انسان کسی بھی نوعیت و حیثیت میں قابل تکریم ہے ، سب کے بطور انسان یکساں حقوق ہیں اور اسی طرح ہر ایک کا معاشرے میں مقام بھی ہے ۔ معاشرے کے ایسے افراد جنہیں ہم یا تو معذور یا خصوصی افراد کہتے ہیں جوکہ درست نہیں۔ لفظ جو کہ درست ہے انہیں مخاطب کرنے تحریرکرنے کے لئے وہ لفظ اور اصطلاح افراد باہم معذور ہے یہ اس سی آرپی ڈی کے اعلامیہ کا فیصلہ ہے جس کی پاکستان نے توثیق کی ہوئی ہے مگر اس کے باوجود ہمارے ہاں ملکی سطح پر مقامی سطح سے لے کر مرکزی سطح پر مسائل جو ں کے توں ہیں، ابتدا میں ایک اہم پوائنٹ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ افراد باہم معذور سمجھتاہی اس کو ہے جو ٹانگ اور بازو سے معذور ہویا پھر نابینا ہو بہرکیف بینائی سے محروم ہو، جسمانی یا ذہنی سطح پر معذورہو، حالانکہ ہماری مختلف مردم شماری سے یہ اعداد وشمار سامنے آئے کہ کتنے ہی لوگ سننے سے محروم ہیں بولنے سے محروم ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ کبھی بھی کسی بھی حزب اختلاف نے حکومتوں کی جانب سے ہونے والی کسی بھی مردم شماری کو درست تصور نہیں کیا یہی معاملہ افرادباہم معذور کے حوالے سے ہے مگر ہم بطورمعاشرہ اور بطوررکن معاشرہ اسے نظرانداز کررہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ افراد باہم معذورکے حوالے سے اعدادوشمار کا ریکارڈ درست کیاجائے۔
پاکستان میں سماجی رہنماوں سماجی اداروں کی کاوشوں اور پیش کردہ سفارشات وتجاویز اور پاکستان نے ڈبلیو ایچ او، ورلڈبینک، سی پی آرڈ ی کی توثیق کی ہوئی دستخط کیئے ہوئے جس کے نتیجے میں قانون سازی بھی ہوئی کوٹہ جات کا تقررہوا تاہم کوٹے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف باصلاحیت افرادباہم معذور نالاں اور سراپا احتجاج رہتے ہیں المیہ یہ ہے کہ قانون موجود ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہے قانون پر عملدرآمد کی ضرورت ہے اور اسی طرح حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی ہے یہ ہمارے عمومی رویئے اور ہماری عمومی صورتحال ہے معذور افراد کے بارے میں جوکہ افسوسناک او ر تشویشناک ہے ۔
چند حقائق اس وقت علم میں آئے جب ہم نے بیٹ دریائی کٹاؤ کے علاقہ کا دورہ کیا اور وہاں ان لوگوں سے ملاقات ہوئی جس کے بعد علم میں آیا کہ المیہ یہ ہے کہ حالیہ سیلاب میں بھی جہاں بعض لوگوں نے محفوظ مقامات پر منتقلی کے دوران پہلے افراد باہم معذور کو منتقل کیامگر بعض جگہ ہمیں دوسرا طرز عمل دیکھنے اور سننے کوملاجوکہ المیہ ہے کہ سب نے مال اسباب اپنی اہل وعیال کی فکر تو اولین ترجیح کے طورپر کی لیکن افراد باہم معذور کو پہلے نظر انداز کیا اور انہیں ثانوی طور اہمیت دی جوکہ افسوسناک ہے یہی رویئے ہیں جو حق تلفی کو ظاہر کرتے ہیں ، معاملہ یہ ہے کہ جب یہ افراد باہم معذور بھی قدرت کی تخلیق ہیں یا کوئی کسی حادثے کی صورت میں معذوری کا شکارہوئے ۔
دیہات میں ٹریفک حادثات کی شرح تو بالکل کم ہے مگر دوران کام گرجانے سے، کسی، ہل، بیلچہ لگ جانے سے یا پھر ایسے افراد بہم معذور جن سے دوآبہ کے توسط سے میری ملاقات ہوئی وہ سب پہلے ٹھیک تھے مگر گھر میں ٹوکہ مشین پر جانوروں کے لئے گھاس کاٹتے ہوئے ہاتھ کٹ گئے،انگلیاں کٹ گئیں، بازوتک کا حصہ متاثر ہواوہ سخت اذیت میں ہیں جوکہ کام کاج کاشتکاری مزدوری کے عادی اور قائل ہیں مگر اب معذوری کے سبب کام کرنے انکے لئے ممکن نہیں سی بی ایم، دوآبہ جیسے سماجی ادارے ایسے افراد کی نشاندہی انکے مسائل کی نشاندہی انکے لئے سہولیات کے حصول کے لئے رہنمائی کے لئے سرگرم عمل ہیں پہلے مرحلے میں جو ایسے لوگوں کا مسئلہ ہے وہ آج بھی دیہی سطح پر باہم معذور افراد کا شناختی کارڈ جو کہ انکے افراد باہم معذورہونے کی تصدیق کرتاہے اس پر لوگوں کو آگاہی نہیں وہ نہیں بنوارہے اس پر موبلائزیشن اور انکی معاونت کی ضرورت ہے جو کررہے ہیں وہ قابل ستائش ہیں، یہاں پر سماعت کے آلہ کے حوالے سے وہ لوگ شکوہ کناں تھے کہ اتنے مہنگے آلات ہمیں دیئے جاتے ڈاکٹر ز کی جانب سے مگر افسوس کہ انکی کوالٹی درست نہیں ہوتی وہ جلد خراب ہوجاتے ہیں خدارا یہ طرز عمل بھی کسی طور درست نہیں اس سے بھی گریز کیاجائے۔
کچھ پولیو سے متاثرہ ہیں اور تعلیم بھی حاصل کرناچاہتے ہیں مگر انہیں سفری سہولیات میسر نہیں، تکنیکی امور کے باعث سروے کے باوجود بعض لوگوں کو احساس کفالت سے کچھ میسر نہ آسکا جس پر مکمل رہنمائی اور طریقہ کار کو آسان بنائے جانے کی ضرورت ہے بعض افراد باہم معذور نے بتایا کہ جب سے معذور ہوئے ہیں تو کام کرنے سے قاصر ہیں تو گھر والوں کے تیور بدل گئے ہیں کہ جیسے کیسے کما کر لائیں، جو پڑھنا چاہتے ہیں انہیں سفری سہولیات میسر نہیں ایک بیٹ کے علاقے میں دریا نے ایک ہی بستی کو کٹاو میں لے لیا اور دو حصے ہوگئے اب کشتی ودیگر سہولیات نہیں ہیں جن خواتین کے بھی ہاتھ کٹ کر مشین میں آئے اور وہ بھی افراد باہم معذور کی فہرست میں شامل ہوئیں وہ اہلخانہ کا شکوہ کرتی نظر آئیں کہ ہمیں اب آٹا گوندھنے سے لے کر گھریلو کام کاج میں دقت ہوتی ہے کوئی سپورٹ نہیں کرتابلکہ ناراض ہوتے ہیں جو کہ ہمارے تکلیف دہ ہے۔بیٹ کے علاقہ جات رنگپور، بستی گنجی ودیگر علاقوں میں آج کے دور میں بھی معذور افراد کے لئے الگ کموڈ والے واش روم نہیں ہیں جس کا انہ اہتمام ہے نہ ضروری سمجھاجاتاہے، انہون نے بتایاکہ ہمیں سیاستدان ووٹ لینے کے لئے لے جاتے مگر پھر نہیں پوچھتے سیاست میں بھی ہماری شمولیت ہونی چاہئے ہمیں یونین کو نسل تک رسائی نہیں نہ ہمارے سکولوں کالجوں میں ہمارے لئے رسائی ہے نہ یہاں کے ہسپتالوں میں رسائی کا انتظام ہے بلکہ پورے موضع کئی کئی کلومیڑ تک علاج معالجہ ایمرجنسی ہسپتال کی کوئی سہولت بھی نہیں ہے ہمارے لئے حفاظتی سہولیات نہیں یہاں ہماری بچیاں معذور ہیں پڑھناچاہتی ہیں مگر یہاں گرلز سکول بھی نہیں ہے جس کے لئے انہیں دورجانے کے لئے دقت اٹھانا پڑتی ہے۔
فیس بک کمینٹ

