کالملکھاریمسعود اشعر

سیدھے سادے سوال: آئینہ /مسعود اشعر

جب سے ہمارے نئے وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کیا ہے، اس وقت سے ایک سوال ہمیں بار بار پریشان کر رہا ہے۔ اس سوال کا جواب ہم اپنے پڑھنے والوں سے چاہتے ہیں۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں، جو خطاب سے زیادہ اپنے عوام کے ساتھ بے تکلفی اور اپنائیت کی بات چیت تھی، جہاں ملک کے اندر سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کی بات کی، وہاں بیرون ملک اپنے ہمسایوں اور دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی نوید بھی سنائی۔ ہندوستان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی رابطے بحال کرنے کا تذکرہ بھی کیا۔ گویا وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں تجارت بھی شامل ہو۔ اب ہمارا سوال یہ ہے کہ کچھ ایسی ہی بات تو نواز شریف نے بھی کی تھی۔ تو انہیں ملک کا غدار کیوں کہا گیا؟ اور یہ نعرے کیوں لگائے گئے کہ مودی کا جو یار ہے، غدار ہے، غدار ہے؟ اور پھر یہ کہ اگر کسی شخص کا کوئی کاروباری دوست ہندوستان سے پاکستان آئے تو جرم، لیکن اگر دوستی کے نام پر ہی کوئی ہندوستانی کرکٹر اور ٹی وی کا مسخرہ پاکستان آئے تو سبحان اللہ؟ ہم یہ نہیں جانتے کہ ہمارے پڑھنے والے ہمارے اس سیدھے سادے سوال کا جواب کیا دیں گے۔ لیکن اگر حکومت سنبھالنے کے بعد عمران خان کو بھی اس کا احساس ہو گیا ہے تو ہمیں اور کیا چاہیے۔ اب یہ نواز شریف ہوں یا عمران خان، جو بھی سچی اور حقیقت پسندانہ بات کرے گا ہم اس کے ساتھ ہیں۔ ہمارے لیے تو خوشی کی بات یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت بھی ہندوستان سے اچھے تعلقات رکھنا چاہتی ہے۔ علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے پڑوسیوں سے اچھے تعلقات ضروری ہیں۔ عمران خان بھی جانتے ہیں کہ آج تجارت کا زمانہ ہے اور کسی بھی ملک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کے لیے تجارت سے زیادہ بہتر اور کوئی وسیلہ نہیں ہو سکتا۔ نریندر مودی خواہ کتنا ہی متعصب ہو اور پاکستان کے خلاف وہ کچھ بھی کہتا رہے، مگر آخر ہے تو وہ ذات کا بنیا۔ اور بنیے یا ملتانی زبان کے ’’کراڑ‘‘ کے لیے تجارت ہی سب سے قیمتی چیز ہوتی ہے۔ اگر دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ تجارت شروع ہو جاتی ہے تو باقی تعلقات میں بھی بہتری آ جائے گی۔ اور آج ہندوستان کے مسلمان جس عذاب میں زندگی گزار رہے ہیں، اس میں بھی کمی آ جائے گی۔ یاد رکھیے، دونوں ملکوں کے جھگڑے میں ہندوستانی مسلمان مارے جا رہے ہیں۔ لیکن کیا عمران خان یہ پالیسی جاری رکھ سکیں گے؟ سوال یہ بھی ہے۔
معلوم ہوا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کا احساس ہمارے فن کاروں کو بھی ہے اور یہ فن کار عمران خان کے چاہنے والوں میں ہی ہیں۔ دو دن پہلے ہم نے جو پاکستانی فلم دیکھی اگرچہ وہ ہے تو الٹی سیدھی کئی کہانیوں کا ملغوبہ، لیکن اس میں بھی دونوں پڑوسی ملکوں میں یگانگت اور دوستی بڑھانے کا پیغام ہی دیا گیا ہے حتیٰ کہ فلم کے آخر میں عمران خان کا ایک متوالا فن کار جب عمران خان کی آواز میں ہندوستان اور ہندوستانیوں کو بھائی چارے اور دوستی کی تلقین کرتا ہے تو گویا وہ عمران خان کی ہی ترجمانی کر رہا ہے۔ فلم میں لڑکا پاکستانی ہے اور لڑکی ہندوستانی۔ اور وہ بھی دبئی میں متعین ہندوستان کے مسلمان سفیر کی بیٹی۔ یہ سفیر خاندانی نواب صاحب ہیں اور پاکستان اور پاکستانیوں سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ ان نواب صاحب کو ہی پاکستانی لڑکا سمجھاتا ہے کہ آخر ہم ہیں تو ایک ہی۔ ہمارے دادا پردادا تو ایک ہی تھے۔ ہندوستان کی فلموں میں جب پاکستانی اور ہندوستانی لڑکے لڑکی کی محبت دکھائی جاتی ہے تو یہ اہتمام کیا جاتا ہے کہ لڑکا ہندوستانی ہو اور لڑکی پاکستانی۔ ہمارے فلم ساز نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ ہماری فلم میں لڑکا پاکستانی ہے اور لڑکی ہندوستانی۔ اب پاکستانی فلم کا ذکر آیا ہے تو ہم یہ بھی بتا دیں کہ آج کل ہمارے ہاں جو فلمیں بن رہی ہیں وہ زیادہ تر بارہ مسالے کی چاٹ ہوتی ہیں۔ اچھل کود، شور شرابہ اور کامیڈی کے نام پر بھانڈ پن۔ سنجیدہ موضوع پر ہمارے فلم ساز ذرا کم کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ اب اسی فلم کو دیکھ لیجئے۔ شروع میں ایک ہیرو صاحب (فلم میں ایک نہیں بلکہ دو ہیرو ہیں) زندگی سے مایوس ہو کر خودکشی کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ترکی کے سمندر میں کودنے والے ہی ہوتے ہیں کہ ایک ہندوستانی لڑکی انہیں بچا لیتی ہے۔ اسے بھول جائیے کہ وہ لڑکی ہمارے ہیرو کو کیسے بچاتی ہے، لیکن اس واقعے سے خیال آتا ہے کہ شاید اب کوئی سنجیدہ کہانی شروع ہو نے والی ہے لیکن اس کے بعد دوسرے رنگ برنگے تماشے شروع ہو جاتے ہیں۔ انہی تماشوں میں تلوار بازی کا تماشہ بھی شامل ہے۔ ہیرو صاحب اپنے رقیب کے ساتھ شمشیر زنی کے جوہر دکھاتے ہیں۔ اس منظر کو نہایت ہی سنجیدہ ہونا چاہیے تھا مگر وہ بھی کامیڈی کا ہی حصہ بن گیا ہے۔ بہرحال، خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان میں اب اوپر تلے فلمیں بننے لگی ہیں اور وہ باکس آفس پر کامیاب بھی ہو رہی ہیں۔ اگر ہمیں وہ پسند نہیں آتیں تو فلم ساز کی بلا سے۔ عام تماشائی کو تو پسند آتی ہیں۔ اس بقرعید پر ایک بھی ہندوستانی فلم ہمارے سینما گھروں میں نظر نہیں آئی۔ تمام فلمیں پاکستانی ہی تھیں۔ اگر اسی طرح فلمیں بنتی رہیں تو امید ہے کہ ’’کیک‘‘ اور ’’ماہ میر‘‘ جیسی سنجیدہ فلمیں بھی زیادہ تعداد میں بننے لگیں گی۔
اب آخر میں ایک اور ٹیڑھا سا سوال ہمارے دماغ پر سوار ہو گیا ہے۔ عمران خان ایک جمہوری حکومت کے سربراہ ہیں اور جمہوری حکومت میں اختیارات نیچے سے اوپر کی طرف جاتے ہیں۔ مرکز کی طرح صوبے بھی اپنے معاملات میں خودمختار ہوتے ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد تو صوبوں کے اختیارات میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے لیکن ہم نے دیکھا کہ پنجاب کی کابینہ کا فیصلہ لاہور میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں کیا گیا اور یہ فیصلہ بھی وزیر اعلیٰ پنجاب نے نہیں کیا بلکہ وزیر اعظم نے کیا۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ تحریک انصاف کے ماتحت صوبوں کے معاملات بھی بنی گالہ سے ہی چلائے جائیں گے اور صوبوں کے وزرائے اعلیٰ عملی طور پر بے اختیار ہوں گے؟ اب اگر کوئی اسے ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی حکومتیں کہے تو کیا ہم اسے حق بجانب کہہ سکتے ہیں؟
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker