16 اگست کا سورج جب بھی طلوع ہوتا ہے تو تمام تر روشنی چمک اور اپنے تمازتوں کے باوجود اس کے ساتھ ایک بڑی عجیب و غریب قسم کی اداسی اور خاموشی بھی طلوع ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ موسیقی کے طلوع ہوتے ہوئے سورج اور بام عروج کو پہنچے ہوئے یا پہنچنے والے ایک چاند کے گہنائے جانے کا دن ہے استاد نصرت فتح علی خان سے وابستگی بارے تو بچپن سے تھی کیونکہ یہ ملتان میں ایک اپنے پیر بھائی کے ہاں قوالی کے لیے آیا کرتے تھے اور اس وقت ان کے ساتھ ان کے کزن مجاہد مبارک علی خان بھی ہوا کرتے تھے اس وقت سے اس شاندار موسیکار شاندار گلوکار سے محبت میرے دل میں بیٹھ گئی ۔ابھی مجھے شاید نہ موسیقی کا پتہ تھا نہ اس کلام کی گہرائیوں کا جو وہ پڑھا کرتے تھے لیکن ایک بات ضرور تھی کہ یہ شخصیت بڑی مسحور کن تھی اور بڑے شاندار انداز میں اپنے کلام سے پہلے موضوع کو واضح کرتے تھے ۔ تاکہ سامعین کو اس کی گہرائی بھی سمجھ ا سکے اور سامعین ذہنی طور پر "وضو” کر سکیں اس متبرک کلام کی تمام تر پاکیزگی کو اپنے اندر سمانے کے لیے تیار ہو جائیں ۔
وہ اکثر اوقات بتا دیا کرتے تھے کہ یہ کلام کی وابستگی اس طرح سے ہے اور اس کو کس رنگ میں سننا ہے آ پ ایک بڑے شاندار قوال تھے اور شاندار قوال ہونے کے ساتھ ساتھ شاندار انسان بھی تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسے لگا کہ آپ نہ شاندار گلوکار تھے بلکہ آ پ موسیقی کے ایک ایسے دیوتا تھے جو اپنے ساتھ بہت سارے راز لائے تھے اللہ جانے کتنے راز ابھی انہوں نے دنیا کو بتائے اور کتنے باقی تھے کہ ذات باری تعالی نے ان کو اپنے پاس بلا لیا آ پ نے ہمیشہ قوالی کو قوالی اور رنگ کو رنگ کے انداز میں پڑھا اور ہمیشہ جب بھی کبھی یہ کلام من کنت مولا پڑھتے اللہ جانے اس میں کیا گہرائی ہوتی کہ وہ گہرائی ہمیشہ کوئی اور گلوکار کے ہاں اس کی کمی ہمیشہ محسوس کی گئی۔
جب میں فارماسوٹیکل کے سیلز کے پروفیشن میں تھا تو ظاہر ہے کاروبار میں اتار چڑھاؤ آ تا ہے اور میرا دل بڑا اداس تھا میں کراچی اواری ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا وہاں پر میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ آ رہے ہیں اور وہ اواری کی بیسمنٹ میں جا رہے ہیں میں نے جب پوچھا تو پتہ چلا کہ نیچے نصرت فتح علی خان صاحب کا ایک شو ہے اور یہ غالبا کوئی کسی فیملی کے لوگوں نے اپنے لیے کروایا تھا تو عام آ دمی کو وہاں جانے کی اجازت نہ تھی ۔
خیر میں نیچے گیا تو وہاں پہ کچھ لوگوں نے میرا تعارف حاصل کیا تو انہوں نے کہا یہ فیملی منکشن ہے خیر ہمیں پروگرام میں شرکت کی اجازت مل گئی اس وقت جب میں داخل ہوا تو خان صاحب من کنتم مولا کے کلام کی ابھی ابتدا ہی کر رہے تھے لیکن جو اس جوش و جذبے کو جو میں نے محسوس کیا وہ کمال تھا اور خان صاحب کے کلام میں بڑا عجیب رنگ تھا لیکن مجھے اندازہ یہ نہیں تھا کہ ہمارے درمیان یہ چمکتا ہوا سورج بہت جلد غروب ہونے والا ہے کیونکہ اس کے کچھ عرصے بعد لاہور میں ایک لائیو ریکارڈنگ میں خان صاحب کو دیکھا اور بعد میں یہ پروگرام ان کا آ خری پروگرام ثابت ہوا دوسرا فتح علی خان صاحب جو موسیقی میں جو منزل حاصل کر گئے جو مقام حاصل کر گئے باقی ان کے قریب تو کیا شاید اس راستے پہ بھی نہ چل سکے اور ان کے نام پہ بہت سارے لوگ بڑے پیسے کما رہے ہیں لیکن حقیقی معنوں میں وہ خدمت جو ادھوری چھوڑ کر گئے اس کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب ان کی محبت مجھے رحمت گرام و فن فیصل اباد لے کر گئی وہاں پر میں نے دیکھا کہ بہت سارے کیسٹس ایسے تھے جو ابھی منظر عام پر نہیں آ ئے تھے بہت سارے کلام ایسے تھے جن کی ماسٹرنگ ہونا بھی باقی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ترجیحات بھی تبدیل ہوئی ہیں اور شاید رحمت گرامو فون بھی اب اس طرح سے ان کلاموں کو سامنے نہیں لا سکا اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ موسیقی کے حوالے سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ترجیحات تبدیل ہو گئی ہیں گو کہ نصرت فتح علی خان صاحب سے محبت کرنے والے موجود ہیں اور نصرت فتح علی خان کی محبت ایک ایسی چیز ہے جب تک موسیقی رہے گی اور لوگوں کے دلوں میں رہے گی لیکن اب نئے انداز نہیں چیزوں کے حوالے سے شاید بہت کچھ ایسا ہے جو سامنے ا سکتا تھا وہ سامنے نہیں آ سکا لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ جب بھی 16 اگست کا سورج طلوع ہوتا ہے اللہ جانے خان صاحب کی محبت مجھے گھیر لیتی ہے دل اداس ہوتا ہے اور ہمیشہ میرا دل چاہتا ہے کہ خان صاحب میرے سامنے بیٹھے ہوں اور میں کم از کم ان کا ایک کلام ان کے سامنے بیٹھ کر پڑھوں جس میں وہ کہتے تھے کہ "نہ جاویں ڈھولنا راہواں اچ رول ناں”
کیونکہ اس کلام میں خان صاحب نے کمال انداز سے روٹھنے اور منانے کی باتیں کی ہیں اور اللہ جانے کہ وہ کیا چیز تھی کہ خان صاحب ہم سے بڑی جلدی ” رس ” کے چلے گئے کیونکہ ہم نے ” ابھی تو دکھ سکھ پھولنے تھے ”
فیس بک کمینٹ

