اسلام آباد:مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف چار سال بعد آج وطن واپس آرہے ہیں اور ان کا طیارہ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوگیا ہے۔
نواز شریف کو وطن واپس لانے کےلیے طیارہ ’امید پاکستان‘ ایک گھنٹہ 34 منٹ تاخیر سے 11 بجکر 4 منٹ پر دبئی ائیرپورٹ سے روانہ ہوا۔
سابق وزیراعظم کا طیارہ بندر عباس کے راستے ایران سے ہوتا ہوا پنجگورکے قریب پاکستان کی حدود میں داخل ہوا۔
نواز شریف کی دبئی سے اسلام آباد پرواز کا دورانیہ 3 گھنٹے 5 منٹ ہے جس کے تحت سابق وزیراعظم کا جہاز تقریباً دوپہر ڈھائی بجے اسلام آباد میں لینڈ کرے گا۔
میاں نواز شریف کے ہمراہ 148 مسافر خصوصی پرواز میں پاکستان آ رہے ہیں جب کہ لیگی رہنما عرفان صدیقی، ناصر جنجوعہ اور ڈاکٹر عدنان بھی ان کے ہمراہ ہیں۔
سابق وزیراعظم کا خصوصی طیارہ دبئی سے اسلام آباد پہنچے گا جہاں سے وہ لاہور کے لیے روانہ ہوں گے۔
نواز شریف کا طیارہ پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی ان کے چھوٹے بھائی اور سابق وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے قائد کو پنجابی میں خوش آمدید کہا۔
شہباز شریف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ‘نواز شریف، جی آیا نوں‘ لکھا۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد آمد پر سابق ڈپٹی میئر اسلام آباد ذیشان نقوی ان کا استقبال کریں گے جس کے لیے وہ ائیرپورٹ پہنچ گئ ے۔
ذیشان نقوی نے کہا کہ طیارے میں ہی جا کر نواز شریف کا اسلام آباد آمد پر استقبال کیا جائے گا اور ان کی روانگی کے بعد بذریعہ موٹروے جلسہ گاہ روانہ ہوں گا۔
دبئی ائیرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ’ آج 4سال کے بعد پاکستان جارہا ہوں، بہت ہی اچھا ہوتا کہ آج 2017 کے مقابلے میں حالات بہتر ہوتے مگر دکھ کی بات ہے کہ ملک آگے جانے کے بجائے پیچھے چلا گیا، پاکستان میں اضطراب والے حالات ہیں جو پریشان کن ہیں اور حالات ہم نے بگاڑے بھی خود ہی ہیں اب ٹھیک بھی خود ہی کرنے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’جو ملک آئی ایم ایف کو بھی خدا حافظ کہہ چکا تھا اب مسائل کا شکار ہے، وہ پاکستان جہاں لوڈ شیڈنگ ختم ہوگئی تھی، علاج کی سہولت موجود تھی کیا وہ پاکستان آج نظر آتا ہے، اگر ہم نے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا تو خود ہونا ہے کسی نے نہیں کرنا، آج ملک پیچھے چلا گیا ہے ملک میں روٹی سستی تھی اور غریب کا بچہ بھی اسکول جاتا تھا، علاج کی مفت سہولیات میسر تھیں بتائیں وہ پاکستان آج نظر آتا ہے‘۔
اس سے قبل نوازشریف سے فون پر گفتگو کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان آپ کے استقبال کیلئے تیار ہے، مینار پاکستان پر تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا۔
لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں (ن) لیگ کے جلسے کے لیے ٹریفک پلان جاری کردیا گیا ہے۔
پارک کے داخلی اور خارجی راستوں سمیت گرد و نواح میں اضافی نفری تعینات ہوگی جب کہ شرکا کی گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے 16 پوائنٹس مخصوص کیے گئے ہیں، شرکا کو راستہ ایپ، ایف ایم ریڈیو، ہیلپ لائن 15 کے ذریعے ٹریفک صورتحال سے آگاہ رکھا جائے گا جب کہ ایمبولینسز اور ایمرجنسی گاڑیوں کے لیے راستہ کلیئر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
نواز شریف وطن واپسی پر لاہور میں مینار پاکستان پر جلسے سے خطاب کریں گے جہاں وہ آئندہ کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کریں گے۔
(ن) لیگ کے صدر شہبازشریف اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے مینار پاکستان کا دورہ کرکے جلسے کے انتظامات کا جائزہ لیا۔
مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم ناز نے دعویٰ کیا ہےکہ جلسے کے مقام گریٹر اقبال پارک پر کارکنان کے لیے 40 ہزار کرسیاں لگائی گئی ہیں۔
گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے وطن روانگی سے قبل گزشتہ روز دبئی میں مصروف دن گزارا۔
ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز دبئی حکومت کی ایک اعلیٰ شخصیت نے نوازشریف سے ملاقات کی جس میں پاکستان میں سرمایہ کاری سمیت باہمی دلچسپی کے امورپر گفتگو کی گئی۔
پنجاب اور پاکستان کے دیگر شہروں سے قافلے لاہور پہنچ رہے ہیں، نواز شریف کے استقبال کیلئے کارکنوں کی اسپیشل ٹرین مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ کی قیادت میں حیدرآباد ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہوئی۔
اس کے علاوہ جامشورو، ٹنڈو الہیار، ٹنڈو محمد خان، میرپورخاص، سجاول اور تھرپارکر سمیت دیگر اضلاع سے حیدرآباد پہنچنے والے قافلوں کے شرکا حیدرآباد سے چلنے والی اسپیشل ٹرین میں سوار ہو کر لاہور کیلئے روانہ ہوئے۔
کارکنان کی بڑی تعداد سندھی ٹوپی اور اجرک جب کہ تھرپارکر کے قافلے میں شامل کارکنوں نے تھر کی روایتی پگڑی پہنی ہوئی تھی۔
خواتین کارکنوں کی بھی بڑی تعداد ٹرین میں سوار ہے، ن لیگی کارکنان ڈھول کی تھاپ پر رقص بھی کرتے رہے، اسپیشل ٹرین 21 اکتوبر کی دوپہر لاہور پہنچے گی۔
نوازشریف کے استقبال کیلئے (ن) لیگ کے کارکنوں کے قافلے لاہور کیلئے رواں دواں ہیں، کارکنوں نے کوہالہ پل کے مقام پر ریلی بھی نکالی اور نواز شریف کے حق میں نعرے لگائے۔
ن لیگ کے سینیئر رہنما ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر کا کہنا تھا کہ کشمیری بڑی تعداد میں نواز شریف کے استقبال کیلئے لاہور پہنچیں گے۔
بلوچستان کے ڈویژن نصیر آباد، جعفر آباد، جھل مگسی، بولان، صحبت پور، سبی، ڈیرہ بگٹی، اوستہ محمد اور ڈیرہ مراد جمالی سمیت مختلف علاقوں سے سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل قافلے لاہور کیلئے روانہ ہوئے۔
(بشکریہ: جیو نیوز)

