ایک سچے مصنف کے پاس لکھنے کے لیے ہر وقت کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔ شاعر کے اردگرد جمالیاتی اور معاشرتی موضوعات ہوتے ہیں، افسانہ نگار کے اردگرد ان گنت ان کہی کہانیاں، اور سائنس دان کے اردگرد اپنے شعبے سے متعلق بے شمار مفروضات اور مشاہدات۔ نفسیات دان کہتے ہیں کہ لکھنا ایک طریقۂ علاج، یا تھیراپی کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جب ہم بہت زیادہ الجھ جاتے ہیں اور ہمارے خیالات پیچیدہ ہو جاتے ہیں تو ہمیں انہیں صفحۂ قرطاس پر اتار دینا چاہیے۔ اس عمل سے ہمارے خیالات ایسی صورت میں سامنے آتے ہیں جو نہ صرف پڑھنے والوں بلکہ خود ہمارے لیے بھی سمجھنا آسان ہو جاتے ہیں۔
پچھلے دنوں میں اس الجھن کا شکار تھا کہ دنیا کو سمجھنے اور بہتر بنانے کے لیے کیا زیادہ اہم ہے ۔۔ اخلاقیات یا نظریات؟ ہم اپنے اردگرد بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جن کے پاس اعلیٰ اخلاقیات ہوتی ہیں لیکن وہ نظریاتی اعتبار سے کھوکھلے ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہم بعض اوقات بلند نظریات رکھنے والوں کو اخلاقی اعتبار سے بہت پست پاتے ہیں۔ میری اس الجھن کو میرے بیٹے نے بڑی سادگی سے ایک ہی جملے میں یوں دور کر دیا کہ دراصل انسانی نظریات ہی اخلاقیات کو ترتیب دیتے ہیں۔ یعنی کسی معاشرے کی اخلاقیات کا دارومدار اس کے نظریات پر ہوتا ہے۔
نظریات بکھرے ہوئے معاشرے کو اس انداز سے ترتیب دینے کے لیے وجود میں آتے ہیں کہ وہ ایک درست سمت میں آگے بڑھ سکے، اور انسان فلاح و بہبود کی جانب اپنا سفر شروع کر کے اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کے قابل ہو جائے۔
نظریاتی انسان اپنے ساتھ بھی اور اپنے ماحول کے ساتھ بھی دیانت دار ہوتے ہیں۔ دیانت داری، جو بلاشبہ نظریات ہی سے جنم لیتی ہے، نظریات کی ترویج اور اس کے نتیجے میں ایک اعلیٰ معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔
تاہم نظریاتی انسانوں کے لیے زندگی آسان نہیں ہوتی۔ ایک بےترتیب معاشرے میں غیر نظریاتی، موقع پرست اور چالاک افراد کا راج ہوتا ہے۔ ان چالاک لوگوں کی بدقسمتی یہ ہوتی ہے کہ ان کے مقاصد دور اندیشی سے عاری اور محدود ہوتے ہیں۔ یہ افراد اپنے عارضی مفادات کے حصول کے لیے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہیں، یوں معاشرے میں جنگل کا قانون نافذ ہو جاتا ہے۔ یعنی جو طاقتور ہوتا ہے، وہی ہمیشہ درست بھی سمجھا جاتا ہے۔ قانون اور دستور ان کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔
ہمارے ملک کے بعض سابق فوجی جرنیل سرعام یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ ان کے نزدیک آئین کی اہمیت کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں، جسے وہ جب چاہیں ردی کی ٹوکری میں پھینک سکتے ہیں۔ ایسے افراد اپنے مفادات کے لیے ایک دوسرے کو استعمال کرتے ہیں، اور جب ان کے مفادات ٹکرا جائیں تو ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب یہ لوگ طاقت اور اقتدار کے لیے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو سکتے ہیں تو نظریاتی اور سیدھے سادے انسانوں کی حیثیت ان کے نزدیک کیا رہ جاتی ہو گی۔ نظریاتی انسانوں کو ان کے نظریات سمیت کچل دینا ان لوگوں کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔
یہ افراد چونکہ سوچنے، سمجھنے اور غور و فکر کرنے کی صلاحیتوں سے محروم ہوتے ہیں، اس لیے انہیں قابل اور سلجھے ہوئے لوگوں کی بہرحال ضرورت رہتی ہے۔ وہ ان باصلاحیت افراد کو اپنے محدود مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی انہیں ان کی اوقات بھی یاد دلاتے رہتے ہیں، تاکہ وہ کبھی سر نہ اٹھا سکیں۔
ایسے حالات میں سچے اور دیانت دار افراد مایوسی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح ان کے خیالات کا تمسخر اڑایا جاتا ہے، اور ہر قدم پر انہیں ان کی اوقات یاد دلائی جاتی ہے۔ انہیں خیالات کی دنیا میں رہنے والے فضول لوگ قرار دیا جاتا ہے۔ ان سے کم اہلیت کے افراد کو ان پر فوقیت دے کر ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔
اگر اس کے باوجود یہ افراد اپنی روش سے نہ ہٹیں اور کوئی عارضی فائدہ پہنچانے کے قابل بھی نہ رہیں تو انہیں ایک ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ جوانی سے بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچ جاتے ہیں، مگر ذلت و رسوائی ان کا مقدر بنا دی جاتی ہے، جو قبر تک ان کے ساتھ جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایسے ماحول میں نظریاتی لوگ کیا کریں؟ ان کا اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں ٹیڑھا سوچنا آتا ہی نہیں۔ وہ لالچی اور موقع پرست نہیں ہوتے۔ وہ اخلاقی اعتبار سے اتنے پست نہیں ہوتے کہ وقتی فوائد کے لیے اپنے شعبے سے بددیانتی کریں یا اپنے ساتھیوں کے خلاف سازشیں کریں۔ وہ جانتے ہیں کہ اکیلے کچھ نہیں کیا جا سکتا اور آگے بڑھنے کے لیے ہمیشہ ایک ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایسی صورت میں ان کا واحد نفسیاتی سہارا ان کے نظریات ہی بنتے ہیں۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو ان کے پاس ہوتا ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہی نظریات بالآخر انہیں اور معاشرے دونوں کو آگے لے کر جائیں گے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ضمیر کی آواز سنیں اور دیانت دار افراد کے ہاتھ مضبوط کریں۔ ہمیں اہلِ علم کی قدر کرنی چاہیے اور ان کے علم اور ذہانت سے استفادہ کرنا چاہیے۔ ہم ایک دوسرے سے وہ علم حاصل کر سکتے ہیں جو شاید محض کتابوں سے حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔
ہمیں اپنے اردگرد پھیلی ہوئی بےترتیبی پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، اور انفرادیت کے بجائے اجتماعی مفادات کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ یہ ایک مشکل اور صبر آزما سفر ہے، لیکن یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل کو بالآخر حل کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
فیس بک کمینٹ

