قدیم روایات کے امین شہر ملتان کا ملکی سیاست میں اہم کردار ہے ۔ یہاں سے منتخب ہونے والے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی وزیراعظم سمیت ملک کی اہم وزراتوں پر فائز رہے۔۔لیکن شہر ملتان کے مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں۔۔۔
دوہزار اٹھارہ کے انتخابات میں سرزمین اولیا کہلائے جانے والے ملتان ضلع سے قومی اسمبلی کی چھ نشستوں پر تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا۔۔شاہ محمود قریشی ۔۔زین قریشی اور عامر ڈوگر جیسے سرکردہ رہنماؤں نے میدان مارا۔۔صوبائی اسمبلی کی گیارہ نشستوں پربھی بلے کانشان سب پرحاوی رہا ۔۔۔۔۔۔پیپلز پارٹی۔۔اورنون لیگ محض پنجاب اسمبلی کی ایک ایک سیٹ ہی جیت پائیں ۔۔الیکشن سےقبل جلسے ۔۔۔جلوسوں اور رابطہ مہم میں تحریک انصاف کے امیدواروں نے ملتان کے عوام سے بڑے بڑے وعدے کئے لیکن انتخابات کی گرد بیٹھتے ہی نہ فاتح رہنماؤں نے حلقوں کارخ کیانہ ہی عوام کے مسائل حل ہوئے ۔۔۔جس کا بدلہ عوام نے ضمنی الیکشن میں شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہربانوکے مقابلے موسیٰ گیلانی کو کامیاب کرواکے لیا
ملتان کی سیاست گیلانی۔ قریشی اور ہاشمی خاندان کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے۔۔نومئی کے بعد انتشار کا شکار پی ٹی آئی تو آئندہ انتخابات میں منظم انتخابی مہم چلاتی نظر نہیں آرہی لیکن پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے انتخابی میدان میں اترنے کیلیے کمرکس لی ہے
فروری میں انتخابات کی تاریخ آتے ہی ملتان کے تمام حلقوں میں بھی سیاسی گہما گہمی شروع ہوگئی ہے ۔مختلف رہنما خوشی غمی میں شریک ہوکر ووٹرز سے رابطے کررہے ہیں دیکھنا صرف یہ ہے کہ عوام اس بار ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں گے یا نہیں ؟
( بشکریہ : 92 نیوز )
فیس بک کمینٹ

