کالملکھاریمستنصر حسين تارڑ

مسز ایڈگر سنو بھی کلربلائنڈ تھی:ہزارداستان/ مستنصر حسین تارڑ

اطالوی ناول نگار البرتو موراویا نے ’’دیوار کے دورُخ‘‘ کتاب کے انٹرویو میں سرمایہ داری نظام کی جس طور ایک سادہ مثال دے کر تعریف کی ہے وہ آپ کو حیران کردیتی ہے، نہ اس نے اقتصادی حوالے دیئے اور نہ ہی اس نے مارکس کی ’’داس کیپٹل‘‘ میں سے کوئی فلسفہ پیش کیا۔ ویسے آپ مجھے جاہل قرار دینے میں حق بجانب ہوں گے اگر میں اپنی دانشوری کو داؤ پر لگا کر یہ اقرار کروں کہ میں کبھی بھی ’’داس کیپٹل‘‘ کو مکمل طورپر نہ پڑھ سکا کہ یہ ایک نہایت بور کتاب ہے، میرے تو سر سے گزر گئی۔ یہ البرتو موراویا ہے جس نے صرف ایک سادہ مثال دے کر سرمایہ دارانہ نظام مجھے سمجھا دیا۔
البتہ کچھ لوگ جو اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ میرے حواس قائم ہیں جب پوچھتے ہیں کہ تارڑ صاحب یہ ٹیلی ویژن چینلز پر کیسے واہیات اور اوٹ پٹانگ پروگرام تفریح کے سلسلے میں دکھائے جاتے ہیں تو کیوں دکھائے جاتے ہیں۔ معاشرے میں جھوٹ، لالچ اور بے ایمانی کی لہر بہر ہے تو کیوں ہے تو میں بصد ادب عرض کرتا ہوں کہ حضور سرمایہ داری نظام میں ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ کیپٹل ازم ایک طوائف ہے جسے چنداں غرض نہیں ہوتی کہ اس کے کوٹھے پر آنے والے گاہک کی شکل کیسی ہے، نسل کیا ہے، ایک ڈریکولا ہے یا فرینکن سٹائن ہے، اسے صرف اس کے پلے میں بندھی رقم سے غرض ہوتی ہے جو بھی زیادہ قیمت لگائے وہ بخوشی اسے سرفراز کردیتی ہے۔ اخلاقیات سے اس کا کچھ واسطہ نہیں ہوتا، صرف پیسہ اس کا ایمان ہوتا ہے۔ چنانچہ ٹیلی ویژن چینل اور معاشرہ اگر مال و دولت سمیٹ رہا ہے تو اسے کیا پرواہ کہ گاہک کون ہے۔ اگر ریٹنگ بڑھ رہی ہے تو بے شک کپڑے اتاردو۔ طوائف جو ہوئی۔
البرتو کی مثال اتنی عامیانہ نہیں، وہ کہتا ہے کہ سرمایہ داری نظام میں ایک نوجوان پڑھ لکھ کر یا کوئی بھی فرد زندگی کا تجربہ حاصل کر کے کاروبار کے ذریعے معاشرے میں متمول ہونا چاہتا ہے تو وہ مشاہدہ کرتا ہے کہ وہاں کاروبار کی کچھ گنجائش نہیں، بازار روزمرہ کے استعمال کی اشیا سے لبریز ہو چکے ہیں۔ ہر نوعیت کی صنعت کثرت میں ہے۔ کہیں بھی کچھ گنجائش نہیں تو بالآخر وہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ لیڈیز شوز کا کاروبار کرے گا۔ لیکن وہاں تو سینکڑوں لوگ سینکڑوں شکلوں اور بناوٹوں کے شوز پہلے سے مینو فیکچر کر رہے ہیں اور جتنی بھی لڑکیاں یا خواتین ہیں ان کے پاس درجنوں کی تعداد میں رنگ رنگ کے شوز پہلے سے موجود ہیں تو پھر وہ انہیں کیسے اپنا ساخت کردہ ایک اور شو خریدنے پر مائل کرے۔ وہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اپنے ہر شو کی ایڑھی میں ایک گھنٹی نصب کر دے گا اور اسے ’’بیل شوز‘‘ کا نام دے گا۔ وہ اپنا نادر آئیڈیا ایک بینک کے سامنے پیش کر کے قرضہ حاصل کرتا ہے اور ایک اشتہاری مہم کا آغاز کردیتا ہے۔ ملک کے چوراہوں اور شاہراہوں پر جہازی سائز کے اشتہار آویزاں کردیئے جاتے ہیں کہ ہمارے ’’بیل شوز‘‘ خریدیئے۔ آپ کی شخصیت نامکمل ہے اگر آپ کے ہاں بیل شوز نہیں ہیں۔ کیا آپ کسی پارٹی میں بیل شوز کے بغیر جائیں گی۔ لوگ کیا کہیں گے کہ آپ کے ہاں بیل شوز بھی نہیں۔
اس کے ساتھ ٹیلی ویژن پر بھی یلغار ہو جاتی ہے۔ ایک خوش شکل نوجوان کسی بار میں بنچ پر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے قریب سے لڑکیاں گزرتی جاتی ہیں اور وہ کچھ دھیان نہیں کرتا اور پھر ایک لڑکی ’’بیل شوز‘‘ پہنے اٹھلاتی ہوئی گزرتی ہے اور اس کے شوز میں سے گھنٹیوں کی آوازیں آ رہی ہیں تو وہ نوجوان مسحور ہو کر اس کے پیچھے چل دیتا ہے اور تب اشتہار بازی کی اس یلغار سے متاثر ہو کر لڑکیاں اور خواتین ایک احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ ان کے پاس پہلے سے درجنوں شوز ہیں لیکن وہ اپنی محدود آمدنی کے باوجود ایک اور ’’بیل شوز‘‘ خرید لیتی ہیں جس کی ضرورت نہیں، بے کار ہے اور وہ خواتین اس ایک اور شوز کو حاصل کرنے کی خاطر زیادہ کام کرتی ہیں، زیادہ مشقت کرتی ہیں، گویا پورا معاشرہ ایک بے سود اور لایعنی مشقت میں مبتلا ہے، صرف بے کار اشیا کے حصول کے لیے جو اشتہار بازی کے ذریعے ان پر تھوپ دی گئی ہیں۔
ہمارے ہاں پاکستان میں بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں۔ صرف ٹشو پیپرز کی مثال ہی کافی ہے۔ ان کے بغیر بھی تو ہمارا گزارہ بخوبی ہورہا تھا، پھر یلغار ہو گئی، پسینہ پونچھتے، لپ سٹک درست کیجئے، کیچپ پونچھئے، گلا اور ناک صاف کیجئے، ٹشو پیپر، ٹشو پیپر، خوشبودار اور گلاب کی پنکھڑیوں کی مانند نازک نازک۔ یہ اربوں روپے کی انڈسٹری ہے۔ پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے لیکن ٹشو پیپر کے ساتھ۔
اب ہم لوٹتے ہیں ایڈگرسنوکی شاہکار کتاب ’’ریڈ سٹار اوور چائنا‘‘ کی جانب۔ جس نے پوری دنیا کو چینی انقلاب کی عظمت کی اطلاع دی۔ لونگ مارچ کے قصے سنائے۔ ماؤزے تنگ اور چو این لائی کی سادگی اور قائدانہ صلاحیتوں سے اہل مغرب کو پہلی بار متعارف کروایا۔ ایڈگر سنو کی اس کتاب نے تہلکہ مچا دیا۔ لوگ چینیوں کو خون کے پیاسے انقلابی درندے سمجھتے تھے۔ پوری مہذب دنیا کے لیے ایک خطرہ سمجھتے تھے اور یکدم ان پر کھلا کہ چینی انقلاب کو پورے چین کی حمایت حاصل ہے۔ ان کی زندگیاں بدل رہی ہیں اورگراں خواب چینی تو سنبھلنے لگے ہیں۔ چینی نہ کبھی اپنے دشمن کو بھولتے ہیں اور نہ ہی کسی دوست کے احسان کو فراموش کرتے ہیں۔ آزادی کے بعد ایڈگر سنو ان کے لیے ایک دیوتا ہو گیا۔ ماؤ کے بعد وہ سب سے پسندیدہ شخص ٹھہرا۔ ایڈگرسنو نے براڈوے پر اداکاری کرنے والی ایک نامعلوم سی ایکٹرس لوئی وہیلز سے شادی کی۔ لوئی وہیلز یعنی مسز ایڈسنو پچھلے دنوں ستانوے برس کی عمر میں سوئٹزرلینڈ کے شہر نیون میں آں جہانی ہو گئیں یعنی مر گئیں۔
انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم 1971ء میں چین گئے تو مجھے اور میرے خاوند کا استقبال ایسا شاندار کیا گیا جیسے میں شہزادی اور ایڈگر شہزادہ ہو۔ میں نے چو این لائی کے ہمراہ ایک ٹیبل ٹینس کا میچ دیکھا۔ سن یات سن کی بیوہ نے ہمیں اپنے گھر رات کے کھانے پر مدعو کیا۔ یہاں تک کہ چین کے نیشنل ڈے کی پریڈ کے موقع پر ماؤزے تنگ نے افواج کی سلامی لیتے ہوئے ہم دونوں کو اپنے برابر میں کھڑا کیا اور ایسا آج تک نہ ہوا تھا۔ یہاں تک کہ جب ایڈگر سنو بیمار ہوئے اور ہم سوئٹزرلینڈ میں رہائش رکھتے تھے تو چیئرمین ماؤنے خصوصی طور پر چین کے بہترین تین ڈاکٹر اور چار نرسیں ایک ترجمان کے ہمراہ علاج کے لیے روانہ کئے اور آج تک ماؤ نے کسی اور شخص کی اتنی عزت افزائی نہ کی تھی۔ ایڈگرسنو فوت ہو گیا اور اس کی ایکٹرس بیوی شہرت کے مزے لوٹتی رہی اور پھر وہ یکدم چینیوں سے بدگمان ہوگئی۔ متنفر ہو گئی۔ اس نے ٹیلی ویژن سکرین پر 1989ء میں تیان من سکوائر میں جمہوریت کی خواہش رکھنے والے لوگوں کا قتل عام دیکھ لیا اور وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی کہ وہ انسانی حقوق کی علمداری پر یقین رکھتی تھی۔
وہ چین کے لیڈروں ڈنگ شیا پنگ وغیرہ کو خط لکھتی رہی کہ تیان من سکوائر میں ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو معاوضہ دیا جائے۔ وہ چین پہنچ گئی کہ تیان من سکوائر میں مارے جانے والے ایک نوجوان کے والدین سے ملاقات کرے۔ اس بار چینیوں نے اسے وصول تو کیا پر نہایت سرد مزاجی سے۔ وہ زندگی کے آخری برسوں تک یعنی ستانوے برس تک تیان من سکوائر میں مارے جانے والے لوگوں کا ماتم کرتی رہی۔ اسے انسانی حقوق اتنے عزیز تھے۔ یونہی بیٹھے بٹھائے، ان دنوں کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ 1989ء میں تیان من سکوائر میں جو لوگ مارے گئے ان کو ایڈگرسنو کی اہلیہ نے دیکھا تو وہ انسانی حقوق کی اس پامالی پر تڑپ اٹھیں اور اس چین کی دشمن ہو گئی جس نے نہ صرف اس کے خاوند کو بلکہ اسے بھی شاہانہ پروٹوکول دیا۔ ماؤنے انہیں برابر میں کھڑا کیا اتنی توقیر کی تو 1989ء کے بعد بھی تو کئی زمانے آئے۔ جب ایڈگر سنو کی ایکٹرس بیوی لوئی وہیلز کی ٹیلی ویژن سکرین پر کچھ اورمنظر نمودار ہوئے۔ امریکی بمبار طیارے سینکڑوں کی تعداد میں الف لیلیٰ کے شہر بغداد پر بم گرا رہے ہیں اور ان کے پائلٹ چیختے ہوئے ’’فک بغداد‘‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ بھسم ہورہے ہیں۔ مائوں کی گود میں بچوں کے دم گھٹ جاتے ہیں، زیتون کے درختوں پر مہکتی چڑیاں مر جاتی ہیں، بچے اتنی کثرت میں مارے جاتے ہیں کہ ان کی تدفین کے لیے تابوت دستیاب نہیں ہوتے۔ کچھ گڑھوں میں دبا دیئے جاتے ہیں۔ ایک فلسطینی باپ کی گود میں سہما ہوا بچہ اسرائیلی گولیوں سے چھلنی ہو کر مردہ ہو جاتا ہے جن نوجوانوں کے ہاتھ خالی ہیں ،چند ایک کے پاس حضرت داؤد ؑکی مانند گوپیا یعنی پتھر پھینکنے والی کمندیں ہیں اور اسرائیلی سنائپر ان نوجوانوں کو پرندوں کی مانند بے دریغ ہلاک کر رہے ہیں۔
ایڈگر سنو کی ایکٹرس بیوی نے ٹیلی ویژن سکرین پر جب کہ وہ مر رہی تھی قندوز کے حافظ قرآن بچوں کے سینکڑوں خون آلود چہرے تو دیکھے ہوں گے۔ کیا انسانی حقوق صرف تیان من سکوائر میں آج سے اٹھائیس برس پیشتر ہلاک شدہ چینیوں کے لیے ہی ہیں، سب کی تو نہیں، کچھ کی پشت پر امریکہ کی ہلاشیری تھی۔ مجھے شک ہے کہ مسز ایڈگر سنو کلر بلائنڈ تھی۔ اسے صرف ہلاک شدہ چینی نظر آئے تھے۔ عراق، شام اور لیبیا کے مارے گئے بچے قطعی طور پر نظر نہیں آئے اور مجھے شک ہے کہ وہ امریکہ اور مغرب کی اجتماعی سوچ کی نمائندگی کرتی ہے۔ انسانی حقوق کا اطلاق صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو مسلمان نہیں ہیں اور اگر لاکھوں کی تعداد میں وہ امریکی بمباروں کی زد میں آ کر ہلاک ہو جائیں اور ان میں ہزاروں بچے بھی ہوں تو بھی۔ نہ صرف آں جہانی مسز ایڈگر سنو بلکہ کل یورپ اور امریکہ کلر بلائنڈ ہے۔ بات نکلی ہے تو دور تلک پہنچی ہے۔ چین کی بہت بولتی ہوئی طوطی سے شروع ہوئی ہے اور مسز ایڈگر سنو کے انسانی حقوق تک پہنچی ہے۔ ہیلو ہیلو۔ کیا کوئی سن رہا ہے۔ کیا ہم مسلمان انسان نہیں ہیں؟
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker