پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائیریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے خلاف سخت پریس کانفرنس منعقد کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس شخص کا بیانیہ اب سیاسی دائیرے سے نکل کر قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔ دشمن ممالک اس بیانیہ کو پھیلانے پر وسائل صرف کررہے ہیں۔ پاک فوج خاموشی سے یہ سب کچھ نہیں دیکھے گی۔
تحریک انصاف اور عمران خان کی فوج مخالف حکمت عملی پر پاک فوج کے ترجمان کی برہمی قابل فہم ہوسکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی پاک فوج کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اگر عمران اپنی ذات کے حصار میں گھرے ہوئے ایک ’ذہنی مریض‘ ہیں تو فوج کو ان کا نوٹس لینے کی بجائے، انہیں نظر انداز کرنے اور ان کی بے بنیاد اور جھوٹی باتوں کو از خود اپنی موت مرنے کا موقع دینا چاہئے ۔ البتہ پاک فوج اگر کسی مقید سیاسی لیڈر کے بیانات کو قومی سلامتی کے ساتھ جوڑ کر اس کا مقابلہ کرنے اور دھمکیوں والا لب و لہجہ اختیار کرے گی تو یوں محسوس ہوگا کہ فوج اور عمران خان و تحریک انصاف کوئی ہم پلہ قوتیں ہیں جو اپنے اپنے مفاد کے لیے دست و گریبان ہیں۔ فوج کو اس حد تک نیچے آنے کی بجائے، یہ معاملہ حکومت اور سیاسی پارٹیوں کے حوالے کردینا چاہئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا یہ مؤقف بھی واضح اور شفاف ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ سیاست دان سیاست کریں اور فوج کو اپنا کام کرنے دیں۔ فوج اور عوام کے بیچ افتراق ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے۔ البتہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ سول ملٹری تعلقات کی تاریخ اور پاکستان میں رونما ہونے والے متعدد سانحات کی روشنی میں یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ اگر فوج سیاسی معاملات میں الجھنا نہیں چاہتی تو وہ سیاسی لیڈروں اور ان کی بیان بازی پر اپنی صلاحیت کیوں صرف کرتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ آئی ایس پی آر نے آج ایک پرزور پریس کانفرنس میں عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف مقدمہ پیش کرنے کی ضرورت محسوس کی؟
یہ طرز عمل اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ پاک فوج پروفیشنل ہونے کے باوجود ملکی سیاسی عمل کو قومی سکیورٹی کے ساتھ منسلک کرکے اپنے لیے سیاسی معاملات میں سپیس پیدا کرتی ہے۔ یہ بحث پیچیدہ اور گنجلک ہے۔ اس وقت اس میں الجھنے کی بجائے جنرل احمد شریف کےاس بیان پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے کہ فوج سیاسی معاملات میں فریق نہیں بننا چاہتی۔ اس بیان کی بنیاد پر یہ امید باندھنی چاہئے کہ فوج مستقبل میں اپنی زیادہ توجہ عسکری و سکیورٹی معاملات پر مبذول کرے گی اور سیاسی امور سے آہستہ آہستہ کنارہ کشی کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ملک کی سیاسی حکومت پر بھی اس بارے میں بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
فوج اور سیاست کا تعلق صرف ملک میں حکومت سازی یااہم پالیسی معاملات میں اثر و رسوخ تک محدود نہیں ہے۔ ماضی میں سیاسی حکومتوں کا تختہ الٹ کر ملک میں غیر آئینی طور سے مطلق العنان طریقوں سے حکومت کرنے والے جرنیلوں کو ان کا انفرادی فعل قرار دے کر ایک طرف رکھ بھی دیا جائے تو بھی یہ تاثر مٹانے کے لیے سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے کہ فوجی قیادت ہر منتخب سویلین حکومت کو اپنے زیر اثر رکھنا چاہتی ہے۔ اس کے متعدد مظاہر موجودہ قومی منظر نامہ میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ خاص طور سے اہم سویلین عہدوں پر حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی افسروں کی تقرریوں سے اس اثر و رسوخ میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ فوجی قیادت خلوص دل سے سول حکومتوں کی مدد کرنے کے لیے اپنی صفوں میں بہتر صلاحیتوں کے حامل لوگوں کو مختلف اداروں میں خدمات انجام دینے کے لیے بھیجتی ہو۔ البتہ سول ملٹری تعلقات پر ہونے والی شدید اور سنگین بحث کی موجودہ صورت حال میں بہتر یہی ہوگا کہ نئے چیف آف ڈیفنس فورسز اس طریقہ کار کی حوصلہ شکنی کریں۔ سول حکومت کو پیغام دیا جائے کہ ملکی معاملات اور ادارے چلانے کے لیے اسے فوجی افسروں پر انحصار کرنے کی بجائے، خود اپنی صلاحیتیں بہتر بنانی چاہئیں تاکہ سول ملٹری تعلقات کا گدلا پانی شفاف ہوسکے۔
فوری طور پر اس کا آغاز سفارت کاری کے شعبہ سے ہوسکتا ہے۔ فورسز کے نئے سربراہ کو یہ اصولی فیصلہ کرلینا چاہئے کہ مستقبل میں مسلح افواج کے افسروں کوسفارتی عہدے نہیں دیے جائیں گے۔ اور جو افسر اس وقت کسی نہ کسی مجبوری کی وجہ سے ایسی پوزیشنوں پر کام کررہے ہیں، انہیں وہاں سے ہٹانے کا عمل شروع کیا جائے۔ اس کی ایک وجہ تو یہی ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ ماہر اور قابل لوگوں پر مشتمل ہے۔ ملکی تاریخ کے نشیب و فراز میں مخلتف چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے، اس سروس نے سفارتی مہارت حاصل کی ہے۔وہ دنیا میں پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ایسے میں کسی دوسرے ادارے مثلاً فوج سے آیا ہؤا کوئی افسر اپنی تمام تر خوبیوں کے باوجود اس ہنرمندی کامظاہرہ نہیں کرسکتا جو اس سروس کے لوگوں کو اندرونی تربیت ، عالمی مشاہدے اور سفارتی سطح پر مواصلت کی وجہ سے حاصل ہے۔ ایسا ایک اقدام پاک فوج کی غیر جانبداری کے بارے میں ایسا طاقت ور بیانیہ تشکیل دے سکتا ہے کہ فوج مخالف عناصر کی تنقید کا منہ موڑا جاسکے گا۔Pakistani Cuisine Recipes
اسی معاملہ کا ایک پہلو ملکی معیشت اور پراپرٹی ڈیویلپمنٹ کے کام میں عسکری اداروں اور خاص طور سے فوج کا اسٹیک ہے۔ فوجی فاؤنڈیشنز کے زیر اہتمام چلنے والے صنعتی و تجارتی ادارے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ قومی پیداوار یا آمدنی میں ان کا حصہ کیا ہے۔ ان اداروں کا انتظام عام طور سے فوجی قیادت یا ریٹائرڈ افسروں کے پاس ہوتا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کس ادارے کو کس نام سے غیر معمولی سبسڈی یا ٹیکس میں چھوٹ حاصل ہے۔ اسی طرح ملک بھر میں عسکری اداروں کے زیر اہتمام ہاؤسنگ اسکیمز کا جال بچھا ہؤا ہے۔ یہ کام شہدا کی مدد کے لیے بننے والی فاؤنڈیشنز کی مالیات مضبوط بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا لیکن گزشتہ چند دہائیوں سے پراپرٹی کے کام نے ایک بہت بڑے کمرشل منصوبے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اس حوالے سے زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے کے الزامات اور اس بارے میں زور ذبردستی کے قصے بھی زبان زد عام رہتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بجا طور سے واضح کیا ہے کہ ملکی فوج اشرافیہ کی فوج نہیں ہے۔ بلکہ اس کے ارکان کا تعلق غریب، لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس سے ہے۔ لیکن فوج کے زیر اہتمام چلنے والے معاشی منصوبوں کے نتیجے میں ریٹائرمنٹ کی عمر کوپہنچنے والے بہت سے فوجی افسر لوئر مڈل کلاس یا مڈل کلاس سے نکل کر مالی وسائل کے لحاظ سے اشرافیہ کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں۔
چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے پر متمکن ہونے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر اگر کمرشل منصوبوں میں فوج اور فوجیوں کی شراکت داری کا جائزہ لینے، اس میں شفافیت پیدا کرنے اور ان اداروں کا انتظام ماہرین شعبہ یا سویلین عہدیداروں کے حوالے کرنے کا اقدام کریں تو سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے غلط مبحث میں کچھ ٹھہراؤ آسکتا ہے اور فوج بھی بتدریج زیادہ پروفیشنل ادارہ بن سکے گی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر خود مڈل کلاس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں خاص طور سے یہ ادراک ہونا چاہئے کہ ریٹائرمنٹ تک پہنچنے والے فوجی افسر اگر غیر ضروری طور سے مالی وسائل کے مالک ہوں گے تو اس بارے میں تشویش اور سوالوں میں اضافہ ہوگا۔ یہ دو سادہ مگر مؤثر اقدامات فوج اور عوام کے درمیان اعتماد میں اضافہ کا سبب بنیں گے اور فوج کی عزت و وقار میں بھی اضافہ ہوگا۔
ملکی سیاست میں ایک دوسرے کو ملک دشمن یا غدار قرار دینے کی روایت افسوسناک ہے لیکن اگر فوج بھی ملکی سیاست دانوں کے بارے میں ایسےہی بیانات دینا شروع کرے گی تو اس سے یہ سلسلہ تھم نہیں پائے گا بلکہ اس کی شدت اور سنگینی میں اضافہ ہوگا۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی یا لیڈر ملکی مفاد کے خلاف کام کررہا ہے تو آئی ایس پی آر کو اس کا تجزیہ کرنے پر صلاحیت صرف کرنے کی بجائے اس معاملہ پر سول اداروں اور ملکی عدالتی نظام پر اعتماد کرنا چاہئے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بجا طور سے تحریک انصاف پرپابندی لگانے یا خیبر پختون خوا میں گورنر راج کے بارے میں سوالات کا جواب دینے سے گریز کیاہے۔ اور واضح کیا کہ یہ فیصلہ سیاسی حکومت کو کرنا چاہئے۔ اس اسپرٹ کو پھیلانے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت شاید آج سے پہلے اتنی زیادہ کبھی نہیں تھی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی اس پریشانی پر پوری قوم کو ان کا ساتھ دینا چاہئے کہ سیاسی لڑائی میں فوج اور عسکری قیادت کو فریق نہ بنایا جائے۔ خاص طور سے جب کسی سیاسی رویہ کو بھارت جیسا دشمن ملک پھیلانے اور سچ ثابت کرنے پر صلاحیت صرف کرنا شروع کردے تو ملک سے محبت کا تقاضہ یہی ہے کہ متعلقہ لیڈر اور پارٹی اس طرز بیان پر نظر ثانی کریں۔ عمران خان سول حقوق کے حوالے سے فوج کے کردار پر شاکی ہیں لیکن اگر وہ اس مقدمے میں بھارتی اور افغان میڈیا کو اپنا وکیل بنائیں گے تو خود ان کا کیس ہی کمزور ہوگا۔
آئی ایس پی آر کے سربراہ نے یہ مشہور کہاوت سنائی کہ ’ ہر ملک میں ایک فوج ہوتی ہے۔ اگر یہ ہماری فوج نہیں ہوگی تو وہ دشمن کی فوج ہوگی‘۔ اور کہا کہ پاک فوج پاکستان کے دشمنوں اور عوام کے بیچ دیوار بن کر کھڑی ہے۔ اس دیوار کی بنیادیں کمزور کرنے کی بجائے اسے مضبوط کرنے اور سہارا دینے کی ضرورت ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کو بھی یہ بات ماننی اور اس کا اقرار کرنا چاہئے۔
عمران خان کی فوج مخالف حکمت عملی پر پاک فوج کے ترجمان کی برہمی قابل فہم ہوسکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی پاک فوج کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اگر عمران اپنی ذات کے حصار میں گھرے ہوئے ایک ’ذہنی مریض‘ ہیں تو فوج کو ان کا نوٹس لینے کی بجائے، انہیں نظر انداز کرنے اور ان کی بے بنیاد اور جھوٹی باتوں کو از خود اپنی موت مرنے کا موقع دینا چاہئے ۔ البتہ پاک فوج اگر کسی مقید سیاسی لیڈر کے بیانات کو قومی سلامتی کے ساتھ جوڑ کر اس کا مقابلہ کرنے اور دھمکیوں والا لب و لہجہ اختیار کرے گی تو یوں محسوس ہوگا کہ فوج اور عمران خان و تحریک انصاف کوئی ہم پلہ قوتیں ہیں جو اپنے اپنے مفاد کے لیے دست و گریبان ہیں۔ فوج کو اس حد تک نیچے آنے کی بجائے، یہ معاملہ حکومت اور سیاسی پارٹیوں کے حوالے کردینا چاہئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا یہ مؤقف بھی واضح اور شفاف ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ سیاست دان سیاست کریں اور فوج کو اپنا کام کرنے دیں۔ فوج اور عوام کے بیچ افتراق ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے۔ البتہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ سول ملٹری تعلقات کی تاریخ اور پاکستان میں رونما ہونے والے متعدد سانحات کی روشنی میں یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ اگر فوج سیاسی معاملات میں الجھنا نہیں چاہتی تو وہ سیاسی لیڈروں اور ان کی بیان بازی پر اپنی صلاحیت کیوں صرف کرتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ آئی ایس پی آر نے آج ایک پرزور پریس کانفرنس میں عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف مقدمہ پیش کرنے کی ضرورت محسوس کی؟
یہ طرز عمل اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ پاک فوج پروفیشنل ہونے کے باوجود ملکی سیاسی عمل کو قومی سکیورٹی کے ساتھ منسلک کرکے اپنے لیے سیاسی معاملات میں سپیس پیدا کرتی ہے۔ یہ بحث پیچیدہ اور گنجلک ہے۔ اس وقت اس میں الجھنے کی بجائے جنرل احمد شریف کےاس بیان پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے کہ فوج سیاسی معاملات میں فریق نہیں بننا چاہتی۔ اس بیان کی بنیاد پر یہ امید باندھنی چاہئے کہ فوج مستقبل میں اپنی زیادہ توجہ عسکری و سکیورٹی معاملات پر مبذول کرے گی اور سیاسی امور سے آہستہ آہستہ کنارہ کشی کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ملک کی سیاسی حکومت پر بھی اس بارے میں بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
فوج اور سیاست کا تعلق صرف ملک میں حکومت سازی یااہم پالیسی معاملات میں اثر و رسوخ تک محدود نہیں ہے۔ ماضی میں سیاسی حکومتوں کا تختہ الٹ کر ملک میں غیر آئینی طور سے مطلق العنان طریقوں سے حکومت کرنے والے جرنیلوں کو ان کا انفرادی فعل قرار دے کر ایک طرف رکھ بھی دیا جائے تو بھی یہ تاثر مٹانے کے لیے سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے کہ فوجی قیادت ہر منتخب سویلین حکومت کو اپنے زیر اثر رکھنا چاہتی ہے۔ اس کے متعدد مظاہر موجودہ قومی منظر نامہ میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ خاص طور سے اہم سویلین عہدوں پر حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی افسروں کی تقرریوں سے اس اثر و رسوخ میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ فوجی قیادت خلوص دل سے سول حکومتوں کی مدد کرنے کے لیے اپنی صفوں میں بہتر صلاحیتوں کے حامل لوگوں کو مختلف اداروں میں خدمات انجام دینے کے لیے بھیجتی ہو۔ البتہ سول ملٹری تعلقات پر ہونے والی شدید اور سنگین بحث کی موجودہ صورت حال میں بہتر یہی ہوگا کہ نئے چیف آف ڈیفنس فورسز اس طریقہ کار کی حوصلہ شکنی کریں۔ سول حکومت کو پیغام دیا جائے کہ ملکی معاملات اور ادارے چلانے کے لیے اسے فوجی افسروں پر انحصار کرنے کی بجائے، خود اپنی صلاحیتیں بہتر بنانی چاہئیں تاکہ سول ملٹری تعلقات کا گدلا پانی شفاف ہوسکے۔
فوری طور پر اس کا آغاز سفارت کاری کے شعبہ سے ہوسکتا ہے۔ فورسز کے نئے سربراہ کو یہ اصولی فیصلہ کرلینا چاہئے کہ مستقبل میں مسلح افواج کے افسروں کوسفارتی عہدے نہیں دیے جائیں گے۔ اور جو افسر اس وقت کسی نہ کسی مجبوری کی وجہ سے ایسی پوزیشنوں پر کام کررہے ہیں، انہیں وہاں سے ہٹانے کا عمل شروع کیا جائے۔ اس کی ایک وجہ تو یہی ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ ماہر اور قابل لوگوں پر مشتمل ہے۔ ملکی تاریخ کے نشیب و فراز میں مخلتف چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے، اس سروس نے سفارتی مہارت حاصل کی ہے۔وہ دنیا میں پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ایسے میں کسی دوسرے ادارے مثلاً فوج سے آیا ہؤا کوئی افسر اپنی تمام تر خوبیوں کے باوجود اس ہنرمندی کامظاہرہ نہیں کرسکتا جو اس سروس کے لوگوں کو اندرونی تربیت ، عالمی مشاہدے اور سفارتی سطح پر مواصلت کی وجہ سے حاصل ہے۔ ایسا ایک اقدام پاک فوج کی غیر جانبداری کے بارے میں ایسا طاقت ور بیانیہ تشکیل دے سکتا ہے کہ فوج مخالف عناصر کی تنقید کا منہ موڑا جاسکے گا۔Pakistani Cuisine Recipes
اسی معاملہ کا ایک پہلو ملکی معیشت اور پراپرٹی ڈیویلپمنٹ کے کام میں عسکری اداروں اور خاص طور سے فوج کا اسٹیک ہے۔ فوجی فاؤنڈیشنز کے زیر اہتمام چلنے والے صنعتی و تجارتی ادارے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ قومی پیداوار یا آمدنی میں ان کا حصہ کیا ہے۔ ان اداروں کا انتظام عام طور سے فوجی قیادت یا ریٹائرڈ افسروں کے پاس ہوتا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کس ادارے کو کس نام سے غیر معمولی سبسڈی یا ٹیکس میں چھوٹ حاصل ہے۔ اسی طرح ملک بھر میں عسکری اداروں کے زیر اہتمام ہاؤسنگ اسکیمز کا جال بچھا ہؤا ہے۔ یہ کام شہدا کی مدد کے لیے بننے والی فاؤنڈیشنز کی مالیات مضبوط بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا لیکن گزشتہ چند دہائیوں سے پراپرٹی کے کام نے ایک بہت بڑے کمرشل منصوبے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اس حوالے سے زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے کے الزامات اور اس بارے میں زور ذبردستی کے قصے بھی زبان زد عام رہتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بجا طور سے واضح کیا ہے کہ ملکی فوج اشرافیہ کی فوج نہیں ہے۔ بلکہ اس کے ارکان کا تعلق غریب، لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس سے ہے۔ لیکن فوج کے زیر اہتمام چلنے والے معاشی منصوبوں کے نتیجے میں ریٹائرمنٹ کی عمر کوپہنچنے والے بہت سے فوجی افسر لوئر مڈل کلاس یا مڈل کلاس سے نکل کر مالی وسائل کے لحاظ سے اشرافیہ کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں۔
چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے پر متمکن ہونے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر اگر کمرشل منصوبوں میں فوج اور فوجیوں کی شراکت داری کا جائزہ لینے، اس میں شفافیت پیدا کرنے اور ان اداروں کا انتظام ماہرین شعبہ یا سویلین عہدیداروں کے حوالے کرنے کا اقدام کریں تو سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے غلط مبحث میں کچھ ٹھہراؤ آسکتا ہے اور فوج بھی بتدریج زیادہ پروفیشنل ادارہ بن سکے گی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر خود مڈل کلاس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں خاص طور سے یہ ادراک ہونا چاہئے کہ ریٹائرمنٹ تک پہنچنے والے فوجی افسر اگر غیر ضروری طور سے مالی وسائل کے مالک ہوں گے تو اس بارے میں تشویش اور سوالوں میں اضافہ ہوگا۔ یہ دو سادہ مگر مؤثر اقدامات فوج اور عوام کے درمیان اعتماد میں اضافہ کا سبب بنیں گے اور فوج کی عزت و وقار میں بھی اضافہ ہوگا۔
ملکی سیاست میں ایک دوسرے کو ملک دشمن یا غدار قرار دینے کی روایت افسوسناک ہے لیکن اگر فوج بھی ملکی سیاست دانوں کے بارے میں ایسےہی بیانات دینا شروع کرے گی تو اس سے یہ سلسلہ تھم نہیں پائے گا بلکہ اس کی شدت اور سنگینی میں اضافہ ہوگا۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی یا لیڈر ملکی مفاد کے خلاف کام کررہا ہے تو آئی ایس پی آر کو اس کا تجزیہ کرنے پر صلاحیت صرف کرنے کی بجائے اس معاملہ پر سول اداروں اور ملکی عدالتی نظام پر اعتماد کرنا چاہئے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بجا طور سے تحریک انصاف پرپابندی لگانے یا خیبر پختون خوا میں گورنر راج کے بارے میں سوالات کا جواب دینے سے گریز کیاہے۔ اور واضح کیا کہ یہ فیصلہ سیاسی حکومت کو کرنا چاہئے۔ اس اسپرٹ کو پھیلانے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت شاید آج سے پہلے اتنی زیادہ کبھی نہیں تھی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی اس پریشانی پر پوری قوم کو ان کا ساتھ دینا چاہئے کہ سیاسی لڑائی میں فوج اور عسکری قیادت کو فریق نہ بنایا جائے۔ خاص طور سے جب کسی سیاسی رویہ کو بھارت جیسا دشمن ملک پھیلانے اور سچ ثابت کرنے پر صلاحیت صرف کرنا شروع کردے تو ملک سے محبت کا تقاضہ یہی ہے کہ متعلقہ لیڈر اور پارٹی اس طرز بیان پر نظر ثانی کریں۔ عمران خان سول حقوق کے حوالے سے فوج کے کردار پر شاکی ہیں لیکن اگر وہ اس مقدمے میں بھارتی اور افغان میڈیا کو اپنا وکیل بنائیں گے تو خود ان کا کیس ہی کمزور ہوگا۔
آئی ایس پی آر کے سربراہ نے یہ مشہور کہاوت سنائی کہ ’ ہر ملک میں ایک فوج ہوتی ہے۔ اگر یہ ہماری فوج نہیں ہوگی تو وہ دشمن کی فوج ہوگی‘۔ اور کہا کہ پاک فوج پاکستان کے دشمنوں اور عوام کے بیچ دیوار بن کر کھڑی ہے۔ اس دیوار کی بنیادیں کمزور کرنے کی بجائے اسے مضبوط کرنے اور سہارا دینے کی ضرورت ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کو بھی یہ بات ماننی اور اس کا اقرار کرنا چاہئے۔
( بشکریہ :کاروان ۔۔ناروے )

