کالملکھاریمسعود اشعر

آدمی یا چھلاوا۔ اور ایک گلدستہ : آئینہ /مسعود اشعر

ابن صفی تو اللہ کو پیارے ہو گئے۔ ان کے صاحب زادے لاہور میں ہی رہتے ہیں۔ لیکن انہوں نے لکھنے لکھانے کی پخ نہیں پالی۔ ایک اشتیاق احمد بھی تھے۔ وہ بھی ہم میں نہیں رہے۔ ان کے بعد اردو میں کوئی اور بھی سنسنی خیز کہانیاں یا crime thriller لکھ رہا ہے؟ یہ ہم نہیں جانتے۔ لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ ان دنوں ہمارے سامنے جو سنسنی خیز اور حیرت انگیز واقعات ہو رہے ہیں، یا لرزہ خیز وارداتیں ہو رہی ہیں، انہیں کہانیوں اور داستانوں کا نمک مرچ لگائے بغیر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اور اس کام کے لئے ابن صفی یا ایگتھا کرسٹی جیسے لکھنے والوں کی ہی ضرورت ہے۔ اب یہ جو ہمارے بہت ہی دبنگ، بے باک، نڈر اور بہادر پولیس افسر راؤ انوار ہیں، وہ داستانی کردار ہی تو بن گئے ہیں۔ ایسے داستانی کردار کہ اخبار اور اخباری خبریں ان کے کارناموں کا احاطہ نہیں کر سکتیں۔ ان کے لئے تو کہانیاں اور ناول لکھنے والے ہی چاہئیں۔ انہوں نے، اپنی دانست میں، کراچی کے اندر جرائم اور مجرموں کی جو بیخ کنی کی ہے وہ تو اخباری خبروں اور فیچروں کا موضوع ہے لیکن جس طرح وہ سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کراچی سے اسلام آباد تشریف لائے اور پھر اچانک ایسے غائب ہوئے کہ معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ انہیں زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا، یہ موضوع کسی ناول یا کھڑکی توڑ فلم کے کام ہی آسکتا ہے۔ عدالتیں انہیں طلب کر رہی ہیں۔ ان سے درخواست کی جا رہی ہے کہ وہ عدالت میں تشریف لے آئیں، انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ مگر وہ ہیں کہ ’’زمیں جنبد، نہ جنبد گل محمد‘‘ بنے ہو ئے ہیں۔ وہ خود تشریف لانے کی زحمت تو گوارا نہیں کر رہے ہیں، لیکن ان کے خط باقاعدگی سے عدالت پہنچ رہے ہیں۔ کہاں سے آ رہے ہیں یہ خط؟ کون پہنچا رہا ہے یہ خط؟ فرشتوں کو بھی خبر نہیں۔ ساری سراغ رسانیاں (اگر وہ واقعی کی گئیں؟) ناکام۔ آخر، جب ان کا اپنا جی چاہتا ہے تو پورے تام جھام کے ساتھ عدالت پہنچ جاتے ہیں۔ کوئی ان سے یہ پوچھنے کی ہمت نہیں کرتا کہ حضور والا، آپ اب تک کہاں تھے؟ اور اب کیوں اور کیسے تشریف لائے ہیں؟ یہاں ’’کیوں‘‘ اتنا اہم نہیں ہے جتنا ’’کیسے‘‘ ہے۔ کیونکہ وہ پولیس کے محافظ دستوں کے جلو میں، اور بکتر بند گاڑی میں بیٹھ کر تشریف لائے۔ اب ان سے یہ سوال بھی کون کرے کہ وہ خود پولیس تک پہنچے یا پولیس ان تک پہنچی؟ اور اگر وہ خود پولیس تک پہنچے تو کس جگہ پہنچے، اور کیسے پہنچے؟ اور اگر پولیس ان تک پہنچی تو کیسے پہنچی؟ اور کس کی مخبری پر پہنچی؟ اگر پولیس ہی ان تک پہنچ گئی تھی تو اس کارنامے پر پولیس کو انعام ملنا چاہئے کہ اس نے ایک نہایت ہی اہم مفرور ملزم کو پکڑ لیا؟ مگر نہیں، ایسا نہیں ہوا۔ بھلا، جس مفرور ملزم کو پولیس کی بے شمار گاڑیوں کے جھرمٹ میں ایک ایسے راستے سے عدالت پہنچایا جائے، جس راستے سے عام آدمی اندر نہیں جا سکتا، اس سے یا اس کے محافظوں سے یہ سوال کیسے کیے جا سکتے ہیں؟ خیر، ہم نے یہ سب کچھ دیکھا، اور اس کے بعد راؤ انوار کے بارے میں خبریں پڑ ھنا چھوڑ دیں۔ اب تو ہم اس کہانی یا اس ناول کا انتظار کریں گے جو ان پر لکھا جائے گا۔ مگر یہ کہانی یا ناول لکھے گا کون؟ اور کوئی لکھے گا بھی یا نہیں؟ اگر کوئی لکھنے والا لکھے، تو اس کہانی یا ناول کا نام ہم تجویز کئے دیتے ہیں۔ اس کا نام ہونا چاہئے ’’چھلاوا‘‘۔ اب ہم ایک خوشگوار حیرت کا ذکر بھی کر دیں۔ دروازے کی گھنٹی بجی، معلوم ہوا کہ ہمارے لئے کوئی گلدستہ لایا ہے۔ ہم دوڑے دوڑے دروازے پر پہنچے۔ دیکھا، ایک صاحب نہایت ہی شاندار اور بہت ہی قیمتی گلدستہ لئے کھڑے ہیں۔ یہ کیا ہے؟ ہم نے پوچھا۔ ’’یہ ڈی ایچ اے انتظامیہ کے سربراہ کی طرف سے تحفہ ہے‘‘۔ ان صاحب نے بتایا۔ ’’کس خوشی میں؟‘‘ ہمیں واقعی حیرت ہوئی کہ آخر یہ کیا موقع ہے کہ ایسا خوش نما تحفہ ہمیں دیا جا رہا ہے۔ ’’آپ کو جو تکلیف ہو رہی ہے، اس کے لئے‘‘۔ اچھا!؟ ہماری تکلیف اور ہماری پریشانی کا احساس ہے ڈی ایچ اے انتظامیہ کو؟ ہم حیران بھی ہوئے اور خوش بھی۔ واقعی، آج کل ہم ایسی پریشانی میں گھرے ہوئے ہیں جس پر صبر کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے علاقے میں انڈر پاس اور فلائی اوور بن رہے ہیں۔ اردگرد کی ساری سڑکیں توڑ دی گئی ہیں۔ اور وہ گاڑیاں، رکشا اور موٹر سائکلیں جو بڑی سڑک سے گزرتی تھیں اب ہماری اس گلی سے گزر رہی ہیں جس میں گنتی کے چار گھر ہیں۔ اب ہم ہیں اور دن رات کی ٹوٹوں پوپوں۔ ہم گھر سے باہر نکلتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں اور اندر داخل ہوتے ہوئے بھی، کہ کہیں ہڈی پسلی ایک نہ ہو جائے۔ وعدہ کیا گیا ہے کہ چھ مہینے میں کام مکمل ہو جائے گا اور ہم راستے کی کسی رکاوٹ کے بغیر اپنے گھر پہنچ جایا کریں گے۔ ہم پریشان تھے۔ ہم غصے میں تھے۔ مگر ان پھولوں نے ہمارا سارا غصہ اور ہماری ساری تکلیف دور کر دی ہے۔ دیکھنے کو یہ گلدستہ ایک چھوٹا سا علامتی قدم ہے لیکن یہی چھوٹے چھوٹے قدم اشارہ اور کنایہ ہوتے ہیں انسانی جذبوں کی گہرائی کا۔ انسانی یگانگت اور انسیت کا۔ اسی لئے تو بزرگ کہہ گئے ہیں دل بدست آو کہ حج اکبر است۔ اسی جذبے کا اظہار ایک ہندی شاعر نے بھی کیا ہے وہ بھی پڑھ لیجئے۔ کیدار ناتھ سنگھ ہندی کے معروف شاعر تھے۔ حال ہی میں ان کا انتقال ہوا ہے۔ شمیم حنفی صاحب نے ان کی یہ نظم ہمیں بھیجی ہے۔
اس کا ہاتھ
اپنے ہاتھ میں
لیتے ہو ئے میں نے سوچا
دنیا کو
ہاتھ کی طرح گرم
اور سندر ہونا چاہئے
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker