اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر درخواستوں پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دے دیا۔ تاہم نواز شریف کو نا اہل قرار نہیں دیا گیا ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کورٹ روم نمبر 1 میں پاناما لیکس کے معاملے پر آئینی درخواستوں کا فیصلہ سنایا، جو رواں برس 23 فروری کو محفوظ کیا گیا تھا۔ فیصلہ 540 صفحات پر مشتمل ہے، جسے جسٹس اعجاز اسلم خان نے تحریر کیا۔ فیصلے پر ججز کی رائے تقسیم ہے، 3 ججز ایک طرف جبکہ 2 ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد خان نے اختلافی نوٹ لکھا۔ فیصلے کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ جے آئی ٹی ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرے۔ جے آئی ٹی میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب)، ایس ای سی پی اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کو شامل کیا جائے، جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی۔
بدھ, جون 10, 2026
تازہ خبریں:
- رات گئے شدید حملوں کے بعد ایران کے خلاف امریکی جوابی کارروائیاں ختم
- کوئٹہ : سرکاری ملازم نے مبینہ طور پر بیوی اور چار بچوں کو قتل کرکے خودکشی کر لی
- ڈکار مینیجمنٹ فورس اور بریتھ ریگولیشن اتھارٹی :شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا لانگ مار چ شروع
- جنگ کے دو متوالوں کے درمیان پھنسے صدر ٹرمپ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- عدلیہ سے مکالمے کی ضرورت : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا تجزیہ
- کشیر کی کہانی ۔۔ کل کے اتحادی آج کے دہشت گرد : حامد میر کا کالم
- آزاد کشمیر : عوام اور پولیس میں جھڑپیں، تین پولیس اہلکار ہلاک، 50 افراد زخمی: کمشنر راولاکوٹ
- آزاد کشمیر میں تصادم سے گریز کی ضرورت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- اسلام آباد میں ایک صحافی لاپتہ ہونے کی اطلاعات

