2018 انتخاباتکالملکھاریمحمود شام

آہٹیں انتخاب کی یا انقلاب کی: مملکت اے مملکت / محمود شام

جب سے ہماری انگلیوں۔ قلم اور کاغذ کی دوستی شروع ہوئی ہے ۔پنڈورا بکس کھلنے کا سنتے آرہے ہیں۔ نصف صدی سے زیادہ ہی ہورہی ہے۔ خوش قسمت ہیں کہ زندہ تھے۔ الیکشن 2018سے قبل پنڈورا بکس حقیقی معنوں میں کھلتے بھی دیکھ لیا ہے۔ انسانی ذہن تو بہت بڑا افسوں ساز ہے۔ ڈائریکٹر ہے تصورات کو پیکردیتا ہے۔ ہر پاکستانی اس وقت ایک فتنہ خیز کتاب کے مسودے سے برآمد ہوئی کہانیوں کو اپنے ذہن میں فلم بناکر دیکھ رہا ہے ۔ روزے بہل رہے ہیں۔ غالب سرگوشی کررہے ہیں:۔
دھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہ تھا
ہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیش دستی ایک دن
ہر صبح نئی داستانیں لے کر آرہی ہے۔ بڑے بڑے دانشوروں۔ قائدین کے کپڑے اُتررہے ہیں۔ بہت سے ایسے بھی ہیں جن کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہورہا ہے۔ تو وہ رضا کارانہ طور پر اپنی تحریروں میں عریاں ہورہے ہیں۔ ME TOO کا دَور ہے۔ قاتل حسینہ سے اپنا تعلق ثابت کرنے میں پیچھے کیوں رہیں۔ اسلام آباد۔ لاہور والے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھورہے ہیں۔ ہم کراچی والے محرومیوں کا رونا رورہے ہیں۔
سنایا رات کو قصہ جو ہیر رانجھے کا
تو اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا
تو کیا پنجابی صدیوں سے لوٹتے آرہے ہیں۔ کبھی لٹے بھی تو ہوں گے۔ اس بار زمانہ یہ کروٹ لیتا نظر آرہا ہے۔
قیادت اور تدبر تویہ ہوتا ہے کہ آپ ایک قدم اٹھائیں۔
ایک عمل کریں۔ زمانہ اس پر رد عمل پر مجبور ہو۔ لیکن جہاں تیس تیس چالیس چالیس سال سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے گاڑی کسی دوسرے کے پیچھے ہی لگاتے ہیں۔ خود آگے نہیں لگتے۔ انہیں موقع ملا ہے۔ اب وہ کسی کے محتاج ہیں نہ دست نگر۔ نہ کوئی سرکاری حیثیت ان کے پاؤں کی زنجیر ہے۔
مسائل بھی بے حساب ہیں۔ امکانات بھی بے کراں۔ لوگ بھی ان کی آواز میں آواز ملارہے ہیں۔اپنی نگاہیں بار بار پیچھے گھمانے کی بجائے آگے دیکھیں۔ ممکنات سے بھرا مستقبل سامنے ہے۔ وہاں سے کوئی امکان بھی اٹھالیں اس پر اپنی قیادت کی بنیاد رکھیں۔یہ ممکنات سے بھرا مستقبل ہے۔ وہاں سے کوئی امکان بھی اٹھالیں اس پر اپنی قیادت کی بنیاد رکھیں۔ یہ مقدمات یہ قید و بند تو روشن مستقبل کا سر آغاز ہوتے ہیں۔ مگر اس کے لیے مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی عادت ڈالیں۔ وقت ہے آپ کے پاس جیل میں تو اور بھی زیادہ سکون ہوگا۔
سبق پھر پڑھ عدالت کا شجاعت کا صداقت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
مجھے حیرت ہی نہیں گہرا دکھ ہوتا ہے۔ وہ ملک جو ازلی دشمن ہمسایوں کی سازشوں کا شکار ہو۔ جسکا پانی بند کیا جارہا ہے۔ جسے ریگ زار بنانے کے بین الاقوامی منصوبے ہیں۔ جہاں پولیو ابھی تک ختم نہ ہوا ہو۔ جو کرپشن میں سر فہرست ریاستوں میں ہو۔ جو عوام کی زندگی آسان کرنے میں بہت پیچھے ہو۔ جہاں کئی کئی گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہو۔ جہاں بنجر پہاڑوں کے سینے میں۔ ریگ زاروں کے جگر میں۔ سمندروں کی تہوں میں قیمتی وسائل اک جھلک دکھانے کو بے تاب ہوں۔ جہاں 60فی صد آبادی جوان ہو۔ توانا ہو۔ جن کے کڑیل دست و بازو کچھ کرنے کو بے چین ہوں۔ جہاں لسانی دہشت گرد بھی ہوں۔ مذہبی شدت پسند بھی۔ اور جہاں الیکشن کا سنہری فیصلہ کن موقع آیا ہو۔ جس میں ووٹ کا صحیح استعمال قوم کو زوال کے تسلسل سے نکال سکتا ہو۔ وہاں میڈیا پر ایک کتاب کے ورق کھولے جارہے ہوں۔جنسی ہراسانی کے قصے دہرائے جارہے ہوں۔ اس کتاب اور اس کی مصنّفہ کے بارے میں سابق وزیر اعظم سے لے کر ایک عام اینکر پرسن تک سب حسب توفیق تبصرے کررہے ہوں۔ وہاں اقتدار کی غلام گردشوں میں صرف یہ فکر ہو کہ کونسی کار ملے گی کیا کیا مراعات ملیں گی۔
جہاں صرف ڈیڑھ دو ماہ کے لیے ہیلی کاپٹروں۔ خصوصی جہازوں کے جھولے لینے کے لیے سینکڑوں بزرگ جوان بے تاب ہوں ۔ جہاں زندگی بھر کی رُسوائی کی قیمت پر دو ماہ کی آسائشیں قبول کی جاتی ہوں۔ جہاں پروفیسرز زندگی بھر کی کمائی ڈیڑھ ماہ کے کلب روڈ میں قیام کے لیے قربان کررہے ہوں۔تفوبر تو اے چرخ گرداں تفو۔ اے گردش ایام ۔ افسوس ہے تجھ پر۔
یہ عظیم سر زمین۔ لاکھوں کی قربانیوں سے حاصل کی ہوئی مملکت۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں کونسی نعمت ہمیں عطا نہیں کی ہے۔یہاں سب کچھ ہے۔ اپنے مالک اپنے خالق سے گلے کو جی چاہتا ہے۔
شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو
اتنا کچھ دیا۔ تو ہمیں بے لوث۔ بے غرض۔ تدبر والے قائد بھی دیے ہوتے۔ جواب آتا ہے:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
کتنے مواقع آتے ہیں۔ مگر ہم انہی رہزنوں۔ قاتلوں کے دلدادہ نکلتے ہیں۔ ہم اپنی قیادت کے حقدار ان کو ہی سمجھتے ہیں۔ جو ہماری بربادی کے ذمے دار ہیں۔ ہم میرؔ کی طرح سادہ ہیں کہ جن کے سبب بیمار ہوئے ۔ انہی عطاروں کے لونڈوں سے دوا لیتے ہیں۔ہم سب تصور کرسکتے ہیں کہ الیکشن کے کیا نتائج ہوں گے۔
مجھے تو رشک آتا ہے ان اونچے اونچے گھروں میں رہنے والوں پر۔ انصاف گاہوں پر۔ جو مثبت نتائج کے لیے دن رات ایک کررہے ہیں۔ اوور ٹائم لگارہے ہیں۔ جَو بوکر کھیت کے کنارے بیٹھے ہیں گندم اُگنے کی امید لے کر۔ ایک پودا جسے رسیوں اور لکڑیوں کا سہارا دے کر تن آور بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں وہ ذرا سی تیز ہوا چلتی ہے ۔ جھک جاتا ہے۔ اندر کچھ ہو تو اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔
پنڈورا بکس کھل چکے ہیں۔ الفاظ کی دھینگا مشتی جاری ہے۔ پنساری اپنا اپنا چورن بیچنے کے لئے آوازیں بلند کررہے ہیں۔
انقلاب ایسے ہی بلووں۔ تصادموں ۔ اور تنازعات میں جنم لیتا ہے۔ اگر کوئی ایک مسیحا۔ ایک مدبر نہ ہو تو اجتماعی قیادتیں سامنے آتی ہیں۔ اس انتشار کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستانیوں نے کبھی اس طرح صاحبانِ اختیار کو بے اختیار نہیں دیکھا تھا۔ لمبے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ملاحظہ نہیں کی تھیں۔ بنگلوں سے کروڑوں روپے برآمد ہوتے نہیں نظر آئے تھے۔ سابق صدر۔ سابق وزرائے اعظم۔ سابق وزراء۔ سابق آرمی چیف۔ سابق جنرل۔ حاضر سروس چیف سیکرٹری۔ پرنسپل سیکرٹری عدالتوں میں پیشیاں بھگتتے نہیں پائے تھے ۔ ایسے مناظر کے خواب سب دیکھتے تھے۔ اب یہ سب کچھ حقیقت میں ہورہا ہے۔اس کا نتیجہ کچھ تو نکلے گا۔ آنے والوں کے دلوں میں حساب کتاب کا کچھ تو خوف پیدا ہوگا۔ کوئی ہے جسے انقلاب کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی ہو۔
آزمائش ہے۔ سب کی۔ عدلیہ کی ۔اسٹیبلشمنٹ کی۔اہل سیاست کی۔ اہل صحافت کی۔ ایک قدم کی لغزش پر تباہی بربادی ہے۔
کھڑے ہیں اب تو وجود و عدم کی سرحد پر
بس ایک لغزش پا پر ہے فیصلہ ہونا
فیصلے ایسے جن پر بعد میں شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ یہ جیتے جاگتے بیس کروڑ کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ کوئی عام پٹیشن نہیں ہے۔پانی کی قلت کا دیرینہ مسئلہ بھی آگیا ہے۔ کالا باغ ڈیم کی گھن گرج بھی سنائی دی ہے۔ اللہ خیر کرے۔
ملک اسی اثنا میں ایک سعید روح۔ انسانیت کا درد رکھنے والے پاکستانی سے محروم ہوگیا۔ رسول بخش پلیجو۔ اپنی بھرپور ندگی گزار کر۔ لوگوں کے دلوں میں گھَر کرکے رخصت ہوگئے۔ اہل سیاست میں فکری روایت کو برقرار رکھنے والے رسول بخش پلیجو جیسے لوگ بہت کم تھے۔ بیکراں مطالعہ۔ ماضی کی ایک ایک تحریک پر نظر۔ مستقبل کی آہٹیں سنتے تھے۔ ملاقاتیں تو بہت رہیں۔ ایک کبھی نہیں بھول سکتی۔ یہ جناح اسپتال کراچی میں زیر حراست بھی اور زیر علاج بھی تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو ان کی عیادت کے لیے گئی تھیں۔ شاید 1987ہو۔ پلیجو صاحب نے جن الفاظ میں ان کا خیر مقدم کیا ۔ اُردو۔انگریزی میں ۔ گفتگو میں آنے والے دَور کی سنہری جھلکیاں بھی تھیں۔ درپیش خطرات کی گھنٹیاں بھی۔ وہ اپنے نظریات اپنے اصولوں کی حرمت کے لیے عمر بھر سینہ سپر رہے۔ سندھ کی سطح پر ہی نہیں۔ پاکستان بلکہ خطّے کی صورتِ حال پر ان کا درد بہت کچھ سکھاتا تھا۔ ایاز لطیف پلیجو۔ ان کی مشعل کو آگے لے کر بڑھ رہے ہیں۔ سندھو ندی بہتی رہے گی۔ لوگ آتے جاتے رہیں گے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker