروبارِ تجارت میں مصروف ہیں۔ ہمارا خدا تو ہمارے ریت کے گھروندے میں ہمیں سرشاری بخش رہا ہے۔ اگر ہم عورت ہیں تو عاشق بن کر سارا دن مندر کی سیڑھیوں پر آرتی کا تھال لیے کھڑے ہیں۔ کیا جانے وہ کب اور کہاں سے آجائے اور ہماری آرتی کو قبول کرلے؟ اگر ہم شاعر ہیں تو گیت اس لیے لکھ رہے ہیں کہ ہماری آواز اس کے گوش پر اپنے ہونے کا اعزاز پائے کہ آخر اسی نے تو ہمیں نوا بلند کرنے کی اجازت دی ہے۔ اگر ہم موسیقار ہیں تو اپنی دھنوں میں اس کے ہونے کو محسوس کررہے ہیں اور لے کی لذت اور نغمے کے نور کا انتساب اس کے نام کر رہے ہیں ،جو خود سب سے بڑا موسیقار ہے۔ جس کی موسیقی سے کائنات آہنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔ پتے ،شاخیں ،بوندیں ، ساون کی ہوائیں ، بادلوں کی گرج ، ستاروں کی جھلملاہٹ مستقل ایک نغمہ ءنور کا نشان ہیں۔ اگر ہم سپاہی ہیں تو خدا ہمارا بادشاہ ہے۔ ہم بے ہتھیار بھی اسی کے لیے لڑیں گے اور جان اس کے قدموں میں اس کے لیے رکھ دیں گے۔ فطرت کا عشق اگر ہمیں ودیعت کیا گیا ہے پھر خالقِ فطرت سے کیسی دوری؟ لوگ ، یار دوست انجانی زمینوں کے سفر پر ، عبادات اور ریاضتوں کے عمل پر نکلیں گے۔ ہم محض چشمے کے کنارے دھوپ میں درخت کو سائبان اور گھاس کو بچھونا بنا کر لیٹ جائیں گے۔ نیند کے ایک ہی جھکولے میں ہم دیکھیں گے کہ ہمارا خدا ہمارے قریب کھڑا ہے اور جب ہم دنیا سے جارہے ہوں گے۔ دل دہشت اور وحشت سے پھٹا جاتا ہوگا تب بھی ہم مایوس اور ناامید نہیں ہوں گے۔ کیونکہ ہمیں علم ہے کہ جب ہم دنیا میں آئے تھے تو تنہا تھے مگر خدا کی ذات ہم سے ماں کے پیکر میں ملی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ سفر کے خاتمے پر خدا ہمیں تنہا چھوڑ دے۔ وہاں وہ کسی اور مانوس پیکر میں ہم کو دوبارہ سہارا دے گا۔ براہِ راست ”گیتان جلی“ کی شاعری سے کچھ مثالیں پیش کیے بغیر بات پوری نہیں ہوگی۔ رابندر ناتھ ٹیگور کی چند نظموں کے ٹکڑے پیشِ نظر ہیں۔ ”ایسا لگتا ہے ، حیات و کائنات، ہستی اور ماورائے ہستی کا مقصد یہ ہے کہ تارک نہ بنا جائے۔ آزادی کی روح مسرت کے ہزار بندھنوں ہی میں ہے۔“۔
”اے خدا تُو میرا سورج ہے اور میں خزاں کا ایک آوارہ بادل جو ابھی تیری حدت سے پگھلا نہیں اور تیرے نور نے ابھی مجھے نگلا نہیں۔ میں ابھی تقویمِ ماہ وسال میں ہوں۔ تجھ سے کٹا ہوا ، دور سے تجھے دیکھ رہا ہوں۔“
”اگر میری جائے قیام پر ضیافتیں منعقد ہوں۔ شادیانے بجتے ہوں، جام چل رہے ہوں قیمتی قالین اور غالیچے بچھے ہوں،رقص و سرور کی محفل گرم ہو۔ تب بھی مجھے ایک بے کلی ستاتی رہے۔ میں یہ نہ بھولوں کہ تُو اس دعوت میں شامل نہیں۔“
”دنیا میں اتنی مکروہ اشیاءاور آلائشیں ہیں۔ مگر میں کوشش کروں گا کہ ان سب سے اپنے دل کے دامن کو بچاؤں تاکہ میں فقط تیری بے کنار زندگی اور بیکراں مسرت سے اپنے ہر تارِ نفس اور ہر پورِ بدن کو آسودہ رکھ سکوں۔“
”میری میٹھی پیاری نیند صرف اس کی آواز کی منتظر ہے۔ اس کی ہلکی سی آہٹ بھی میری آنکھوں کو کھول دے گی۔ اس کی مدھر مسکراہٹ کے نور سے نیند شراب بن جائے گی۔ میری روح کی پہلی مسرت اسی شراب ٹپکاتی آنکھ کی زیارت ہو اور یوں میں فوراً اس کی طرف لوٹ چلوں۔“
”فطرت گویا تیرا لہجہ ہے۔ جو ناموافق حالات و حادثات (کہ پتھر کی طرح ہیں) کاسینہ چیر کر چشمے کی صورت میں جاری ہوتا ہے۔ آہ!کاش مجھے بھی یہ قدرت حاصل ہوتی۔“
”میں ہی خوش نہیں ہوتا۔ میری یہ شعر گوئی یقیناً تجھے بھی مسرت دیتی ہے۔ ورنہ تو مجھے اس تحفے سے نوازتا ہی کیوں اور جب میرا نغمہ فرشتوں کی آماجگاہ کو چُھونے لگتا ہے۔ اُس لمحے ، میں بھول جاتا ہوں کہ تُو میرا خالق و مالک ہے۔ میں بے خودی میں تجھے اپنا دوست کہہ بیٹھتا ہوں۔ یہ نغمے کی جادوگری ہے کہ میں تیری برابری کر بیٹھتا ہوں۔“
