میری ماں کی وفات کو پورے آٹھ سال ہو گئے دوسروں کی نظر میں یہ آٹھ سال شاید خوشیوں بھرے ہوں گے مگر میری زندگی کے یہ سال کس طرح گزرے آج اپنی زبانی خود بتاتی ہوں کیوں کہ مجھے یہی لگتا ہے کہ جب دل پہ بوجھ بہت زیادہ ہو جائے تو کسی کو بتا دینے سے بوجھ تھوڑا کم ہو جاتا ہے ۔
جب میں نے اپنے ماں کو مردہ حالت میں دیکھا تو آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا تھا سب کی آوازیں کانوں میں پڑ رہی تھیں کہ ابھی ماں کے جانے کا اندازہ نہیں ہو گا لیکن جب سب لوگ یہاں سے چلے جائیں گے تب زندگی کی گھٹن محسوس ہو گی دعائیں دینے والا کوئی نہیں ہو گا اور اب میں کہتی ہوں با لکل سچ کہا تھا کہ ماں کے بغیر گھر قبرستان لگتا ہے اور ایسا ہی ہے کیوں کہ ماں کے جانے کےبعد سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہو گئے کوئی خیاں رکھنے والا احساس کرنے والا نہیں تھا ۔
کون کس ٹائم کیا کر رہا ہے کسی کو کوئی خبر نہیں تھی اور پھر مشکلات نے جیسے ہمارے گھر کی راہ دیکھ لی ہو ہر روز کوئی نہ کوئی مسلئہ ایک مصیبت سے نکلتے نہیں تھے دوسری آ جاتی زندگی گویا ایک امتحان بن گئی تھی اور پھر بھابھیوں کی کڑوی کیسلی باتیں اور بھائی بھی بوجھ سمجھنے لگے تھے ۔۔خیر سب سے لڑ جھگڑ کے ایم ۔اے میں داخلہ کروایا باقی ساری ڈگری سکالرشپ پہ کی یا پھر ماں کی دعا تھی کوئی کہ ایم۔اے کے بعد ایم۔فل بھی کر لیا ۔ایم۔فل کی ڈگری کے لیے بہت کچھ سہنا پڑا بہت سی چیزیں تھیں جن کو برداشت کرنا پڑا ایسے ہی نہیں مل گئی یہ ڈگری ۔خوش نصیب ہیں وہ لڑکیاں جن کے والدین خود انہیں پڑھنے کے لیے بھیجتے ہیں میرے جیسی لڑکیوں کو بہت کچھ سہنا پڑتا ہے اب مجھے ہر کام کے لیے خود ہی لڑنا پڑتا ہے ۔ ماں تو ہے نہیں جو میرا ساتھ دیتی اس لیے سب کچھ خودہی کرنا پڑنا پڑتا ہے ۔اور اب زندگی اس موڑ پہ لے آئی ہے کہ نہ کوئی کچھ آگے جانے کو راہ ہے نا پیچھے جانے کا راستہ زندگی جیسے ساکت ہو گئی ہو ۔کوئی رہنمائی کرنے والا نہیں ۔
فیس بک کمینٹ

