2018 انتخاباتاہم خبریںخیبر پختونخواہ

کرپشن پر کابینہ سے نکالے جانے والے محمود خان خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ نامزد

پشاور : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے محمود خان کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نامزد کر دیا۔محمود خان حلقہ پی کے 9 سوات سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے 25 ہزار 697 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔وہ سابق حکومت میں صوبائی وزیر آبپاشی، سیاحت و کھیل کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔انہیں بد عنوانی کے الزام میں2014 میں صوبائی کابینہ سے نکال دیا گیا تھا ۔ محمود خان 2012 میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے اور وہ پی ٹی آئی ملاکنڈ ریجن کے صدر بھی ہیں۔پارٹی ذرائع کے مطابق محمود خان کو سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی بھی حمایت حاصل تھی۔محمود خان کا تعلق سوات کے تحصیل مٹہ سے ہے، وہ 1972 کو ڈاکٹر محمد خان کے گھر پیدا ہوئے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم سوات کے علاقہ خوازہ خیلہ میں سرکاری اسکول سے لی، جبکہ میٹرک اور ایف ایس سی کی تعلیم پشاور پبلک اسکول سے حاصل کی۔محمود خان نے ایم ایس سی (زراعت) کی ڈگری پشاور یونیورسٹی سے حاصل کی۔وہ 2008 میں بلدیاتی انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے یونین کونسل کے ناظم منتخب ہوئے۔محمود خان نے 2013 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 84 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ادھر عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما زاہد خان نے کہا ہے کہ عمران خان کے لئے کل کا بدعنوان محمود خان آج کا فرشتہ ٹھہرا ہے،تبدیلی آنہیں رہی آگئی ہے ۔پی ٹی آئی کی طرف وزیراعلیٰ کے نامزدگی سامنے آنے کے بعد ردعمل دیتے ہوئے اے این پی رہنما نے کہا کہ عمران خان نے پہلا اختیار ایک بدعنوان کی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی نامزدگی کیلئے استعمال کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین سابقہ دور حکومت میں بدعنوانی ثابت ہونے پر 6 صوبائی وزرا کو نکالا تھا،ان ہی میں سے ایک کل کا بدعنوان محمود خان آج کا فرشتہ ٹھہرا ۔زاہد خان نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کے پہلے اختیار میں بدعنوان وزیراعلیٰ کی نامزدگی بعد لگتا ہے کہ وفاقی کابینہ بھی بدعنوان ٹولے پر مشتمل ہوگی

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker