ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے ، ظالم حکومت ۔۔ملک میں بے روزگاری پورے عروج پر ظالم حکومت۔۔ ملک میں بے بسی کا یہ عالم کے والدین اپنی اولاد بیچنے پر مجبور ظالم حکومت۔۔ لوگ غربت کو دیکھ کر خود کشیاں کر رہے ہیں ظالم حکومت۔۔ کھانے پینے کی اشیاء آسمان کو چھونے لگی غریب کی پہنچ سے دور ہو گئی ظالم حکومت۔۔ یہ ظالم حکومت کا لفظ سنتے سنتے میرے کان پک گئے نفرت ہوگئی مجھے اس لفظ سے کہ جو لوگ کہتے ہیں ظالم حکومت حکومت کو ظالم کہنے سے پہلے کبھی اپنا محاسبہ کیا ہے کہ ہم کتنے ایماندار کتنا اسلام کو ماننے والے ہیں کتنا شریعت پر چل کر اپنی زندگی گزارنے والے ہیں اور کس قدر ہم حکمران چننے میں ایمانداری کرتے ہیں
بچے بھوک سے بلک رہے ہیں اور ہماری زبانوں پر نعرہ زرداری نواز عمران زندہ باد بے روزگاری نے گھر گھر کو تباہ کردیا ہماری زبانوں پر یہ نعرہ زندہ باد کا جاری رہا جب ہم اپنے ہی نہ ہو سکے تو ملک کے مخلص کیسے ہوں گے قوم کو دکھ میں دیکھ کر اس کے دکھ میں کیسے شریک ہوں گے ارے نادانو ظالم حکومت نہیں ظالم آپ کی پیپلز پارٹی ظالم آپ کی مسلم لیگ ظالم آپ کی دوسری پارٹیاں جو اپنے مفادات کو دیکھ کر باہر نکلتی ہیں قوم کا دکھ ان کے نزدیک کچھ بھی نہیں یہ تو دیکھتے ہیں کہ حکومت کو گرانا کس طرح ہے یہ تو دیکھتے ہیں ہم نے اپنا اقتدار حاصل کرنا کس طرح ہے اصل ظالم حکومت نہیں اپوزیشن ہے جو حکومت کے تین سال اس ظلم کو دیکھتی بھی رہی اور خاموش اس وقت کے انتظار میں کھڑی رہی کہ ہمیں اشارہ ہو آپ کو اقتدار مل جائے گا آپ اس بے وقوف قوم کو باہر لے کر نکل آؤ کیونکہ یہ قوم صرف نعرے لگانے جانتی ہے کیونکہ یہ قوم ان جھوٹے لیڈروں کو عزت دینا جانتی ہے کیونکہ یہ قوم ہشیاری چلاکی سے بہت دور ہے ان مکار چہروں کے فریب میں یہ قوم بہت جلد آ جاتی ہے ۔
یہ قوم کی سادگی ہے جو اس وقت ان کو بے موت مار رہی ہے اور حکومت کے چاہنے والے لوگ حکومت کی بات اس لئے کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں سپورٹر اپنی حکومت کی حمایت اس لئے کرتا ہے کے اس بچارے کو علم ہی نہیں کہ میں اپنے ساتھ ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے ساتھ ظلم کر رہا ہوں میں حکمران کے ظلم کا ساتھ دے کر اپنے آپ کو بھی مجرم بنا رہا ہوں اس ووٹر کو دس گھر بھوکے نظر آتے ہیں لیکن اس بھوک کی وجہ کیا ہے وہ جاننا نہیں چاہتا اسی طرح اپوزیشن کے ووٹر سپورٹر بی یہی کام کرتے نظر آتے ہیں تو آج فیصلہ کریں مجھے ظالم کون ہے حکومت اپوزیشن یا ہم حکومت اکثر بدلتی ہیں ظلم اکثر ہوتے ہیں اور ہم ہر دفعہ برداشت کرتے ہیں کبھی زرداری چور کا نعرہ کبھی نواز چور کا نعرہ اور عنقریب عمران چور کا نعرہ بھی لگنے والا ہے اگر یہ سب چور ہیں قوم کو لوٹنے والے ہیں قوم کی بربادی میں ان کا ہاتھ ہے قوم کو بھی بس لاغر ان لوگوں نے کیا ہے تو پوچھنا یہ چاہتا ہوں قوم نے کونسا اچھا کام کیا ہے کیا پاکستان پیپلز پارٹی کا بار بار اقتدار کی قوم میں نہیں دیکھا کیا پاکستان پیپلز پارٹی اس قوم کے ووٹوں سے آگے نہیں آئی کیا مسلم لیگ اقتدار میں نہیں آئی کیا مسلم لیگ کے لوگوں کو اس قوم نے ووٹ نہیں دیے اور کیا عمران خان کو ووٹ قوم نے نہیں دیئے سب کو کچھ نہ کچھ قوم سے ملا ہے لیکن سب نے مل کر قوم کو لوٹا ہے قوم کو تباہ و برباد کیا ہے اگر آج کو خون کے آنسو رو رہی ہے تو اس میں حکومت ظالم نہیں بلکہ اپوزیشن ہے جو ابھی تک خاموش اک پتلےکا کردار ادا کر رہی ہے اور اپوزیشن سے ظالم ہم خود ہی جو ووٹ دیتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ ہمارا بھلا کون کرے گا جو ووٹ دیتے ہوے یہ نہیں سوچتے کہ ان میں ہمارے ساتھ مخلص کون ہے اس لئے بس یہی کہوں گا کہ ظالم حکومت نہیں اپوزیشن ہے اور اس سے بڑی بات یہ ہے کہ اپوزیشن بھی ظالم نہیں ظالم ہم خود ہیں جو اپنے بچوں کو اپنے آپ کو ہر دن موت کے گھاٹ اتارتے ہیں لیکن پھر بھی ابھی ان ظالموں کے نعرے لگا کر ان کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں
فیس بک کمینٹ

