اہم خبریں

انڈونیشیا میں زلزلے کے بعد سونامی : سیکڑوں افراد ہلاک و لاپتہ

جکارتہ : انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں طاقتور زلزلے کے بعد سونامی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 500 تک پہنچ گئی ہے اور متعدد لاپتہ ہو گئے جبکہ علاقے میں مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔جمعے کو آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ پانچ ریکارڈ کی گئی اور زلزلے کے نتیجے میں آنے والی سونامی کی دو میٹر لہروں نے ساحلی شہر پالو میں تباہی مچا دی۔حکام نے 384 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تمام ہلاکتیں پالو شہر میں ہوئی ہیں۔شہر میں زلزلے اور پھر سونامی کے نتیجے میں تباہی ہوئی ہے اور سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لاشیں شہر کی گلیوں میں پڑی ہیں جبکہ عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں۔شہر میں زخمیوں کو طبی امداد دینے کے لیے عارضی مراکز بنائے گئے ہیں کیونکہ شہر کے ہسپتال کو بھی زلزلے کے نتیجے میں نقصان پہنچا ہے۔پالو شہر کا ہوائی اڈہ بھی متاثر ہوا ہے تاہم حکام اڈے پر کئی فوجی ہوائی جہازوں کو اتارنے میں کامیاب ہوئے ہیں جن میں امدادی سامنا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں اور متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔خیال رہے کہ گذشتہ ماہ انڈونیشیا میں سیاحوں میں مقبول جزیرے لومبوک میں متعدد بار زلزلہ آیا تھا جس میں پانچ اگست کو آنے والے زلزے میں 460 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔انڈونیشیا کے امددای ادارے کے سربراہ محمد سائروگی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ’ وہاں بہت ساری لاشیں پڑی ہیں لیکن ہلاکتوں کی صحیح تعداد کے بارے میں ابھی نہیں جانتے ہیں۔‘امریکی جیولاجیکل سروے کے مطابق زلزلہ جمعے کی شام چھ بجے آیا اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔زلزلے کے نتیجے میں سونامی کی وراننگ جاری کی گئی تھی لیکن اسے ایک گھنٹے بعد ہی واپس لے لیا گیا۔ انڈونیشیا کی میٹرولوجیکل اینڈ جیو فزکس کے سربراہ کے مطابق’ اس وقت صورتحال کافی ابتر ہے۔ لوگ افراتفری میں بھاگ رہے ہیں جبکہ عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں۔ ایک بحری جہاز بھی سونامی کے نتیجے میں بہہ کر ساحل پر آ گیا ہے۔‘خیال رہے کہ انڈونیشیا میں 2004 میں آنے والی تباہ کن سونامی کے نتیجے میں ایک لاکھ 20 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ سونامی سے دیگر ممالک بھی متاثر ہوئے تھے جن میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ 26 ہزار سے زیادہ تھی۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker