خاور نعیم ہاشمیکالملکھاری

خدارا مجھے صحافی نہ کہو : پردہ اٹھتا ہے / خاور نعیم ہاشمی

لاہور کی بہت ساری چیزیں ادھر ادھر ہوگئی ہیں۔ کچھ نشانیاں معدوم اورکئی دفن ہو چکی ہیں۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی تک ہر گلی محلے میں ایک بدمعاش ہوا کرتا تھا، کسی کے نام کے ساتھ چھری مار اور کسی کے ساتھ چاقو مار کا خطاب ہوتا،ایک بد معاش کو بہناں والا کا لقب بھی ملا، کیونکہ وہ سات بہنوں کا اکیلا بھائی تھا،پیر غازی روڈ اچھرہ کی دھوبی اسٹریٹ کا ایک کردار بشیرا غنڈہ تھا، گلی کی عورتیں کہا کرتی تھیں” بشیرا کبھی محلے کی کسی بیٹی، بہن کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا “ محلے میں سر جھکا کر چلتا ہے، میں نے بھی اس بات کو نوٹ کیا، عورتیں ٹھیک ہی کہتی تھیں، ایسے کئی بدمعاشوں کو گلی محلوں کی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کا محافظ بھی سمجھا جاتا، بشیرے کا گھر دھوبی اسٹریٹ سے ملحقہ تنگ سی بغلی گلی میں تھا، جہاں اس کی بیوہ بھابی بچوں کے ساتھ رہتی تھی اور گزر بسر کے لئے کپڑوں کی سلائی کیا کرتی تھی،دھوبی اسٹریٹ کا ایک دوسرا اہم کردار مائی پھاتاں تھی، جو ہر وقت اپنے گھر کے باہر کھڑی رہتی، ہم اسے وزیر اطلاعات کہا کرتے تھے، ایک دن مائی پھاتاں نے گھر گھر جا کر خبر سنائی کہ بشیرے غنڈے نے اپنی بیوہ بھابی سے شادی کر لی ہے،اس اطلاع نے محلے میں بشیرے کی توقیر اور بڑھا دی۔ چھ سات سال بعد ہم نے دھوبی اسٹریٹ سے ایک فرلانگ دور سمن آباد، مزنگ اور اچھرے کے سنگم پر نیا گھر بنا یا اور وہاں شفٹ ہو گئے، یہ جگہ ابھی آباد نہیں تھی،چاروں طرف کھیت ہی کھیت تھے، کچھ عرصے بعد ہمارے گھر کے ساتھ ساڑھے تین مرلے پر مکان بننا شروع ہوا ، پتہ چلا کہ مکان بنانے والا ایک بدمعاش ہے اور اس کی بدمعاشی مزنگ میں چلتی ہے، وہ پولیس کی سرپرستی میں جواء خانہ چلاتا ہے، یہ بھی پتہ چلا کہ پہلی بیوی سے اس بدمعاش کی جوان بیٹیاں، بیٹے ہیں،نیاگھر اپنی دوسری بیوی کے لئے بنوا رہا ہے، مکان بن گیا تواس میں اس کی نئی بیوی بھی آ گئی، بلا کی حسین اور خوبصورت عورت تھی،اسے اکیلے کہیں آنے جانے کی اجازت نہ تھی، وہ اپنے بدمعاش شوہر کی عدم موجودگی میں کبھی کبھار دروازے پر کھڑی ضرورنظر آتی، کچھ عرصے بعد اس نے ایک بیٹی کو جنم دیا۔ پیشہ ورانہ مصروفیات بڑھ گئیں تو میرااس بدمعاش اور اس کی بیوی سے طویل عرصے تک ٹاکرا نہ ہو سکا، چار پانچ سال بعد میری بیوی نے بتایا کہ اس نے اپنی بیٹی کو کسی دور دراز شہرکے دینی مدرسے میں داخل کرا دیا ہے ۔ میں نے سوچا کہ اپنے جرائم سے خوفزدہ بدمعاش نے بیٹی دین کے نام پر قید کرا دی ہے، دو تین سال بعد ایک دن میں گھر پہنچا تو چھ سات برس کی بیمار اور لاغر سی بچی میری بیوی کے پاس بیٹھی تھی، میری حیرت کو بھانپتے ہوئے بیگم نے بتایا کہ یہ اس بدمعاش کی بیٹی ہے، اس بچی کا سارا سر جوؤں سے اٹا ہوا ہے ، پورے بدن پر پھوڑے ہی پھوڑے تھے۔ عرصے بعدمدرسے سے ماں کو ملنے آئی تھی۔ میں کانپ گیا، اس واقعہ کوکئی سال اور بیت گئے، میں نے ایک دن اپنی بیوی سے اس عورت اوراس کی بیٹی کی خیر خبر پوچھی۔ تواس نے انکشاف کیا، وہ اس بدمعاش کی بیوی تھوڑی تھی،وہ تو اسے جوئے میں جیت کر لایا تھا۔
٭٭٭٭٭
صحافت کل اوراب
ساٹھ کی دہائی میں لاہور کے فلمی مرکز رائل پارک میں بڑی رونقیں ہوا کرتی تھی ںیہاں سینکڑوں پروڈکشن اورڈسٹری بیوشن آفس قائم تھے،بہت سے ایکٹروں، شاعروں ، ادیبوں اور صحافیوں کی راتیں وہیں بسر ہوتی تھیں، رضیہ مینشن اور شیخ بلڈنگ کے قریب ایک دھوبی کی دکان تھی، فلمی لوگ اس کے گاہک تھے، پتہ نہیں کیا ہوا ؟ ایک دن پولیس کسی کریمنل کیس میں اس دھوبی کو پکڑ کر لے گئی اور جیل بھجوا دیا،بھٹو صاحب کا دور تھا ،جیل میں اس کی ملاقات فیض صاحب اور دوسرے کئی دانشوروں سے ہو گئی،دھوبی نے ان اسیر دانشوروں خاص طور پر فیض صاحب کی بہت خدمت کی،وہ ان کے کپڑے بھی دھو دیا کرتا تھا،جب یہ دانشور کسی ایشو پر گفتگو کرتے تو وہ ان کی باتیں انہماک سے سنتا، کہتے ہیں کہ جیل سے رہائی کے بعد دھوبی نے دکان کھولنے کی بجائے اخبار کا ڈیکلریشن حاصل کیا اور بغیر کسی عملے کے اس کا اجراء کر دیا، اگر ایک آدمی ایک دن میں 100آدمیوں کے کپڑے دھو سکتا ہے تو اسے چارصفحات کا اخبار نکالنے میں کیا دشواری ہو سکتی تھی؟۔ ایک ذہین دانشور،شریف جالندھری کی پس پردہ معاونت حاصل کی،اخبار کا چیف ایڈیٹر وہ خود تھا،اس نے اپنا کالم بھی شروع کر دیا، عنوان تھا” خدا را!مجھے صحافی مت کہو“ اخبار کی سرکولیشن تو نہ ہونے کے برابر تھی، لیکن اس کا کالم زبان زد عام تھا، وہ اخبار کی کاپیاں ہر بیوروکریٹ اور ہر پولیس افسر کو بھجواتا،عدالتی افسروں اور چیدہ چیدہ صحافیوں کو بھی اخبار کی اعزازی کاپیاں بھجوائی جاتیں، جب بھی کسی کی پگڑی اچھالی جاتی، شریف جالندھری اس متاثرہ شخص کے پاس پہنچ جاتا اور اسے سمجھاتا کہ اخبار کا مالک بہت گندا آدمی ہے ،کچھ لے دے کر اپنی عزت بچائیے، ورنہ اگلے شمارے میں اور گند اچھالے گا۔ایک بار اس نے ریلوے کے ایک افسر کیخلاف خبر چھاپی تو وہ افسر صحافی ظہور الحسن ڈار کے توسط سے مدد مانگنے اچھا شوکر والا کے پاس پہنچ گیا، اچھا شوکر والا نے دو کن ٹٹے اخبارکے دفتر میں بھجوا دیے، ان بدمعاشوں نے نہ صرف اسے پھینٹی لگائی بلکہ اس کے دفتر کا سارا سامان بھی تباہ و برباد کر دیاتھا۔ عباس اطہر مرحوم جب بھی اس کا کالم دیکھتے ایک گندی گالی ضرور دیتے اور کہتے۔ اوئے ، تینوں صحافی کہنداکون اے؟ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک میں بھی اس شخص نے اپنا حصہ ڈالا ،شہر شہر میں اس کی فل بدمعاشی تھی، اس کے پاس کسی بھی شہری کی پگڑی اچھالنے کا لائسنس تھا، وہ بلا اجازت کسی کا بھی اشتہار چھاپ کر اس سے پیسوں کا مطالبہ کر دیتا، یہ واقعہ نواز شریف کے والد مرحوم میاں شریف کے ساتھ بھی ہوا تھا ۔ کس کی مجال تھی اس سے الجھتا،اسے صوبوں اور مرکز سے سرکاری اشتہارات ملتے ،وہ کئی ایسے اخباری مالکان سے دھونس سے مفت نیوز پرنٹ بھی منگوا لیتا جو خود وارداتیے تھے، وہ غیر ملکی دوروں میں حکمرانوں کے ساتھ بلکہ آگے آگے ہوتا‘ اس نے ایک بڑے اخباری ادارے سے آڈھا بھی لگایا۔ 1975ء میں مساوات میں سب ایڈیٹری کر رہا تھا، عباس اطہر صاحب نے مجھے حکم دیا کہ تم ایک دو گھنٹے اس کی مدد کر دیا کرو، یہ میرے لئے سنہرا موقع تھا کہ جان سکوں اس کے پاس کیا جادو ہے کہ وہ بے لگام گھوڑے کی طرح پورے شہر کو انگلیوں پر نچا لیتا ہے؟ آفاق کا آفس ان دنوں ریجنٹ سینما کی بلڈنگ میں تھا، ریجنٹ سینما لکشمی چوک سے جی پی او کی طرف جاتے ہوئے ہال میکلوڈ روڈ چوک سے تھوڑاسا پہلے ہوا کرتا تھا، اس سینما کے بالکل سامنے سیف الدین سیف صاحب کا گھرتھا، اب وہاں فرنیچر مارکیٹ ہے، میں عباس اطہر صاحب کی ہدایت کے مطابق اس شخص سے ملا ، اس نے کہا کہ تم اخبار کی لے آؤٹ ڈیزائن کردیا کرو ،میں تمہیں پانچ سو روپے مہینہ دے دیا کروں گا ،اس نے اپنے آفس کی ایک چابی میرے حوالے کردی۔ ،وہ بہت اجلا لباس پہنتا تھا،سفید شلوار قمیص اور کالی جیکٹ، اسے ٹٹولنے کا میرا تجسس اور بڑھ گیا،ہمارے جاسوسی ناول پڑھنے کے دن تھے، ایک صحافی دوست سے مشورہ کیا تو طے یہ پایا کہ رات دیر گئے جب اس کے آفس آنے کا چانس نہ ہو ،وہاں تلاشی لی جائے اور اس نسخے کو ڈھونڈھا جائے جس کے بل پر وہ جسے چاہے بلیک میل جسے چاہے زیر کر لیتا ہے۔ ریجنٹ سینما کا دوسرا شو رات 9 بجے کے قریب ختم ہوا تو ہم آفس کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو ئے۔ آفس میں تین میزیں اور چار کرسیاں تھیں ایک میز اخبار کے مالک کے زیر استعمال تھی اور دو میزوں پر کاپی پیسٹر اخبار تیار کرتے تھے، الماریاں پرانے اخباروں ، رسالوں سے اٹی ہوئی تھیں،ایک جگہ اخبار کی تیاری کے لئے مسطر ، گمز،سیاہی کی ڈبیاں اور قلم پڑے تھے،ہم نے ایک ایک انچ کی تلاشی لی کنفیڈنشل دستاویزات نہ ملیں، اب صرف اس کے میز کی درازوں کی تلاشی باقی تھی، مگر یہاں سے بھی کوئی کام کی چیز نہ ملی، میز کی تین درازوں میں ٹیلی فون نمبر نوٹ کرنے والی بہت ساری ڈائریاں پڑی تھیں،جن میں لاتعداد لوگوں کے ایڈریس اور فون نمبر درج تھے ،میں نے ان ڈائریوں کو پڑھنا شروع کیا، ایک ڈائری نے مجھے چونکا دیا، میں نے اپنے ساتھی صحافی کو متوجہ کیا” میرا خیال ہے ہم جو ڈھونڈھ رہے تھے وہ مل گیا ہے“ ، اس ڈائری میں صرف شہر کی بدنام عورتوں ، گرلز ہاسٹلز کی وارڈنز اور کچھ گرلز کالجز کی پرنسپلز اور لیکچررز کے فون نمبر درج تھے۔۔۔ اور شایدیہی فون نمبر اس کی صحافت اور بدمعاشی کا ہتھیار تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب عورتیں اس کی صحافتی بدمعاشی اور بلیک میلنگ کا شکار ہوں۔۔۔۔
حرف آخر آجکل صحافت میں کتنے ایسے لوگ ہیں؟، مجھے تعداد کا صحیح علم نہیں۔
( بشکریہ :روزنامہ 92 نیوز )
فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker