نئی دہلی : ’میں ہر شام جج کے پاس جاتا تھا، وہ مجھے کہتے کہ وہ سب کچھ بتائیں گے لیکن اگر یہ سب کچھ شائع ہوا تو میں اس معلومات سے مکر جاؤں گا۔ یہ میرے لیے بہت مشکل صورتحال تھی۔‘
یہ الفاظ ہیں براڈ کاسٹر، سینیئر صحافی اور بی بی سی کے انڈیا میں سابق نامہ نگار مارک ٹلی کے جو ماضی میں پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور ان کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائی کی بھی کوریج کر چکے ہیں۔ مارک ٹلی اتوار کو 90 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔
سنہ 2009 میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اُنھوں نے اپنے صحافتی کریئر کے دوران بڑی خبروں، ہنگاموں، انڈیا اور پاکستان میں ہونے والے بڑے واقعات کی کوریج کے دوران پیش آنے والے واقعات اور مشکلات پر کھل کر اظہار خیال کیا تھا۔
مارک ٹلی کے بقول ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے پہلے اور بعد کے معاملات کی کوریج نے اُنھیں بہت شہرت دی۔
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی کوریج سے متعلق اُن کا کہنا تھا کہ ’ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے جڑے واقعات میری کہانی نہیں تھی، یہ بھٹو کی کہانی تھی۔ لہٰذا جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ میں بہت بڑا صحافی ہوں تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں میں مغرور نہ ہو جاؤں۔‘
مارک ٹلی کا شمار دُنیا کے معروف صحافیوں میں ہوتا تھا اور اُنھیں انڈیا میں ’بی بی سی کی آواز‘ سمجھا جاتا تھا۔
بی بی سی نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز کے عبوری سی ای او جوناتھن منرو نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہمیں سر مارک ٹلی کے انتقال کا سن کر دکھ ہوا ہے۔ غیر ملکی نامہ نگاروں کے علمبرداروں میں سے ایک کے طور پر اُنھوں نے اپنی رپورٹنگ کے ذریعے انڈیا کے حالات کو برطانیہ اور پوری دُنیا کے سامنے رکھا۔‘
مارک ٹلی سنہ 1935 میں کولکتہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے والد ایک تاجر تھے جبکہ اُن کی والدہ کی پیدائش بنگال میں ہوئی تھی۔
اُن کا خاندان کئی نسلوں سے انڈیا میں کاروبار سے منسلک تھا۔
مارک ٹلی کی پرورش ایک انگریز آیا نے کی، جنھوں نے ایک مرتبہ اُنھیں خاندانی ڈرائیور کی نقل کرتے ہوئے ہندی میں گنتی سنانے پر ڈانٹ کر کہا کہ ’یہ تمہاری نہیں بلکہ ملازموں کی زبان‘ ہے۔
لیکن آخر کار وہ روانی سے ہندی بولنے لگے اور اُن کا شمار روانی سے ہندی بولنے والے غیر ملکی صحافیوں میں ہونے لگا۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