”جب شکستہ دل غموں کے بوجھ سے دبا ہوا ، مسائل سے دُکھا ہوا ، دنیا سے منہ موڑ لے ،چپ ہو کر رہ جائے تو اے مالکِ کون و مکاں! تُو وقار کے ساتھ میرے دل کے دروازے ، کھڑکیاں توڑ کر اندر آ….“
”جب اعمال سے حسُن روپوش ہونے لگے تو اے پروردگار! تُو رنگ بن کر سامنے آنغمہ بن کر فضاؤں میں گونج ، خوشبو بن کر ہواؤں میں بکھر اور غم کے زہر کو شہد اور آبِ حیات میں بدل دے!“
”جب لالچ اور خواہشوں کی منہ زوری دل اور دماغ کو اندھا کردے تو ایسے میں اے بیدار مغز بادشاہ! تُو سکونِ دل اور بصیرت نظر کے لیے بادلوں کے تاشے بجا اور بجلیوں کے دیے جلا۔ زمین پر آ اور میرے دل کی عمارت کو بچا!“
”اے مالک! اے خالق! تُو خود ہی ستاروں بھرا آسمان ہے اور خود ہی مکاں۔ تُو خود ہی رنگ اور نغمے سے سجا محبوب ہے۔ یہ مکان کہ حجلہءعروسی ہے جس میں روح کا پاک پرندہ تیرے عشق کا شکار ہے۔“
”میری راتیں کیوں ضائع ہورہی ہیں۔ آہ میں اسے کیوں نہیں پاتا ، جس کی مہکتی ہوئی سانسیں روز میری نیند سے چھُو جاتی ہیں۔“
”روشنی خود کوئی چیز نہیں۔ یہ تو تیرے شوق کی آگ ہے جس سے نور پیدا ہوتا ہے۔“
”اے میرے دل! تُو غم کو برداشت کرنا سیکھ ، تاکہ تیرا وقت اندھیرے سے بچ رہے۔ جتنی بھی حیات ہے اسے محبت کے دیے کا تیل بنالے۔ حیات کا اس سے بہتر مصرف کوئی نہیں۔“
”اے میرے پیدا کرنے والے ، کاش میرے دل میں ہمیشہ یہ احساس زندہ رہے کہ اصل میں تُو ہی میری زندگی کا مقصد ہے۔ یہ رات دن ، روزگار کے مسائل ، زمانے کی راحتیں ، سب کے سب جھوٹ،سراب اور پوشیدہ نگار خانوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ، اگر تیری جستجو اور تجھ سے ملن کی آرزو نہ ہو۔“
جب میں تھک جاﺅں تو اے مالک مجھے غم اور نقصان سے بے نیاز بنا دے اور تھکن میں سکون کی نیند سلادے۔ ایسی روح جو پریشان اور لاچار ہو اس سے بے مقصد عبادت نہ کروا بغیر مستی کے عبادت سزا ہے۔“
”پھولوں بھرے شہر میں شہد کی مکھیاں گنگناتی ہیں۔ میرے دریچے پر بہار دستک دے رہی ہے ، ہنسی اور فریاد کا گیت لیے۔ میرے شوق اور لگن کا تقاضہ ہے کہ عالمِ مدہوشی میں ، میں تیرے سامنے بیٹھ جاؤں اور تیرے حسن کے اعتراف میں اس قیمتی وقت کو صرف کردوں۔“
”مصیبتوں اور دکھوں میں اس کے نقشِ قدم دل کو چُھو لیتے ہیں۔ غم کو سرور سے بدل دیتے ہیں اس کے قدم کا سنہرا لمس میری سرشاری کو اور بھی بڑھا دیتا ہے۔“
”تُو انجانے ، اَن دیکھے زمانوں سے میرے قریب آتا جارہا ہے ، شاید وصال کے لیے۔“
”شروع ہی سے میرے خواب میرے رَت جگے ، آرزوئیں امیدیں، سب ایک انجانے رستے پر کسی خوش رنگ ندی کی صورت تیری ہی سمت بہتے رہے ہیں۔“
”تیری تلاش میں ایک جہان کو دیکھا اور اسی تماشے سے یہ بصیرت ملی جو آج میرے گیتوں کی بہار بن گئی ہے۔“
یہی گیتوں کی بہار یعنی ”گیتان جلی“ آج ہماری شاعری کے چمن کو ایک عجیب و غریب لطیف احساس سے مہکا رہی ہے۔ ٹیگور نے خدا کا ایسا تصور دیا ہے جو انسان کا دوست ¾ محبوب بن کر اس کی طاقت بن جاتا ہے۔ ٹیگور کا خدا وہ نہیں جو اپنے قہر و غضب سے آتشِ دوزخ سے اور عتاب و عذاب سے ڈراتا اور انسان کو اپنے سے دور کردیتا ہے۔ ٹیگور کا خدا تو دلہن کا محبوب مالک ، شاعر کا مرکزِ نگاہ ، عاشق کے دل بیقرار کی دھڑکن، فطرت کا حسین و جمیل مظہر ، بچے کے لیے ماں کی آغوش ، پرندے کے لیے گھونسلے کا چین اور انسان کے لیے سفر کا عزم اور منزل کی لگن بن کر سامنے آتا ہے۔ ایسے خدا سے پیار ہوجانا باعثِ سعادت ہے اور ٹیگور نے ایسے ہی خدا کو اپنی شاعری میں خود خلق کیا اور خود ہی اس کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا۔

بشکریہ :ماہ نو

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker