اختصارئےسرائیکی وسیبلکھاریمحمود احمد چودھری

مظہر کلیم ایم اےاور ان کے پبلشرز ۔۔ محموداحمد چودھری

بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول عمران سیریز کے خالق معروف ادیب، لکھاری، قانون دان اور صدا کار مظہر کلیم ایم اے بھی اب ہم میں نہیں رہے۔ مظہر کلیم ایم اے کا تعلق ملتان سے تھا ، پیشہ کے اعتبار سے قانون دان تھے مگر شروع سے ہی ادب سے وابستہ تھے مرحوم نے سسپنس اور جاسوسی پر مبنی بے شمار کہانیاں لکھیں مگر شہرت عمران سیریز سے پائی جو ادب سے محبت کرنےوالے بچوں اور بڑوں میں نہ صرف بڑے شوق سے پڑھی جاتی تھیں بلکہ پسند بھی کی جاتی تھیں ۔ مظہر کلیم ایم اے کا اصل نام مظہر نواز خاں شکیل تھا مظہر کلیم ایم اے کو1965 کی دہائی میں جمال پبلشرز بیرون بوہڑ گیٹ کے مالک بی اے جمال نے متعارف کرایا تھا اور مرحوم کی ابتدائی چار کتابیں ”ماکازونگا،شوگی پاما،سابو لیٹ آگر، ٹرنٹولا“ جمال پبلشرز سے ہی شائع ہوئی تھیں اور ان کتابوں کی مشرقی پاکستان موجودہ بنگلہ دیش کے بڑے شہروں چٹا گانگ، ڈھاکہ، کومیلا، نارائن گنج، کھلنا، باری سیال میں ریکارڈ فروخت ہوئی تھی ۔ مرحوم مظہر کلیم ایم اے مغربی پاکستان کی طرح مشرقی پاکستان میں بھی بے حد مقبول تھے بعد ازاں مرحوم نے رضی محمد خاں کراچی والے سے مل کر اپنا ادارہ خان برادرز کے نام سے بنایا اور اس ادارے کے زیر اہتمام مختلف کتب شائع کرتے رہے پھر رضی محمد خاں بھی وفات پا گئے مرحوم مظہر کلیم ایم اے کی تین چار کتابیں ممنون حسین زیدی نے بھی شائع کیں۔ بعد ازاں مظہر کلیم ایم اے یوسف برادرز ملتان سے وابستہ ہوگئے اور مرتے دم تک اسی ادارے کےلئے کتابیں لکھتے رہے آج کل یوسف برادرز کے مالک اشرف قریشی اپنے صاحبزادے ارسلان قریشی کے نام سے مظہر کلیم ایم اے کی کتابیں شائع کررہے ہیں ۔ مرحوم کو سنسنی خیز سلسلہ وار کہانیاں لکھنے پر بھی مکمل عبور حاصل تھا ایک دور میں ان کی مشہور سلسلہ وار کہانی ”سرکٹا “ روزنامہ آفتاب ملتان میں بھی شائع ہوتی رہی ”سرکٹا“ اتنی مقبول ہوئی کہ لوگ اگلے دن کے اخبار کا انتظار کرتے تھے اور اس میں اتنا ہارر تھا کہ اکثر لوگوں نے خوف کے مارے رات کو گھروں سے نکلنا چھوڑ دیا تھا ۔ مرحوم سے میری ملاقات کچھ عرصہ قبل ضلع کچہری ملتان میں ان کے چیمبر میں ہوئی جمال پبلشرز کے مالک بی اے جمال بھی میرے ہمراہ تھے ۔ مرحوم بڑی خوش دلی ، خندہ پیشانی سے ملے اور اپنی زندگی میں ہونےوالے کئی واقعات بتائے۔وہ رعشہ کی بیماری میں مبتلا تھے دوران گفتگو ان کے ہاتھ اور جسم پر مسلسل کپکپی طاری رہی ۔ انہوں نے دوبارہ میرے آفس آکر ملنے کا وعدہ بھی کیامگر بد قسمتی سے مصروفیات کے باعث دوبارہ ملاقات نہ ہوسکی مرحوم جتنے اچھے اور بڑے لکھاری اور قانون دان تھے اس سے بڑے انسان تھے مظہر کلیم ایم اے کی وفات سے سر زمین ملتان نہ صرف بڑے لکھاری ، اصول پسند قانون دان بلکہ ایک خوش اخلاق انسان سے محروم ہوگئی ہے مرحوم کے چاہنے والے اور پڑھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جو اب ہمیشہ ان کی کمی محسوس کرتے رہیں گے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker