کالملکھاریمحمود شام

ٹائیگر فورس نہیں بلدیاتی ادارے فعال کریں۔۔محمود شام

آج اتوار ہے۔ اپنی اولادوں سے تبادلۂ خیال کا دن۔مگر میں اس وقت بڑھتی ہوئی مہنگائی سے خوف زدہ ہوں۔ میں تو پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں ہوں۔ ہر چیز میسر ہے۔ لیکن میری ٹھیک ٹھاک آمدنی بھی بنیادی ضرورت کی اشیا کے سامنے عجز کا شکار ہے۔ میرے ذہن میں نوشکی کے محنت کش خاندان آبیٹھتے ہیں۔ کالا ڈھاکے کے ہم وطن میرے دل کا دروازہ کھٹکھٹانے لگتے ہیں۔ روجھان کا ایک عام پاکستانی مجھے جھنجھوڑ رہا ہے۔ کرم پور کا دکاندار مجھے آواز دے رہا ہے۔ کوٹ رادھا کشن کی ماں کے چہرے کی جھریاں میرا سلسلۂ تفکر توڑ دیتی ہیں۔ ان کی قوت خرید کم ہوتی جارہی ہے۔ بچے دودھ سے محروم ہیں۔ نوجوانوں کو ان کی بھوک کے برابر روٹی نہیں مل رہی ہے۔ میں تو اپنے آپ سے لڑ رہا ہوں کہ اس پچاس ساٹھ سالہ صحافت سے میں عوام کی زندگی میں کوئی آسانی نہ لاسکا۔ فراق کے شعر میں تصرف کرکے اپنے آپ پر ملامت کررہا ہوں:
ہم سے کیا ہوسکا’’صحافت‘‘ میں
تم نے تو خیر’’ ٹاک شوز‘‘ کیے
میں تو ماہر اقتصادیات نہیں ہوں ۔ میرے کچھ جاننے والے اسلام آباد کے اونچے محلوں میں بیٹھے ہیں۔حفیظ شیخ جن سے غریب ملک لاؤس کے دارُالحکومت وینیثیاں میں بات ہوتی رہی۔ ڈاکٹر عشرت حسین بڑی امیدیں دلاتے رہے ہیں۔ غالب شناس وقار مسعود صاحب ابھی ابھی عمران ٹیم کے ساتھ اسٹیڈیم میں اترے ہیں۔ یہ لوگ بتاسکتے ہیں کہ کیا کھانے پینے کی بنیادی چیزوں کی آسمان چومتی قیمتیں ہماری 90فیصد آبادی کی آمدنی کے دائرے میں آتی ہیں۔ دنیا بھر میں قیمتوں پر کنٹرول کے اب تک جو فارمولے تجربہ کیے گئے ہیں۔ کیا یہاں دالبندین۔ دادو۔ کمالیہ۔ کوہاٹ۔ میرپور آزاد کشمیر۔ گلگت میں کارگر ہورہے ہیں۔ یہ جو دوائیں مہنگی کرکے ان کی دستیابی ممکن کرنے کی بقراطی کوشش ہے وہ یہاں کے غریب اکثریتی مریضوں کے لیے قابل عمل ہے۔
جناب وزیر اعظم امراء رؤسا کو این آر او نہ دینے پر مصر رہیں۔ مگر غریبوں کی اکثریت کی زندگی آسان بنانے کے لیے تو کوئی قدم اٹھائیں۔ ہر روز بڑھتی مہنگائی مزید لاکھوں پاکستانیوں کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیتی ہے۔ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے سے سب سے زیادہ متاثر غریب ہوتے ہیں۔ ان کے لیے احساس اور بے نظیر انکم سپورٹ جیسے پروگرام عالمی بینک کے تعاون سے شروع کیے جاتے ہیں۔ مگر یہ یقین نہیں ہوتا کہ اس نقد فراہمی سے مستحق غریب ہی مستفید ہورہے ہیں یا ان کے شناختی کارڈ اکٹھے کرکے مافیاز اور ارکان اسمبلی فائدہ اٹھارہے ہیں۔
بعض ماہرین ہمیں کہتے ہیں کہ چیزوں کی قیمتیں نہیں بڑھ رہی ہیں۔ بلکہ ہمارے روپے کی قدر گر رہی ہے تو وہ بے چاری اکثریت جس کے پاس یہ کمزور اور بے سہارا پاکستانی روپیہ بھی بہت کم مقدار میں ہے وہ تو اپنی محدود آمدنی سے اپنی کم سے کم ضروریات بھی پوری نہیں کر پارہی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے بیانات آتے ہیں۔ لیکن 90فیصد پاکستانیوں کی مشکلات آسان کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ وفاقی حکمران پارٹی کی صوبائی حکومتوں میں بھی یہی حال ہے۔ اور اپوزیشن پی پی پی کی حکمرانی کے صوبے میں تو اور زیادہ مہنگائی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے نزدیک مہنگائی قابل توجہ مسئلہ نہیں ہے۔ صرف فوج نے اپنی چھاؤنیوں میں ایسے اسٹور بنائے ہیں جہاں فوجی افسروں اور سپاہیوں کو چیزیں مقررہ قیمتوں پر مل جاتی ہیں۔
پاکستان میں مختلف حکومتوں نے قیمتوں پر قابو پانے کے لیے پہلے راشن کارڈ کا نظام قائم کیا۔ پھر یوٹیلٹی اسٹورز کھولے۔ ایک تجربہ سستے بازاروں کا کیا گیا۔ جمعہ بازار۔ اتوار بازار۔ منگل بازار۔ بدھ بازار۔ مگر یہ سب مفاد پرستی کی وجہ سے ناکام ہوگئے۔ یہاں بھی منافع خور مافیاز حکمران طبقے کی مدد سے گھس آئیں ۔
بعض ماہرین معیشت کہتے ہیں کہ قیمتوں پر کنٹرول صائب اقتصادی راستہ نہیں ہے۔ اصل فارمولا تنخواہوں اور قیمتوں پر بیک وقت کنٹرول ہے۔ پاکستان میں عالمگیر وبا کے بعد تنخواہوں پر تو قابو پالیا گیا ہے کہیں 40فیصد کم ہوئیں کہیں 50فیصد۔ بہت سے لوگ نکال کر تنخواہوں میں کمی کی گئی۔ لیکن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا رہا۔ کیا ہماری کسی وزارت نے اندازہ کیا ہے کہ مارچ 2020 سے اب تک کتنے پاکستانی بے روزگار ہوئے ہیں۔ اور وہ کیسے دو وقت کی روٹی کا انتظام کررہے ہیں۔
پہلے ہر محلے میں ہر گاؤں میں ایک کریانہ شاپ ہوتی تھی۔ کریانے والا محلے یا گاؤں کے ہر گھر کی مالی حالت سے بخوبی واقف ہوتا تھا۔ بہت سے نادار۔ یا وقتی طور پر مشکل میں گھرے خاندانوں کو وہ ادھار راشن دیتا رہتا تھا۔ اس کے پیش نظر منافع نہیں بلکہ اس خاندان کی بقا ہوتی تھی۔ اب یہ جو بہت سی شاخوں اور منزلوں والے ڈپارٹمینٹل اسٹور کھل رہے ہیں تو ان کا مقصد صرف منافع ہے۔ کریانے والے سے بعض امیر خاندان بھی مالی تعاون کرتے تھے۔ غریب خاندانوں کو راشن مسلسل فراہم ہوتا رہتا تھا۔ اب امیر ممالک پاکستان جیسے غریب ممالک کے لیے اس روایت پر عمل کررہے ہیں۔ لیکن یہ کروڑوں ڈالر دردمند کریانے والے کے ذریعے نہیں بلکہ سفاک بیورو کریٹس اور پتھر دل حکمرانوں کے وسیلے سے آتے ہیں تو غریب خاندانوں تک نہیں پہنچتے۔
کبھی غریبی کا تجربہ نہ کرنے والے وزیر اعظم عمران خان نے کچھ ہفتے قبل کہا کہ میں خود مہنگائی کا مقابلہ کروں گا ۔ ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ چیزیں مہنگی کیوں ہورہی ہیں۔ پھر انہوں نے ٹائیگر فورس کو مہنگائی روکنے کے لیے میدان میں اتارنے کا کہا ۔ہوا کچھ نہیں۔ ایسی فورسز۔ متوازی حکومتیں ہوتی ہیں۔ انہیں فوج قبول کرتی ہے نہ بیورو کریسی۔ یہ ملکی خزانے پر بوجھ بھی ہوتی ہیں۔ ٹائیگر فورس تبلیغی جماعت تو نہیں ہے۔ جو اپنے خرچ پر سفر کرے گی۔اپنا کھائے گی۔ عمران صاحب۔ خدا کے لیے یہ تجربہ نہ کریں۔ ان نوجوانوں کو حکومت کے خرچ پر مینجری کی تربیت کے کورس کروائیں تاکہ یہ اپنی صلاحیتیں اس تربیت کے بعد سرکاری یا غیر سرکاری اداروں میں بروئے کار لاسکیں۔آپ مقامی حکومتوں کے نظام کو بھرپور انداز میں بحال کریں۔ چاروں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کروائیں۔ ٹائیگر فورس کے جوان انتخابات میں حصّہ لے کر کونسلر بن سکتے ہیں۔ جب تک انتخاب نہ ہوں۔ پرانے کونسلروں چیئرمینوں کو عبوری طور پر کام کرنے دیں۔ اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور قیمتوں پر کنٹرول۔ غریب اکثریت کی مدد۔ سب سے بہتر بلدیاتی ادارے ہی کرسکتے ہیں۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker