ملتان 🙁 اے پی پی ) نوابزادہ نصراللہ خان جیسے سیاستدان غنیمت تھے جنہوں نے آمریت کے خلاف جدوجہد میں ہمیشہ رہنمائی کی ۔ان خیالات کااظہارنامور ماہر قانون اورپاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماءحبیب اللہ شاکر نے نوابزادہ نصراللہ خان کی 20ویں برسی کے موقع پر اے پی پی سے بات چیت کے دوران کیا۔ حبیب اللہ شاکر نے کہاکہ نوابزادہ نصراللہ اتحاد بنانے کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں 18اتحاد بنائے اور جمہوریت کی بقاءکے لیے سرگرم رہے۔ انہوں نے کہاکہ1981ءمیں ایم آرڈی کی تحریک کے دوران یہ نوابزادہ نصراللہ خان ہی تھے جو مولانافضل الرحمن کو ملتان سے اپنے ساتھ کراچی لے گئے ۔ مولانا فضل الرحمن اس زمانے میں ملتان میں زیرتعلیم تھے اور نوابزادہ نصراللہ خان ان کے والد مولانامفتی محمود کے ساتھ اپنی دوستی کے تناظرمیں انہیں اپنا بھتیجا کہتے تھے ۔واضح ہو کہ نوابزادہ نصراللہ خان 1918ءمیں خان گڑھ میں پیداہوئے تھے۔ انہوں نے 1933ءمیں عملی سیاست کاآغازمجلس احرار سے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ 1950ءمیں وہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اورپھرانہوں نے حسین شہید سہروردی کے ساتھ مل کر عوامی لیگ کی بنیادرکھی۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان جمہوری پارٹی کے نام سے اپنی الگ سیاسی جماعت بنائی۔ 27ستمبر2003ءکو وہ اسلام آباد میں انتقال کرگئے۔
18 سیاسی اتحادبنانے والے نامور سیاست دان نوابزادہ نصراللہ خان کی 20ویں برسی کل منائی جائے گی
ایڈیٹر12 Views

