کالملکھاریمستنصر حسين تارڑ

’’گورنر ہاؤس سندھ میں ادب فیسٹول کا مور ناچا‘‘۔۔ہزارداستان /مستنصر حسین تارڑ

سندھ کے گورنر ہاؤس کے سبزہ زاروں اور چمن زاروں میں کچھ ادیب گمشدہ بھیڑوں کی مانند پھرتے تھے اور انہیں اپنی شکل کی کوئی بھیڑ نظر نہ آتی تھی اور سندھ کے گورنر ہاؤس میں ’’ادب فیسٹول پاکستان کراچی‘‘ کا امتیازی نشان یعنی مور ناچتا پھرتا تھا اور اسے کل دنیا دیکھتی تھی۔ اور یہ مور بھی ناچتا پھرتا تھا اور شناسا چہروں والے ادیبوں کو تلاش کرتا پھرتا تھا اور وہ دکھائی ہی نہ دیتے تھے۔ یہ ادب فیسٹول دراصل آکسفورڈ لٹریری فیسٹول کی پسلی میں سے پیدا ہوا تھا۔ تقریباً دس برس پیشتر برادر آصف فرخی اور محترمہ امینہ سید نے انڈیا کے جے پور فیسٹول کی تقلیدمیں اس فیسٹول کی بنیاد رکھی۔ اس کی بنیادوں میں ان دونوں کی مشقتوں کے پسینے جذب ہیں۔ تب یہ فیسٹول بیچ لگژری ہوٹل میں برپا ہوتا تھا جہاں سمندر کی نمکین مہک تیرتی تھی اور سمندی بگلے اڑانیں کرتے ادیبوں کو دیکھنے کے لئے چلے آتے تھے۔ ازاں بعد امینہ سید آکسفورڈ سے بوجوہ علیحدگی اختیار کر گئیں لیکن وہ اپنے اس فیسٹول کے بچے سے دستبردار ہونے سے انکاری ہو گئیں۔ ہماری خواہش تو یہی تھی کہ ان دونوں کے درمیان کچھ صلح صفائی ہو جائے لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔ فرخی اور امینہ نے ادب فیسٹول کے نام سے اپنی دکان الگ سے سجانے کا اعلان کر دیا۔ ادھر آکسفورڈ والوں نے بھی اپنے فیسٹول کو پرانے مقام پر منعقد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوں جانب سے ادیبوں پر ڈورے ڈالے گئے کہ صاحب ذرا ہمارے ہاں آئیے۔ پرانی دکان ہے سودا کھرا ملے گا یا پھر حضور تجربہ ہمارا ہے اس لئے ہمارے فیسٹول میں قدم رنجہ فرمائیے۔ ابھی پچھلے ماہ احمد شاہ نے ایک شاندار بین الاقوامی اردو کانفرنس کا انعقاد کر کے سب کو متاثر اور حیران کیا تھا۔ مجھے اتنی شتابی سے دوبارہ کراچی جانے کا چنداں شوق نہ تھا لیکن آصف فرخی کے ساتھ ادب کی محبت کے پرانے سلسلے چلے آتے ہیں اس لیے میں انکار نہ کر سکا اگرچہ یہ فیسٹول مجھے بہت مہنگا پڑا۔ ویسے بہت کم لوگوں کو یقین تھا کہ بادشاہوں کے یہ قصر‘ لاہور اور کراچی کے گورنر ہاؤس عوام کے لئے کھول دیے جائیں گے لیکن کم از کم یہاں تو خان صاحب نے تبدیلی کا وعدہ پورا کر دیا۔ میڈیا کے ہر انٹرویو میں پہلا سوال یہی ہوتا تھا کہ تارڑ صاحب یہ جو آپ جیسے عوام الناس کے لئے یعنی ایسے عوام کے لئے جن کا ناس ہو چکا ہے گورنر ہاؤس کھول دیا گیا ہے تو آپ کے کیا تاثرات ہیں تو میں نے یہی عرض کیا کہ یہاں آ کر بہت افسوس ہوا کہ ایکڑوں پر پھیلی ہوئی یہ شاہانہ رہائش گاہیں جن کی دیکھ بھال اور سکیورٹی کے لئے سینکڑوں نہیں ہزاروں افراد مامور ہیں۔ صرف ایک شخص کے لئے اور وہ ایک شخص کوئی ایسا آئن سٹائن یا ژاں پال سارتر بھی نہیں ہوتا۔ بہت معمولی سا شخص ہوتا ہے اور اس کی قابلیت صرف سیاسی ہوتی ہے اور یہ عہدہ اس کی پارٹی کے جیتنے پر اسے انعام میں مل جاتا ہے۔ وسائل کا اتنا ناقابل معافی زیاں۔ عوام کی کمائیوں سے ایسے گل چھرے اڑائے جاتے ہیں۔ بہر طور اس حکومت کے عہد میں عوام بھی کچھ گل چھرے کچھ عرصہ کے لئے اڑا سکتے ہیں۔ اگر کوئی شناسا ادیب نظر آ جائے تو اس کے ساتھ تصویریں اتروا سکتے ہیں اور فوڈ کورٹ میں وارد ہو کر حسب توفیق پیزا یا گول گپے کھا سکتے ہیں۔
افتتاحی تقریب میں سامنے کی نشستوں پر عجیب عجیب شکلوں والے خواتین و حضرات نے قبضہ جما رکھا تھا چنانچہ میں جہاں سینگ سمائے وہاں سما گیا۔ وہیں کہیں کشور ناہید‘ زاہدہ حنا ارو فاطمہ حسن بھی دبکی بیٹھی تھیں۔ سٹیج پر آصف فرخی اور امینہ سید کے علاوہ گورنر سندھ، سپانسر حضرات، وزیر حضرات وغیرہ براجمان تھے۔ آصف اور امینہ بجا طور پر فخر کر سکتے تھے کہ انہوں نے بالآخر اتنے بڑے اور شاندار فیسٹول کا اہتمام کر ڈالا۔ پھر افتتاحی تقریروں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایک خاتون نے حاضرین کو بتایا کہ ادب کیا ہوتا ہے۔ ایک تہذیب ہوتی ہے جس میں ایک ترتیب ہوتی ہے اور ان کی آمیزش سے زبان اور ثقافت کے گل کھلتے ہیں۔ ہمیں شدید افسوس ہوا کہ ہمیں تو خبر ہی نہ تھی کہ ادب تو یہ ہوتا ہے ورنہ ہم بھی کچھ گل کھلا دیتے۔ امریکہ کے ولی ناصر نے مڈل ایسٹ میں امریکیوں کی خارجہ پالیسی کا تفصیلی جائزہ لیا اتنا تفصیلی کہ کچھ شیر خوار بچے رونے لگے۔ عشرت حسین صاحب بہت بھلے شخص ہیں یہاں تک کہ خصوصی طور پر مجھ سے ملنے آ گئے لیکن انہوں نے بھی اقتصادی حوالے سے ایسے چھ نکات پیش کئے جو ہم جیسوں کے سر سے شوں شوں کرتے گزر گئے۔ اس دوران ایک خاتون شاعرہ نے سرگوشی کی کہ ادب فیسٹول ہے تو سٹیج پر اگر کوئی ایک آدھ ادیب بھی بٹھا دیا جاتا تو ادب کا بہت بھلا ہوتا۔ حسب معمول عرفان جاوید نے ہمیں چینی خوراکوں سے لبریز کیا۔ وہاں شکیل عادل زادہ‘ ایورریڈی پکچرز کے ستیش آنند اور موسیقی کے ماہر شریف اعوان بھی موجود تھے۔ اس محفل کی خصوصیت یہ تھی کہ شکیل صاحب آج 81برس کے ہو گئے تھے اور لگتے وہی نوجوان سب رنگ تھے جنہوں نے کبھی مینا کماری کے ساتھ اداکاری کی تھی۔ میں نے ان سے کہا کہ بھائی جان چند روز تک شاید میں بھی اسی برس کا ہوجاؤں تو آپ کے پیچھے پیچھے چلا آ رہا ہوں۔ تو بس چلتے جائیے ۔ ادھر ادھر ہو گئے تو ہم بھی گئے اور حسب معمول حیدر آباد سے جمیل عباسی اور اس کی بیگم عظمیٰ میری دیکھ بھال کے لئے کراچی پہنچ چکے تھے۔فیسٹول میں بہت سے قابل ذکر سیشن ہوئے۔ محمد حنیف کا ناول’’سرخ پرندہ‘‘ اڑان کیا۔ ایک مدت سے ہم منتظر تھے اور بالآخر ’’ہوم بوائے‘‘ کے ایچ ایم نقوی کا نیا ناول ’’دے سیلیکٹڈ ورکس آف عبداللہ دے کا سیک‘‘منظر عام پر آ گیا اور ایک زبردست تقریب میں اس کی رونمائی کی گئی۔ نقوی نے ناول کی ایک کاپی مجھے بھی عنائت کی اور کہنے لگا۔’’تارڑ صاحب۔ آپ واحد شخص ہیں جن کو میں اپنا ناول پیش کر رہا ہوں۔ تو میں نے ہنس کر کہا ’’نقوی میرے سوا یہاں اور کون ہے جو اس کی قدر کر سکتا ہے۔ ایک مرتبہ پھر میرے نام کی ’’ریڈر ورلڈ‘‘ کے درجنوں اراکین نہ صرف کراچی بلکہ سندھ کے دور دراز علاقوں سے صرف مجھے ملنے کی خاطر آئے تھے اور ان میں یونس عباسی بھی شامل تھا جو معذوری کے باوجود شمال کے کئی دشوار ترین مقامات پر پہنچ چکا ہے۔ اس دوران میری آئندہ ماہ متوقع 80ویں سالگرہ بھی احتیاطً منا لی گئی کہ کہیں بابا جی تب تک ادھر ادھر نہ ہو جائیں۔ میں تہہ دل سے ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں جو اس میں شریک ہوئے۔ میرے لئے مین پیولین میں جو سیشن ترتیب دیا گیا تھا اس کی میزبانی دانشور اور انگریزی شاعر حارث خلیق نے کی۔ ان کے ہمراہ اسلام آباد کے شیراز حیدر نے بھی شرکت کرنی تھی جو علالت کی وجہ سے تشریف نہ لا سکے۔ میرا سیشن ویسا ہی تھا جیسا کہ ہر ادبی میلے میں میرا سیشن ہوا کرتا ہے۔ چونکہ میں صرف ایک روز کے لئے کراچی گیا تھا اس لئے بہت سے دوستوں سے ملاقات نہ ہو سکی جن میں امر جلیل ‘ محمد حنیف‘نور الہدیٰ شاہ‘ حسینہ معین‘ احمد شاہ وغیرہ شامل تھے۔ ٹیلی ویژن کی پرانی ہم سفر شمیم ہلالی کے ساتھ ملاقات نے ہم دونوں کو خوشی دی اور پرانے زمانوں کے دکھ بھی۔ اور ہاں مجھے مشتاق احمد یوسفی اور محمد خالد اختر بھی وہاں مل گئے۔ یوسفی صاحب کی بہو اور ان کے بچے مجھے تلاش کرتے پہنچ گئے کہ ہم یوسفی صاحب کو پڑھتے ہیں اور ان کے گھرانے کے لوگ مجھے پڑھ کر سرفراز کرتے ہیں۔ محمد خالد اختر میرے پسندیدہ ترین فکشن رائٹر اور مجھ پر مہربانیاں کرنے والے۔ مجھے یوں ملے کہ وہاں ان کا بیٹا ہارون خالد اختر مجھے خاص طور پر ملنے کے لئے چلا آیا اور اپنا انگریزی ناول’’میلو ڈی آف اے ٹیئر‘‘ عنائت کیا جس کی توصیف محمد حنیف نے دل کھول کر کی ہے۔ میں اسے پڑھ کر انشاء اللہ اپنی رائے کا اظہار کروں گا۔ میں نے ہارون سے دریافت کیا کہ کیا خطوط کا وہ مجموعہ تمہاری نظر سے گزرا ہے جس میں کرنل محمد خان‘ شفیق الرحمن اور محمد خالد اختر کے خاکے بھی درج ہیں تو وہ ذرا اداس ہو کر بولا’’انکل آپ کی یہ کتاب میرے سرہانے دھری رہتی ہے کہ اس میں آپ نے ابو کو جس محبت سے یاد کیا ہے وہ میرے لئے ایک انعام ہے‘‘ آخری شب ایک سانحہ سا ہو گیا۔ جمیل عباسی اور عظمیٰ مجھے ایک نہائت پرتکلف باربی کیو کھلا کر رات کے بارہ بجے کے قریب کراچی جم خانہ چھوڑ گئے جہاں میرا قیام تھا۔ بستر میں لیٹا ہوں تو ہلکے سے بخار کے ساتھ بدن میں کپکپی چھڑ گئی۔ جتنے بھی گرم کپڑے لایا تھا سب پہن لیے لیکن افاقہ نہ ہوا اور یہ میری اپنی حماقت کی وجہ سے ہوا۔ مسلسل کتابوں پر آٹو گراف دینا۔ تصویریں اتروانا اور مسلسل بولتے چلے جانا کہ انسان کیا کرے۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker