کالملکھاریمسعود اشعر

پچیس پچیس، چھبیس چھبیس۔۔آئینہ/مسعود اشعر

کنویں کے پاس ایک آدمی کھڑا آوازیں لگا رہا تھا ”پچیس پچیس… پچیس پچیس‘‘۔ ایک صاحب ادھر سے گزرے تو پوچھا ”یہ تم کیا گنتی گن رہے ہو؟‘‘۔ اس آدمی نے ان صاحب کو بھی اٹھایا اور کنویں میں پھینک دیا۔ اب وہ کہہ رہا تھا ”چھبیس چھبیس… چھبیس چھبیس‘‘۔ کیا ایسا نہیں لگتا کہ ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے؟ جو بھی بولے اسے کنویں میں پھینک دو۔ یہ بھی نہ بتاؤ کہ تمہیں کنویں میں کیوں پھینکا جا رہا ہے۔ جرم بعد میں تلاش کرو۔ چونکہ ہمارے وزیر اعظم نے بائیس سال پہلے تہیہ کیا تھا کہ وہ کسی کو نہیں بخشیں گے، تو اب ایسا ہونا ضروری ہے۔ جب تک اس ملک سے کرپشن کی جڑیں تک کاٹ کر نہیں پھینک دی جائیں گی اس وقت تک یہی ہوتا رہے گا۔ گنتی جاری ہے۔ گنتی جاری رہے گی۔ مچا لو جتنا شور مچا سکتے ہو۔ چیخ لو جتنا بھی چیخ سکتے ہو۔ بلکہ ہمارے ایک جید کالم نویس کے بقول پنڈی سے اٹھے بقراط اعظم تو بار بار یاد دلا رہے ہیں کہ ابھی تو چیخیں اور بھی نکلیں گی۔ اور گنتی بڑھتی ہی جائے گی۔ ملتان کے طارق میاں پکڑے گئے کہ انہوں نے جج صاحب کی ویڈیو بنائی تھی۔ لیکن جج صاحب سے کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ نواز شریف کے پاس کیا لینے گئے تھے اور انہیں مدینہ منورہ میں حسین نواز کے ساتھ بات چیت کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی۔ اور وہ بھی نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنانے کے بعد؟


بہرحال، اب یہ معاملہ عدالت میں ہے اور یہ تمام باتیں عدالت میں ضرور پوچھی جائیں گی اس لئے اسے ایک طرف رکھ دیجئے‘ اور چیخوں کی بات کیجئے۔ خیر چیخیں تو یوں بھی نکلنا ہی تھیں۔ اگست میں بجلی اور گیس کے بل آنے دو۔ پھر دیکھو کہ کیسی فلک شگاف چیخیں نکلتی ہیں۔ معاشیات کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر اور معاونین خود ہی خبردار کر رہے ہیں کہ ابھی تو معاشی حالات اور بھی خراب ہوں گے۔ مگر وہ تسلی بھی دے رہے ہیں کہ اس خرابیٔ بسیار کے بعد اس مملکتِ اللہ بخش کی حالت ٹھیک ہو جائے گی۔ لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ زلف کے سر ہونے تک ہم کیسے جیتے رہیں گے۔ یہاں ہم نے مملکت اللہ بخش جان بوجھ کر لکھا ہے۔ پچھلے کالم میں ہم نے لکھا تھا کہ مملکت خدا بخش کی ترکیب ہمارے فارسی کے استاد معین نظامی صاحب نے اختراع کی تھی۔ نظامی صاحب نے یاد دلایا کہ اصل میں تو یہ ترکیب ہمارے فلسفے کے استاد ڈاکٹر ساجد علی کی ایجاد ہے۔ اب ڈاکٹر ساجد علی فرماتے ہیں کہ یہ کام حافظ صفوان کا ہے۔ حافظ صفوان نے مملکت اللہ بخش لکھا تھا۔ حافظ صفوان قاموسی آدمی ہیں۔ انہوں نے جدید اصولوں پر مبنی لغت بھی تیار کی ہے اور اگر مقتدرہ قومی زبان (آج کا ادارہ فروغ قومی زبان) ان کے ساتھ تعاون کرتا تو اردو کو ایک جامع لغت مل سکتی تھی۔
لیجئے ہم چیختے چلاتے کہاں سے کہاں نکل گئے۔ ہمارے وزیر اعظم امریکہ تشریف لے گئے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ سے ان کی ملاقات ہو گی۔ شیخ رشید کہتے ہیں کہ یہ ملاقات بہت ہی بار آور ثابت ہو گی کیونکہ امریکی صدر اور عمران خاں کے مزاج ایک ہی جیسے ہیں۔ یہ سنا تو ہم چونکے۔ ہمارے خیال میں یہ ایک ہی جیسے مزاج کی بات خطرناک بھی ہے۔ ہم عمران خاں صاحب کا مزاج بھی جانتے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی۔ کہیں انگریزی محاورے کے مطابق ”اصطبل‘‘ کی صفائی کا مسئلہ بیچ میں نہ آ جائے۔ خیر، تسلی کی بات یہ ہے کہ سپہ سالار بھی وہاں موجود ہوں گے۔ طالبان سے بات چیت شروع ہونے کے بعد افغانستان کا مسئلہ بھی کسی کروٹ بیٹھتا نظر آ رہا ہے۔ ہم نے مشرقی سرحد پر بھی امن و شانتی کا پرچم لہرا دیا ہے۔ عالمی عدالت کے فیصلے کے بعد کلبھوشن یادیو کو اپنے سفارتی نمائندوں سے ملاقات کی اجازت بھی دے دی ہے۔ ادھر کرتار پور کی راہ داری بھی دونوں ملکوں کے در میان امن و امان کے لیے نئی فضا پیدا کر سکتی ہے۔ مجبوراً ہی سہی، ہم نے حافظ سعید صاحب کو بھی گرفتار کر لیا ہے اور دہشت گردی کے دوسرے راستے بھی بند کر نے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس لیے، ہم مشرقی سرحد سے فارغ ہونے کے بعد اپنی مغربی سرحد پر پوری توجہ دے سکتے ہیں۔ پختونخوا میں قبائلی علاقے ضم ہو نے کے بعد وہاں انتخابات بھی ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد مغربی سرحد اور بھی محفوظ ہو گئی ہے۔ اس طرح بھی افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ادھر وزیر تعلیم شفقت محمود نے مدارس میں اصلاح کی خوش خبری سنائی ہے۔ ان کو بھی جدید تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے نصاب میں جدید علوم بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ ابھی تک یہ تو وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ جدید مضامین کیسے شامل کئے جائیں گے اور یہ جدید علوم کیا ہوں گے؟ لیکن اس کی جانب پیش قدمی ہی نئے راستے کھولے گی البتہ یہ خطرہ بہرحال موجود ہے کہ ان مدارس کے منتظمین کی طرف سے مزاحمت کی جائے گی کیونکہ ان کا دار و مدار ان مدارس پر ہی ہے۔ اس کے جواب کے لیے ہم نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ صرف پچھلے دو تین سال میں یہاں سے فارغ ہونے والے طلبہ کا سروے کرا لیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ یہ طلبہ فارغ ہونے کے بعد ہمارے معاشرے کے کن شعبوں میں کام کر رہے ہیں؟ ظاہر ہے ہمارے ملک میں اتنی مسجدیں اور اتنے مدارس تو ہیں نہیں کہ وہ ان تمام طلبہ کو روزگار فراہم کر سکیں۔ علمائے کرام کو سمجھایا جائے کہ ان طلبہ کو معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کے لئے جدید علوم کی ضرورت ہے۔ چونکہ مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی تفصیل ہمارے سامنے نہیں آئی ہے‘ اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس کے لئے اساتذہ کہاں سے آئیں گے؟ اور ان کی تنخواہیں کون دے گا؟ یہاں وہ بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں جن کے والدین سکولوں کی فیس اور باقی خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔ ان مدارس میں اصلاح کے بعد ان کا کیا انتظام ہو گا؟ یہ سب سوچنے کی باتیں ہیں۔


خیر، یہ سب تو اپنی جگہ۔ لیکن اس مملکت اللہ بخش کے اندر جس طرح مخالف جماعتوں کو دیوار سے لگانے کے جتن کئے جا رہے ہیں‘ وہ کسی طرح بھی اس ملک کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔ ابھی ہم اس بات پر خوش ہیں کہ عام آدمی کا غصہ گرم پانی کے ابال کی سطح پر نہیں آیا ہے اور کھاتا پیتا بالائی متوسط طبقہ ابھی تک عمران خاں صاحب کی شخصیت کے سحر میں گرفتار ہے۔ مگر کب تک؟ اگر اسی طرح اپنے مخالفوں کو کنویں میں پھینکنے کی گنتی جاری رہی تو لوگ کب تک خاموش رہیں گے؟ ایک تو مہنگا ئی، اوپر سے یہ پکڑ دھکڑ۔ آپ تو خود ہی پارہ چڑھا رہے ہیں۔ یہ جو سینیٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاری ہے وہ حکومت کو زچ کرنے کے لیے ہی تو ہے۔ ورنہ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی میں کیا خرابی ہے؟ بلا شبہ، وہ بالکل ہی غیر معروف انسان تھے۔ سب نے مل کر ہی انہیں چیئر مین بنایا۔ لیکن سینیٹ کے ہر اجلاس میں ان کا رویہ خالصتاً جمہوری ہوتا ہے۔ انہیں اس منصب سے ہٹانے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ صاف ظاہر ہے، اس وقت وہ حکومت کے غیر جمہوری اقدام کی بھینٹ چڑھائے جا رہے ہیں۔ اب یہ کہنا کہ اگر ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو گئی تو حکومت کو کوئی نقصان نہیں ہو گا‘ اپنے دل کو تسلی دینا ہی ہو گا۔ حکومت کی ساکھ پہلے ہی کچھ اچھی نہیں ہے۔ اس کے بعد یہ ساکھ اور بھی بگڑ جائے گی۔ اور اگر یہ تحریک ناکام بنانے کے لیے کچھ اور راستے اختیار کیے گئے تو وہ بھی حکومت کے حق میں بہتر نہیں ہوں گے۔ اب پھر یاد کیجئے اس آدمی کو جو کنویں کے پاس کھڑا ”پچیس، پچیس‘‘ پکار رہا تھا۔ اور ہر آنے جانے والے کو کنویں میں دھکیل کر اپنی گنتی میں اضافہ کر رہا تھا۔ وہ یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ آ خر وہ کتنے لوگوں کو کنویں میں پھینکے گا۔ اور یہ لوگ کب تک اس کے جھانسے میں آتے رہیں گے ۔ آخر کوئی تو آئے گا جو اس کا ہاتھ پکڑے گا۔ ہم یہ کہنے کی جرأت نہیں کر سکتے کہ دوسروں کو کنویں میں پھینکنے والا ایک دن خود بھی اسی کنویں کی نذر ہو جائے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker