کالملکھاریمحمد حنیف

محمد حنیف کا کالم:نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان کینسل

بچپن سے ہی ہماری مائیں ہمیں سمجھا دیتی ہیں کہ بندے کی عزت بندے کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ لیکن ہمارا پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ ہماری عزت بھی بہت جلدی ہو جاتی ہے اور بے عزتی ہونے میں بھی کوئی وقت نہیں لگتا۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان سے جو سب سے زیادہ دور ملک ہے وہ ہے نیوزی لینڈ۔ ادھر ایک مسجد پر حملہ ہوا۔ بہت بڑا ظلم ہوا۔ ادھر کی گوری وزیراعظم مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ کھڑا ہونا بھی بنتا تھا۔ جب ہمارے مظلوم مسلمان بہنوں اور بھائیوں کو ملنے گئی تو سر پر چادر ڈال کر گئی۔
ہماری پوری قوم کا پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ ہم گوری کے سر پر دوپٹہ یا چادر دیکھ لیں تو ہمارا ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ ہم یہاں ہزاروں میل دور بیٹھے ٹی وی پر گوری وزیراعظم کو چادر لیا دیکھ کر نعرے مارنے لگے۔ کسی نے اسے اپنی بہن بنا لیا کسی نے پھوپھی اور کئی تو لڑکے کا رشتہ لیے پھرتے تھے پھر پتہ لگا کہ وہ تو خود بچوں والی ہے۔ ہم ایسے ہی زبردستی دھکے سے اسلام کے دائرے میں اسے ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اب پچھلے ہفتے نیوزی لینڈ ٹیم نے پاکستان میں کرکٹ میچ کھیلنا تھا۔ میچ سے کچھ گھنٹے پہلے انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہاں ہماری جانوں کو خطرہ ہے، ٹیم راتوں رات واپس چلی گئی۔ ہمارے وزیر اعظم عمران خان سے زیادہ نیوزی لینڈ کو کون جان سکتا ہے۔ اور وزیراعظم خان صاحب سے زیادہ گوریوں کو کون سمجھ سکتا ہے۔
انہوں نے فون اٹھایا اور وزیراعظم سے بات کی لیکن وہ منافق عورت نہیں مانی۔ اب وہی وزیراعظم جو ہمیں ماؤں بہنوں کی طرح پیاری ہو گئی تھی، اب ہماری دشمن ہو گئی ہے۔ سر پر دوپٹہ لے کر مسجد جا کر جس نے ہماری عزت بڑھائی تھی، اس نے اب ٹیم واپس بلا کر ہماری بے عزتی کر دی ہے۔ مجھے کرکٹ کے شوقینوں کا غم سمجھ میں آتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ میچ شروع ہو گا تو آٹے دال کے بھاؤ بھول جائیں گے اور باقی سب غم بھی بھول کے بس میچ دیکھیں گے۔
ادھر کرکٹ کا شوق اتنا ہے کہ گھر کے لوگوں کی گنتی پوری ہو یا نہ ہو، لیکن تیس سال پہلے کس نے چھکا مارا تھا، اور کون سی بال اندر آئی تھی اور کون سی باہر سوئنگ ہوئی تھی، یہ سب یاد رہتا ہے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم بھاگ گئی، برا کیا، ساری دنیا نے تھو تھو بھی کی، لیکن ہمیں اپنی عزت اور بے عزتی نہیں بھول رہی۔ ان ہی باتوں پر ہم دیہات میں کسی کا ناک کاٹ دیتے ہیں یا اپنا بھی کبھی کبھی کاٹ ڈالتے ہیں۔ لیکن ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ نیوزی لینڈ والے خواہ دوپٹے پہنیں یا کچھے، لیکن اندر باہر سے وہ ہیں گورے ہی۔
اپنی بے عزتی کا رونا رو لو لیکن ساتھ ساتھ قوم کو یہ بھی بتاؤ کہ نیوزی لینڈ تو بنا ہی قتل عام پر تھا۔ ہمارے رنگ کے جو ادھر کے اصل باشندے تھے ان کی نسلوں کو ختم کر کے ادھر گوروں نے اپنا ایک دیس بنا لیا اور اب تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم تو دنیا کے سب سے زیادہ شریف گورے ہیں۔ ہمیں دیکھو کہ ضرورت پڑے تو تمہاری مسجد میں بھی آ جاتے ہیں، گلے بھی لگ جاتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ مائیں ٹھیک کہتی ہیں کہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں کون سی عزت کون سی بے عزتی۔ عزت اپنے ہاتھ ہی ہوتی ہے۔ باقی رہی کرکٹ، تو وہ کون سے ہمارے بیٹ بلے ساتھ لے گئے ہیں۔ ہم گلیوں میں کھیلیں گے، سڑکوں پر کھیلیں گے، ساتھ ہمسائے افغانستان میں ہمارے طالبان بھائی آ گئے ہیں، ان کی بھی سنا ہے کہ کوئی ٹیم ہے، اور کوئی ٹیم نہ آئی، تو ان کے ساتھ ہی کھیلتے رہیں گے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker