کالملکھاریمہتاب حیدر تھہیم

استاد نصرت فتح علی خان کی یاد میں ( وفات : 16 اگست 1997 ء ) ۔۔ مہتاب حیدر تھہیم

یہ 16 اگست 1997 کا دن تھا بھادوں کی ایک دوپہر میں اور میرے دوست خالد رفیق اور ڈ اکٹر ظفر ملغانی حسب سابق اپنی متبادل اتوار کی پکنک کم ملاقات کے لئے نکلے اور آج پڑاؤ تھا ڈاکٹر صاحب کا فیورٹ ریسٹورنٹ نواب ہوٹل ، ان دنوں موبائل بہت کم ہوتے تھے میں نے اپنی الیکٹرونکس کے شوق اور کچھ شوبازی کی تسکین کے لئے پاکٹل کا کنکشن لے رکھا تھا ۔
ایک تو بڑا موٹورولا کا سیٹ اور پھر گھر والوں کو چھوٹی بہن اور بھائی کو کہہ رکھاتھا کہ مس کال کرتے رہیں تاکہ میں اردگرد لوگوں کو موبائیل فون کی مو جود گی کا احساس دلا سکوں ، ہم نے ابھی کھانے کا آرڈر دیا اور انتظار کے ساتھ ساتھ بات چیت کر رہے تھے کہ گھر سے مس کال آئی میں موبائل فون نکالا اسی دوران میرے دو اور دوستوں کی کال بھی آئی میں نے لینڈ لائن سے گھر کا نمبر ملایا تو چھوٹی بہن نے فون اٹھایا اور پوچھا تم کہاں ہو میرے بتانے پر کہا کہ ٹی وی میں بریکنگ نیوز چل رہی ہے کہ لندن میں استاد نصرت فتح علی خان کا انتقال ہو گیا ہے ۔ میں نے جس انداز سے پوچھا تو ارد گرد کے لوگ متوجہ ہو گئے میرے بتانے پر تقریباً سبھی لوگ ششدر و حیران رہ گئے کچھ غم کی سی کیفیت میں نظر آئے میں نزدیک پڑی کرسی پر اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھ گیا کہ اس ابھرتے سورج کو موت کا منحوس گرہن اور اچانک ، ڈاکٹر ظفر نے مجھے تسلی دی اور ہم واپس چل پڑے۔ جب ہم جا رہے تو میں نے زبردستی گاڑی کو صدر بازار موڑا اور استاد جی کا نیا والیم مینوں یاداں تیریاں آؤندیاں نیں خریدا تھا اور جاتے ہوئے میں اسی گیت کو سنتے ہوئے اپنے سرکو گھٹنوں میں دئے استاد جی کو آنسوؤں کا نذرانہ عقیدت پیش کرتا رہا۔
استاد جی سے میری پہلی ملاقات اپنے گھر ممتاز آ باد ملتان میں 22 جون 1984 کو ہوئی ہمارے گھر کے ساتھ ایک درویش صفت انسان علی محمد قادری کا آستانہ ہے آپ استاد جی کے پیر بھائی ہیں پیر صاحب کے سالانہ عرس کی محفل سماع ہمارے گھر پر ہوتی تھی میرے والد صاحب مشتاق حسین تھہیم مرحوم قوالی کے بے انتہا شوقین تھے اور ان سے یہ شوق مجھے ورثے میں ملا ہے۔ ان دنوں استاد نصرت فتح علی اور ان کے کزن مجاہد مبارک علی کی جوڑی مشہور تھی آپ نے اپنا قول کا کلام من کنت مولاہ بھی پیش کیا اور آخر میں آپ نے کہا کہ قوالی کی محفل کا اختتام ہم رنگ پر کرتے ہیں تو میرے ذہن میں قوالی اور رنگ کے فرق کا سوال اٹک گیا میری درمیان میں استاد جی ملاقاتیں ہوئیں مگر ان کی مصروفیت کو دیکھتے ہوئے پوچھ نہ سکا اور آخر کار استاد جی سے آخری ملاقات میں یہ سوال پوچھنے اور فن کے دیوتا کی زیارت کا موقع کراچی ائیر پورٹ کے غیر ملکی ڈیپارچر لاونج میں ہوئی جب وہ یورپ جارہے تھے اور ہم کمپنی کے کام سے ملائیشیا ان دنوں بھی فلائٹس لیٹ ہورہی تھیں میں نے دیکھا کہ ایک لانگ کوٹ اور ہیٹ میں استاد جی ایک ویٹنگ کاوچ پر بیٹھے تھے ان کو دیکھ کر میں ان کی طرف بڑھا سلام کیا اور تقریباً دس سال قبل ملاقات کو قادری صاحب کا ریفرنس دیا تو استاد جی بڑی گرم جوشی سے ملے میرے اصرار پر کافی پینے پر رضا مند ہوئے میں چاہتا تھا ان کے گھٹنے دباؤں کیونکہ وہ بار بار ان کو سہلا رہے تھے میں شدید ایکسائیٹڈ تھا ان سے اپنا سوال پوچھا تو آپ نے پہلے قول بتایا پھر قول ثابت اور اس پر قائم رہنے والوں کا تعارف اور بتایا کہ سچا قوال وہی ہے جو قول ثابت ” من کنت مولاہ ٫ ہے اس کے تکرار کرنے والے کو قوال کہتے ہیں اور سلسلہ ولایت پر قائم بزرگان کے ذکر کو رنگ کہا جاتا ہے اس کے بعد استاد جی اپنی پرواز میں سوار ہو گئے اور پھر آج سے 23
برس قبل آج ہی کے دن فن موسیقی کا سورج ایک ایسی منزل کی طرف روانہ ہوگیا جس کی ٹکٹ ون وے ہے ، مگر آپ اپنے مداحوں کے دلوں میں زندہ و جاوید ہیں

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker