کالملکھاریمحمود شام

بزرگوں کا سایہ نہ درختوں کی چھاؤں: مملکت اے مملکت / محمود شام

’’وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو، اور اسی سے درخت بھی شاداب ہوتے ہیں۔ جن میں تم اپنے چار پایوں کو چراتے ہو اسی پانی سے وہ تمہارے لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور بے شمار درخت اگاتا ہے اور ہر طرح کے پھل پیدا کرتا ہے۔ غور کرنے والوں کے لئے اس میں قدرت کی بڑی نشانی ہے۔ سورۃ النحل آیت11-10(مضامین قرآن حکیم)
بہت کڑی دھوپ تھی،شہر تپ رہا تھا،سورج درودیوار ،گلیاں دہکا رہا تھا، راستوں پر صرف کام کرنے والی ماسیاں اور پھیری والے نظر آتے تھے، زیادہ تر محلے مارکیٹیں سنسان تھیں۔ پارہ46سینٹی گریڈ تک چلا گیا تھا ،چھائوں دور دور تک نہیں تھی، ہم درختوں کو کاٹ رہے ہیں۔ ہریالی مٹا رہے ہیں ان کی جگہ کنکریٹ ،سیمنٹ کےکھو کھے کھڑے کر رہے ہیں، پینا فلیکس اشتہارات سے پیسے کمانے کے لئے دیواریں اونچی کر رہے ہیں۔ ان میں کھڑکیاں نہ روشن دان،کبھی دعائیں دی جاتی تھیں اللہ بزرگوں کا سایہ قائم رکھے، ہم ان سایہ دار بزرگوں کو اولڈ ہومز میں داخل کروا رہے ہیں۔ تو گھروں میں دھوپ ہی راج کرے گی۔ سب کچھ جھلس جائے گا۔
گھنے سایہ دار پیڑ ہماری تہذیب کی قدیم ترین نشانیاں ہیں، انسانوں کے سب سے پرانے دوست، شہر ہو یا گاؤں، چمن ہو یا بیاباں، ایشیا ہو یا یورپ، افریقہ ہو یا امریکہ ،درختوں کی چھاؤں راحت اورتسکین کا باعث ہوتی ہے۔
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتر ہے
ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے
ایئرکنڈیشنڈ گاڑیوں ، سرد دفتروں، ٹھنڈے گھروں میں زندگی گزارنے والوں کو پیپل، برگد، اور شیشم کی گھنی چھاؤں کے لطف کا کیا اندازہ ہے۔
میں پیپل کے اس درخت کو کیسے بھول سکتا ہوں جو مجھے بچپن میں ہجرت سے یاد تھا ،جب مجھے بھارت میں اپنی جائے پیدائش راجپورہ جانے کا موقع ملا تو پیپل کے اس درخت نے میرےاپنے متروکہ گھر تک رہنمائی کی۔ یہ درخت عمر کے ہر حصے میں انسان کا ساتھ دیتے ہیں۔
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
اس ایک شعر نے اس شاعر کو ہمیشہ کیلئے امر کر دیا۔
دنیا ترقی کر رہی ہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی ہمارا روزمرّہ بدل رہی ہے لیکن ترقی یافتہ ملکوں میں بھی درختوں سے انسانوں نے رشتہ نہیں توڑا ہے۔ شہروں میں اگر کنکریٹ کے جنگل ہیں تو وہ اپنے فارم ہاؤس، کنٹری ہاؤس بناتے ہیں۔ جہاں گھنے درخت لگاتے ہیں۔ ان درختوں میں گھر بناتے ہیں۔ ہم اتنے کمرشل ہو رہے ہیں کہ درخت کاٹتے جا رہے ہیں۔ اب انتظار حسین بھی نہیں رہے جو لاہور میں درخت کٹنے پر دل ہلا دینے والے کالم لکھ دیتے تھے۔ ہمارے سامنے تو انسان کٹتے رہتے ہیں، ہم آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ کراچی کی پہچان گل مہر کے پیڑ تھے۔ ہمارے یہ دوست گھنی چھاؤں تو عنایت کرتے ہی تھے لیکن عین مئی کے تپتے مہینے میں اس پر ہر رنگ کے پھول بھی کھلتے تھے۔ کہیں نارنجی، کہیں قرمزی، کہیں سفید، کہیں سرخ، کہیں پیپل کی چھاؤں تھی، کہیں برگد کی۔
ہم امریکہ میں انٹرنیشنل وزیٹرز پروگرام کیلئے سن سنائی شہر گئے ہوئے تھے۔ ایک دو روز کسی مقامی گھرانے کی میزبانی کا لطف اس پروگرام کا حصّہ ہوتا ہے۔ اس گھر کے ساتھ چھوٹی سی جھیل بھی تھی اور درختوں کا تو شمار پوچھو نا۔ ان کی صاحبزادی تصوف کی شیدائی تھی۔ وہ پاکستان میں خانقاہوں، درگاہوں پر حاضری دے چکی تھی۔ وہ کہتی تھی درختوں سے ہم کلام ہوں، درخت باتیں کرتے ہیں۔
ہم کو تو یک دوسرے سے بات کرنے کی فرصت نہیں ہے۔ ہمارے بچّے، ماں، باپ سے ہم سخن ہونے کو ترستے ہیں۔ بوڑھے ماں، باپ جوان بیٹیوں، بہوؤں کی راہ تکتے رہتے ہیں تو ہمیں درختوں سے بات کرنے کا اشتیاق کہاں سے ہو گا۔ اب یہ جادو کی ڈبیا (موبائل) آگیا ہے۔ اس نے ہمیں فطرت کے حسن سے بے گانہ کر دیا ہے۔ چمن ہمارے لئے چشم براہ رہتے ہیں، پارکس آوازیں دیتے رہتے ہیں، اب اے حمید بھی نہیں رہے۔ لاہور کے پیڑوں کی کہانیاں اب کون لکھے گا؟ شاہ لطیف کے رسالے کے اوراق میں سے کون گزرے گا؟ جہاں قدرت کے آثار سروں میں ملتے ہیں۔ سچل سرمست، بلھے شاہ، سلطان باہو سارے سایہ دار شجر ہمارے روزمرّہ سے نکل گئے ہیں۔
اب شیشم کے درخت ہیں نہ وہ جھولے۔
اچیاں لمیاں ٹاہلیاں اوئے
وچ گجری وی پینگ وے ماہیا
اونچے لمبے شیشم کے پیڑ
درمیان میں حسینہ کا جھولا
درخت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک پیڑوں کو کاٹنے کی بجائے اپنی عمارتوں کے ڈیزائن ہی ایسے تراشتے ہیں کہ یہ پیڑ اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ پہلے سڑکوں کے کنارے جو پیڑ ہوتے تھے ان کے تنوں پر سفیدی کر کے ان کے نمبر لکھے جاتے تھے۔ وہ سرکار کا اثاثہ ہوتے تھے، انہیں کاٹنا تو درکنار ایک آدھ ٹہنی کیلئے بھی اجازت لینی پڑتی تھی۔ انسانوں کی طرح درختوں کا شمار بھی ہوتا تھا۔ اب تو جیتے جاگتے انسان شناختی کارڈ رکھنے، مردم شماری کے باوجود لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے ماں، باپ، بھائی بہن روتے رہتے ہیں۔ ان بے چارے درختوں کو تو رونے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ذرا یاد کریں آم، جامن، شہتوت، بیری، نیم، سفیدا، املتاس، سمبل، کچنار، کنیر، گلہڑھ،جنڈ، چمپا یہ سب ہماری زندگی کے لازمی جزو تھے۔ ان کے بغیر ہمارے بچپن، جوانی، بڑھاپے نامکمل تھے۔ ان کے بنا عشق کی داستانیں ادھوری تھیں۔ ہر مذہب میں ان درختوں کا اپنا ایک مقام ہوتا ہے۔ ایک امریکن شاعر کہتا ہے ’’میرا خیال ہے کہ میں کبھی ایسی نظم نہیں دیکھوں گا جو درخت کی طرح حسین ہو۔‘‘ جواں مرگ کیٹس کیا خوب کہتا ہے ’’اگر شاعری اسی طرح قدرتی طور پر نہیں آتی جیسے درخت پر پتے آتے ہیں، بہتر ہے کہ پھر شاعری نہ ہی آئے‘‘۔ تھامس جیفرسن کا قول تو غنیمت ہے ’’آزادی کے پیڑ کو وقتاً فوقتاً وطن پرستوں اور جابروں کے خون سے تروتازہ کرتے رہنا چاہئے، یہ قدرتی کھاد ہے۔ ولیم بلیک کہتے ہیں ’’ایک احمق پیڑ کو اس طرح نہیں دیکھتا ہے، جس انداز سے ایک دانا دیکھتا ہے۔‘‘
سو طے ہوا کہ کراچی ہو یا وہ سب شہر جہاں جہاں پیپل، برگد، شیشم، گل مہر، سمبل، سکھ چین، نیم لاپتہ کر دیئے گئے ہیں۔ عمارتوں کی خاطر یا سیکورٹی کیلئے، وہاں احمقوں کا راج ہے۔ وہ ان درختوں کو اس انداز سے نہیں دیکھتے جیسے اہل دانش درختوں پر نظر ڈالتے ہیں۔
سورج کی دہکتی آنکھ نے مجھے اتنا تپا دیا ہے کہ میں نگراں وزیراعظم، پارلیمنٹ کی لانڈری سے دھلے کاغذات نامزدگی، ریحام خان کی کتاب الیکشن 2018سب بھول گیا ہوں۔ سڑکوں پر درختوں کی جگہ جھاڑیاں لگائی جا رہی ہیں۔ دھوپ میں بچّے، بڑے، مائیں، بہنیں جھلس رہی ہیں۔ پلازے، شاپنگ مال سر اٹھا رہے ہیں، بزرگ پیڑ راتوں رات غائب ہو جاتے ہیں۔ بزرگ والدین اولڈ ہومز میں جمع کروا کر بیٹے، بہو، والدین کے زندہ ہونے کے باوجود یتیموں کی زندگی گزارتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker