رضی الدین رضیسرائیکی وسیبکالملکھاری

کہروڑ پکا کا اکلوتا شاعر ، اور بیورو کریسی : ہوتل بابا کا کالم (12 ) ۔۔ رضی الدین رضی

قارئین محترم ہم پہلے بھی ادب پر بیورو کریسی کی مضبوط گرفت کے بارے میں اظہار خیال کر تے رہے ہیں بیوروکریٹ صاحبان نے آج کل پورے ملک کو ہی فتح کر رکھا ہے ۔ اس مرتبہ جو بیوروکریٹ صاحبان نے انگڑائی لی تو ان کی نگاہ انتخاب کہروڑپکا پر جا ٹھہری ۔ کہروڑ پکا ملتان کا ایک نواحی علاقہ ہے وہاں کا ایک شاعر شاہین کہروڑی ملتان کے ادبی حلقوں کو عموما رونق بخشتا ہے افسوس صرف اس بات کا ہوا کہ کہرو ڑ پکا میں مشاعرہ ہوا اور وہاں کے اکلوتے شاعر کو ہی اس مشاعرے سے دور رکھا گیا کہا ں کہا ں سے لوگ کہروڑ پکا نہ پہنچے ۔ کراچی سے حمایت علی شاعر، شاہدہ حسن اور عبید اللہ علیم ، لاہور سے امجد اسلام امجد ، اظہر جاوید ، اسلام آباد سے خالد اقبال یاسر ، پشاور سے محسن احسان ، ملتان سے چند ایک کو چھوڑ کر تقریبا سبھی شاعر ۔ اور تو اور سامعین بھی ملتان سے بھیجے گئے شاید منتظمین کا خیال تھا کہ کہرو ڑ پکا والوں کو ڈھنگ سے داد دینا بھی نہیں آتی ۔ کہروڑ پکا کے شہریوں کو بہر حال اچھا تماشا دیکھنے کو ملا داخلہ بذریعہ کارڈ تھا اس لئے پٹواریوں کے ذ ریعے ایک سو روپے سے لے کر 500روپے تک میں کارڈ فروخت کئے گئے تماشہ یہ ہوا کہ قتیل شفائی صاحب جب مشاعرہ گاہ میں داخل ہونے لگے تو انہیں وہیں روک لیا گیا ان سے کہا گیا جناب آپ کہاں تشریف لے آئے یہاں تو شاعروں کو بلایا گیا ہے ۔ وہ تو اچھا ہوا کسی منتظم نے انہیں پہچان لیا اور دربانوں سے نجات دلائی ۔ طائر لاہوتی مشاعرہ کے انتظامات میں افسر ساجد کے ساتھ بہت متحرک تھے سٹیج کے لئے گاﺅ تکیے انہوں نے ہی جمع کئے کہروڑپکا کے سبھی گھروں سے ایک ایک تکیہ اٹھا لائے اور تو اور تکیہ برداری کے اس عمل میں شاہین کہروڑی کو بھی شریک کر لیا نتیجہ یہ نکلا کہ سٹیج پر شاعر کم اور تکیے زیادہ دکھائی دے رہے تھے ۔ پروین شاکر بھی اس مشاعرہ میں مدعو تھیں مگر وہ بوجوہ اس میں شریک نہ ہو سکیں  ۔ جب سے ان کے خلاف دھوکہ دہی کے الزام میں مقدمہ دائر ہوا ہے انہوں نے مشاعروں میں شرکت کم کر دی ہے تقدیم  و تاخیر کے حوالے سے شعرائے کرام کے ساتھ جو سلوک ہو ا اس کی کہانی الگ ہے مشاعرے کے اختتام پر جب کہروڑ پکا کے نوجوان مہمان شعراءسے آٹو گراف لینے کے لئے آگے بڑھے تو طائر لاہوتی طیش میں آگئے اقبال ارشد کا کہنا تھا کہ طائر لاہوتی کو یہ غصہ ہے کہ کوئی پرستار ان سے آٹو گراف کیوں نہیں لینے آیا ۔ آخر میں آپ کو اقبال ارشد  کے ہی دو اشعار سناتے ہیں جو اس مشاعرے کا حاصل قرار پائے ۔
اتنا سفاک ہے دشمن کہ وہ گھر میں میرے
پھول تو پھول ہے پتھر نہیں آنے دیتا
اگلا شعر
رات دن سڑکوں پے بھٹکتے ہیں تحفظ کے لئے
خوف تنہائی ہمیں گھر نہیں آنے دیتا
( مطبوعہ : روز نامہ جسارت کر اچی  ۔۔ 24جون 1988ء )
فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker