اسلام آباد: سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کے رواں ماہ دورہ پاکستان کا امکان ہے جس میں چار اعشاریہ 2ارب ڈالر کے معاہدے اور ایم او یوز ہونے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان 21 نومبر کو پاکستان کا دورہ کریں گے، رواں ہفتے کے آخر میں سعودی عرب کی خصوصی سیکورٹی ٹیم پاکستان پہنچے گی جومحمد بن سلمان کے دورے کے حوالے سے سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لے گی۔ذرائع کے مطابق۔ سرمایہ کاری کے معاہدوں اور ایم او یوز کو حتمی شکل دینے کے لیے سعودی ولی عہد کے دورے کی تیاریاں اہم مرحلے میں داخل ہوگئیں ہیں۔
اس حوالے سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت آج شام چار بجے اہم اجلاس منعقد ہوگاجس میں سعودی سفارت خانے کے اہم حکام اور پاکستانی متعلقہ وزارتوں کے حکام شریک ہوں گے۔
اجلاس میں سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے موقع پر ملکی سرمایہ کاری کے پیکیج کو حتمی شکل دینے پر جائزہ لیا جائے گا۔اس سے قبل سرمایہ کاری بورڈ پاکستان ویڈیو لنک کے ذریعے سعودی وزارت سرمایہ کاری کے ساتھ ڈیڑھ گھنٹہ اجلاس منعقد کرچکا ہے، ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے اجلاس میں سعودی ڈپٹی وزیر برائے سرمایہ کاری بھی شریک ہوئے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں و ایم او یوز کے مسودوں کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔ نوشہرہ سے نئے موٹر وے پراجیکٹ کیلئے بھی سرمایہ کاری کا معاہدہ متوقع ہے، اس منصوبے پر پچاس لاکھ ڈالر لاگت آئے گی۔ ترلائی اسلام آباد میں 500 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے کنگ سلمان ہسپتال کی تعمیر کے منصوبے کے معاہدے پر بھی دستخط متوقع ہیں۔
سعودی عرب پاکستان میں کراچی تا اٹک وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے میں غیر ملکی کرنسی میں سرمایہ کاری کرے گا۔ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے کراچی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے ڈی سیلی نیشن پراجیکٹ میں سعودی سرمایہ کاری پر بھی معاہدے کا امکان ہے۔
سعودی عرب کی طرف سے سندھ میں حکومت کی طرف سے این ای ڈی یونیورسٹی کے قیام میں سعودی سرمایہ کاری کا معاہدہ بھی متوقع ہے سندھ میں این ای ڈی یونیورسٹی کے قیام کے منصوبے پر ساٹھ سے ستر کروڑ ڈالر لاگت آئے گی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان این ای ڈی یونیورسٹی کے قیام کے منصوبے میں سعودی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔نسٹ یونیورسٹی اسلام آباد میں سٹنٹ اور اس سے متعلق دیگر پراڈکٹس کی تیاری کے منصوبے بھی سعودی سرمایہ کاری متوقع ہے، نسٹ میں اسٹنٹ اور دیگر پراڈکٹ کی تیاری کے منصوبے پر دس سے پندرہ کروڑ ڈالر لاگت آئے گی۔ نسٹ میں تیار کردہ سٹنٹ و دیگر پراڈکٹ دوسرے ممالک کو بھی یہاں سے برآمد کئے جائیں گے۔
بشکریہ ایکسپریس نیوز

