تجزیےلکھارینصرت جاوید

نصرت جاویدکا تجزیہ:پرویز رشید سینٹ سے باہر

پرویز رشید کے ساتھ میرا ذاتی تعلق بہت پرانا ہے۔کہانی 1969سے شروع ہوتی ہے جب ہم دونوں طلباء سیاست کے ذریعے اس ملک میں ویسا ’’انقلاب‘‘ لانا چاہ رہے تھے جو ماؤزے تنگ نے لانگ مارچ کے ذریعے چین میں برپا کیا تھا۔بالآخر خواب دیکھنے کے دن تمام ہوئے۔تعلیم سے فراغت کے بعد ہم دونوں رزق کمانے کی مشقت میں مبتلا ہوگئے۔’’نظریات‘‘ کی گرفت کمزور پڑنا شروع ہوگئی۔میں کل وقتی صحافت کی نذر ہوگیا۔پرویز رشید نے تاہم سیاست سے تعلق برقرار رکھا۔ان دنوں نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کے سرکردہ رہنمائوں میں شمار ہوتے ہیں۔ہم دونوں باہم مل بیٹھیں تو شاذہی سیاسی موضوعات کو زیر بحث لاتے ہیں۔اپنے ایام جوانی یاد کرتے ہیں۔فلموں اور موسیقی کا ذکر ہوتا ہے۔وہ میری صحافت میں مداخلت نہیں کرتے۔میں ان کی سیاست پر تبصرہ آرائی سے گریز کرتا ہوں۔
پرویز رشید سے ذاتی تعلق کا مگر نقصان یہ ہوا کہ موصوف کے بارے میں جو تاثر ہمارے میڈیا کے ایک مخصوص حصے کی جانب سے پھیلایا گیا ہے اسے ٹھوس حقائق کے ذریعے ’’درست‘‘ کرنے کی میں نے کبھی کوشش نہیں کی۔یہ تاثر کہ وہ ’’انتہاپسند‘‘ ہیں۔نواز شریف یا ان کی دُختر جب بھی اپنی جماعت کے ’’سنجیدہ اور تجربہ کار‘‘رہ نماؤں کی جانب سے دکھائی ’’سیدھی راہ‘‘ پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان دونوں کو ’’بھڑکا‘‘ کر گمراہ کردیتے ہیں۔کئی بار جی چاہا کہ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوئے چند اہم ترین واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے ثابت کروں کہ نواز شریف ’’بھولے تو ہیں مگر اتنے بھی نہیں‘‘۔1993میں مثال کے طورپر جب ان دنوں کے صدر غلام اسحاق خان نواز شریف کی پہلی حکومت کو فارغ کرنا چاہ رہے تھے تو سابق وزیر اعظم اچانک ٹی وی پر نمودار ہوگئے۔’’میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘‘والی تقریر فرمادی۔پرویز رشید کا اس زمانے میں نواز شریف سے کوئی تعلق نہیں تھا۔پیپلز پارٹی سے مایوس ہوکر کاروبار جمانے کی فکر میں تھے۔غلام اسحاق خان نے جب مذکورہ تقریر کے بعد نواز شریف کو فارغ کیا توپرویز رشید نے ان سے رابطے بڑھائے اور آج تک ان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ ’’میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘‘ والی تقریر پرویز رشید نے نہیں کروائی تھی۔ ’’دوست نوازی‘‘ کے الزام سے خوفزدہ ہوکر لیکن ’’ریکارڈ‘‘درست نہ کرپایا۔
1993کے بعد نواز شریف صاحب دوبار اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں۔ ان دونوں ادوار میں پرویز رشید ہرگز وزراء اور مصاحبین کے اس گروہ میں شامل نہیں تھے جو وزیر اعظم کی جانب سے اپنائی پالیسیوں کی تشکیل میں حتمی کردار ادا کرتا تھا۔اپریل 2016میں تاہم پانامہ پیپرز منظرِ عام پر آئے تو ہمارے ہاں سیاسی تناؤنے سنگین صورت اختیار کرلی۔ کئی ایسے مقامات آئے جہاں نواز شریف کے دیرینہ وفادار ہونے کے دعوے دار بھی مصلحت آمیز خاموشی اختیار کرنے کو مجبور ہوئے۔وزیر اطلاعات ہوتے ہوئے پرویز رشید کی اخلاقی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے قائد کی سوچ کو مؤثرانداز میں عوام کے روبرو لائیں۔اس ضمن میں انہوں نے کوتاہی نہیں دکھائی۔بالآخر اس کی بدولت نام نہاد ’’ڈان لیکس‘‘ کے ذمہ دار ٹھہراکر وزارتِ اطلاعات سے فارغ کردئیے گئے۔اپنی فراغت کو بجائے ذاتی توہین سمجھنے کے ’’انتہا پسند‘‘مشہور ہوئے پرویز رشید نے تاہم اقتدار کے کھیل سے جڑی محدودات کا کشادہ دلی سے ادراک کیا۔تمام تر سمجھوتوں کے باوجود اگرچہ نواز شریف بھی بالآخر بچ نہیں پائے۔ سپریم کورٹ نے عوامی عہدوں کے لئے انہیں تاحیات نااہل قرار دے رکھا ہے۔احتساب عدالت نے ا نہیں طویل عرصے کے لئے جیل بھیج دیا تھا۔پرویز رشید کی مبینہ ’’انتہاپسندی‘‘ کے اسیر ہوتے تو آج بھی جیل میں مقید ہوتے۔مسلم لیگ کے ’’سنجید اور تجربہ کار‘‘ رہ نمائوں نے مگر انہیں جیل سے نکال کر علاج کی خاطر لندن بھجوانے کی راہ دریافت کرلی۔ پرویز رشید نے ان کی کوشش کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کبھی نہیں کی۔نواز شریف نے لندن چلے جانے کے بعد طویل خاموشی اختیار کررکھی تب بھی پرویز رشید نے انہیں ’’بول کے لب آزاد ہیں تیرے‘‘ کا ورد کرتے ہوئے دھواں دھار تقاریر کے لئے کبھی نہیں اُکسایا۔ اسلام آباد میں سینٹ کا اجلاس ہوتا تو اس کا رکن ہوتے ہوئے پرویز رشید نے خود بھی ’’انتہا پسند‘‘ تقاریر سے ہمیشہ گریز کیا۔
اس کالم میں بارہا اصرار کیا ہے کہ نواز شریف صاحب نے گزشتہ برس کے وسط میں جب خاموشی کا روزہ توڑا تو پرویز رشید جیسے افراد کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔نیب کے لاہور آفس نے مریم نواز صاحبہ کو اس شہر میں خریدی چند زمینوں کی بابت سوالات کا جواب دینے کے لئے طلب کیا تھا۔قانونی ماہرین سے مشورہ کے بعد پارٹی کے ’’سنجید اور تجربہ کار‘‘ رہ نمائوں نے فیصلہ کیا کہ بجائے ذاتی طورپر پیش ہونے کے مریم نواز صاحبہ نیب کو ایک تحریری جواب بھجوادیں۔ لندن میں بیٹھے نواز شریف نے تن تنہا یہ حکم صادر کیا کہ مریم نواز ذاتی طورپر پیش ہوں۔اس فیصلے کی ’’اطلاع‘‘پرویز رشید کو بھی پہنچائی گئی۔وہ مریم صاحبہ کے ہمراہ نیب کے دفتر جانے کو تیار ہوئے۔یہ الگ بات ہے کہ ’’پلس مقابلے‘‘ کی وجہ سے وہ پیشی نہ ہوپائی۔ میڈیا کے ذریعے مگر تاثر یہ پھیلایا گیا کہ نیب کے دفتر کے روبرو ہوئی ہنگامہ آرائی درحقیقت پرویز رشید کے ’’تخریبی‘‘ ذہن کی بدولت ہوئی۔
گزشتہ برس کے ستمبر میں پی ڈی ایم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف صاحب نے اپنے کئی وفاداروں کو حیران وپریشان کردیا تھا۔انتہائی ذمہ داری سے میں دہرارہا ہوں کہ پرویز رشید بھی مذکورہ تقریر سے ’’حیران‘‘ ہوئے تھے۔ تاثر جبکہ یہ پھیلایا گیا کہ مذکورہ تقریر کا متن پرویز رشید جیسے دو یا تین ’’انتہا پسند‘‘ مشیروں نے تیار کیا تھا۔ نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی مسلم لیگ کے سرکردہ رہ نمائوں کی اکثریت بھی یہ محسوس کرتی ہے۔لاہور کی گلیوں میں ایسی مشاورت کو ’’مروادینے‘‘ والے مشورے شمار کیا جاتا ہے۔مسلم لیگ (نون) کے اراکین قومی یا صوبائی اسمبلی کی اکثریت کو تنہائی میں ملیں تو وہ انتہائی بے بسی سے پرویزرشید کو ’’مروادینے‘‘ والے مشوروں کا ذمہ دار بناکر پیش کرتے ہیں۔حتیٰ کہ شہباز شریف صاحب بھی اپنی جماعت کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں پرویز رشید کو اکثر طنزیہ انداز میں ’’کامریڈ‘‘ پکارتے رہے ہیں۔
ایسے تمام افراد کو اب مطمئن ہوجانا چاہیے۔پرویز رشید کے سینٹ میں لوٹنے کی گنجائش ختم ہوئی۔ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے ہیں۔اپیل سے بھی کوئی راہ میسر نہیں ہوئی۔ایمان داری کی بات ہے کہ میرے لئے ان کے کاغذاتِ نامزدگی کا مسترد ہونا ہرگز کوئی خبر نہیں تھی۔آج سے تقریباََ دو ماہ قبل چند صحافی اور سیاست دان دوستوں کے ساتھ میں اور پرویز رشید ایک بے تکلف محفل میں موجود تھے۔بجائے گپ شپ میں وقت ضائع کرنے کے میں نے دوستانہ فکرمندی سے اس خدشے کا ڈٹ کر اظہار کیا کہ پرویز رشید کو سینٹ کے آئندہ انتخاب میں حصہ نہیں لینے دیا جائے گا۔وہ ’’تکنیکی‘‘ بنیادوں پر نااہل قرار دئیے جائیں گے۔اس محفل میں موجود تمام افراد نے میری رائے سے شدید اختلاف کیا۔مجھے سمجھانے کی کوشش ہوئی کہ نواز شریف اور مریم صاحبہ بتدریج اپنی محدودات دریافت کرلینے کے بعد اب ’’ذمہ دار سیاست‘‘ کرنا شروع ہوگئے ہیں۔پرویز رشید کی ممکنہ نااہلی انہیں خواہ مخواہ کا اشتعال دلائے گی۔
میں اپنی رائے پر مسلسل ڈٹا رہا۔گزشتہ اتوار کے دن چند صحافی دوستوں کے ہمراہ ایک ظہرانے میں موجود تھا۔ وہاں بیٹھے سب دوستوں کی رائے تھی کہ ’’واجبات‘‘ ادا کرنے کے بعد پرویز رشید بآسانی سینٹ کے امیدوار بن جائیں گے۔میری خوفزدہ جبلت مگر خوش گمانی سے بہلنے کو تیار نہیں ہوئی۔پرویز رشید کا سینٹ سے باہر رہنا دیوار پرلکھا نظر آرہا تھا۔یہ کالم لکھنے تک میری ان سے بات نہیں ہوئی ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے موصو ف کے منگل کی صبح لیکن جوبیانات دیکھے ہیں انہیں پڑھنے کے بعد اعتماد سے لکھ سکتا ہوں کہ پرویز رشید کو بھی اب سمجھ آگئی ہے کہ ان کے لئے وطن عزیز میں معافی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔اقتدار کے کھیل میں ایسے واقعات ہوا کرتے ہیں۔فیض احمد فیض نے ان واقعات ہی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ’’ہم جو تاریک رہاہوں میں مارے گئے‘‘ والی نظم لکھی تھی۔ یہ سوال مگر اپنی جگہ برقرار رہے گا کہ پرویز رشید کے ’’نااہل‘‘ قرار پاجانے کے بعد نواز شریف سے ’’انتہا پسند‘‘ بیانات اب کون دلوائے گا۔
(بشکریہ:روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker