اختصارئے

تعلیمی نظام اور مزدور بچے ۔۔ محمد یاسین خان

بچوں کی مزدوری کسی بھی معاشرے کے ان پچیدہ مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے، جس کو اگر حل کرنے کے لئے اقدامات نہ کئیے جائیں تو یہ مسائل معاشرے کا ناسور بن جاتے ہیں۔دنیا بھر کے بیشتر ممالک اس مسئلے کا سامنا کررہے ہیں اور ان کے حل کے لئے مختلف اقدامات بھی کئیے جارہےہیں۔لیکن پاکستان میں معاشی بدحالی کی وجہ سے یہ لعنت
ایک سماجی ضرورت بن چکی ہے کیونکہ ہمارے ملک میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ آئے روز بڑھتی مہنگائی اور غربت کے پیش نظر غریب اور مزدور طبقہ گھریلو ضروریات پوری کرنے کے عوض اپنے لخت جگر جن میں پڑھنے لکھنے اور آگے بڑھنے کی تمام تر صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں کو ان کے بچپن میں ہی مزدوری پر لگا دیتے ہیں۔سکول جانے کی عمر کے بچے دوکانوں،ہوٹلوں،ورکشاپوں؟بس اڈوں اور دیگر مختلف جگہوں پر ملازمت یا مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔اسی طرح کچھ بچے گلیوں کوچوں میں ٹین ڈبے،اور کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں ۔ قوم کے مستقبل کا ایک بڑا حصہ اپنے بچپن سے محروم ہورہا ہے جو کہ ہمارے معاشرے کے لئے المیہ ہے۔
لیکن آج تک ہماری کسی بھی حکومت نے ٹھوس بنیادوں پر کوئی بھی حکمت عملی مرتب نہیں کی۔حکومت کی طرف سے “پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب”جیسے بےشمار نعرے لگائے تو جاتے ہیں اور تعلیم کے لئے خاطر خواہ بجٹ بھی رکھا جاتا ہے۔ حالیہ بجٹ میں حکومت کی طرف سے ایک نئے تعلیمی پروگرام کے آغاز کا بھی اعلان کیا گیا ہے جس کا نام 100،100،100ہے۔اس میں وفاقی حکومت کی طرف سے عہد بھی کیا گیا ہے کہ 100فیصد بچوں کے سکول میں داخلے اور 100فیصد حاضری کو یقینی بنایا جائے گا۔اس طرح کے دیگر بھی کافی پروگرامز آپکو نظر آئیں گے۔لیکن سوال یہ ہے کہ سب کچھ ہونے کے باوجود یہ بچے جو میرے پاکستان کا مسقبل ہیں یہ سڑکوں گلیوں میں کچرا کیوں اکٹھا کررہے ہیں۔ کیا ان بچوں کو تعلیم کی ضرورت نہیں یا یہ بچے آپ کے اس تعلیمی پروگرام کے ذمرے میں نہیں آتے؟ہم نے بحیثیت مجموعی چائلڈ لیبر کو اپنے لئے ناگریز مجبوری تسلیم کرلیا ہے۔بالخصوص ارباب اختیار کو اس ضمن میں کوئی پریشانی لاحق نہیں۔پاکستان میں بچوں کی محنت مشقت کی روک تھام کے لئے قانون بنے کئی سال گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک اس قانون پر بہتر انداز میں عمل درآمد نہیں ہوسکا۔
بلکہ اب تو حالات کے پیش نظر اس قانون میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں اس وقت لاکھوں مزدور بچے مختلف جگہوں پر محنت مزدوری کررہے ہیں۔وفاقی دارلحکومت اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں گاڑیوں کی ورکشاپوں،فرنیچر کے کارخانوں،ہوٹلوں اور سڑکوں پر مزدور بچوں کی ایک کثیر تعداد کام کرتی نظر آتی ہے۔ لیکن شاید ارباب اختیار کی ان بچوں پر نظر نہیں پڑتی یا ان میں دیکھنے کی صلاحیت ناپید ہوچکی ہے۔اس کے علاوہ ملک بھر میں بھٹوں پر بھی بچوں سے جبری مشقت کروائی جاتی ہے۔سیالکوٹ میں جراحی کے آلات بنانے کے کارخانوں میں ہزاروں بچے مزدوری کرتے ہیں۔ اور ملک ان کی محنت سے اربوں روپے زرمبادلہ کماتا ہے۔یہ بچے ریتی پر دھات گھسنے سے نکلنے والی دھاتی دھول کو بھی سانس کے ساتھ اندر لے جاتے ہیں، جو کہ صحت کے لئے انتہائی مضر ہے۔بات تھی 100،100،100 تعلیمی پروگرام کی تو اب دیکھنا یہ ہے کہ پروگرام تو منظور ہوچکا ہے۔ اور اس پراجیکٹ کے لئے خاطر خواہ بجٹ بھی رکھا گیا ہےلیکن اس پر عمل درآمد کب ہوگا کیسے ہوگا ؟ اور اس پروگرام کا اطلاق کن کن بچوں پر ہوگا۔یہ شاید ایک مشکل سوال ہے جس کا جواب اس پروگرام کو شروع کرنے والے ارباب اختیار ہی دے سکتے ہیں۔
دوسری طرف اگر بچوں کی صحت کا نام لیں تو حالیہ حکمران وقت تمام مسائل سے آگاہ ضرور ہیں لیکن ان مسائل کے خاتمے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات کرنے کی بجائے محض اعلانات تک محدود ہیں۔تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات بچوں کی مزدوری کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔بہرحال دعا ہی کی جاسکتی ہے اس بار یہ 100،100 ،100 تعلیمی پروگرام کامیاب ہوجائے تاکہ ہزاروں بچے علم کی شمع کو تھام سکیں”بچوں کی مزدوری کو کم کرنے صرف حکومتی سطح پر ہی اقدامات کافی نہیں ہونگے بلکہ اس کے خاتمے کے لئے معاشرے کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ ملک میں کام کرنے والی مختلف این جی اوز کو بھی اس کے سدباب کے لئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرنے ہونگے۔تاہم معاشرے کے ہر ادارے ہر فرد کو بچوں کی مزدوری اور جیسی بہت سی معاشرتی برائیوں کے خاتمہ کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی اور اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہم سب کو جدوجہد کرنا ہوگی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker