تجزیےلکھارینصرت جاوید

نصرت جاویدکاتجزیہ:تاریخ کو خود کو دہرانے کا عمل

پیر کے روز پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے نہایت اخلاص سے عالمی رہ نمائوں کو مشورہ دیا کہ وہ دنیا کو درپیش مسائل کا حل ڈھونڈنے کے لئے ہمارے وزیر اعظم کی بصیرت سے رجوع کریں۔یہ مشورہ دیتے ہوئے صدر عارف علوی نے بہت مان سے ہم کو یہ بھی یاد دلایا کہ گزشتہ 20برسوں کے دوران عمران خان صاحب وہ واحد سیاست دان تھے جو شدت اور ثابت قدمی سے یہ پیغام دینے کو مصر رہے کہ افغانستان کا فوجی حل موجود نہیں ہے۔ان کی رائے کو مگر توجہ سے سننے کی کوشش بھی نہیں ہوئی۔ بالآخر کھربوں ڈالر اور لاکھوں انسانی جانوں کے زیاں کے بعد امریکہ کو طالبان سے مذاکرات کے ذریعے افغانستان سے انخلاء کے راستے ڈھونڈنا پڑے۔
حسین اتفاق یہ ہوا ہے کہ عارف علوی صاحب کے برسرعام دئیے مشورے کے عین دوسرے روز روسی صدر پوٹن نے عمران خان صاحب سے ٹیلی فون پرگفتگو کی۔اس گفتگو کے دورانیے اور زیر بحث آئے موضوعات کی تفصیلات کا مجھے علم نہیں۔اہم بات مگر یہ ہے کہ روسی صدر پاکستان کے وزیر اعظم سے گفتگو کو راغب ہوا۔
پوٹن کمیونسٹ دور میں سوویت یونین کی انٹیلی جنس ایجنسی-کے جی بی-کا متحرک ترین افسر رہا ہے۔ہمارے وزیر اعظم صاحب کی طرح خود کو جسمانی اعتبار سے فٹ رکھنے کے لئے روزانہ ورزش کا عادی بھی ہے۔سوویت یونین کی تباہی کے بعد روس میں جو انتشار پھیلا تھا اسے قابو میں لانے کا سارا کریڈٹ اس کی استقامت اور ذہانت کو دیا جاتا ہے۔اس کا ذاتی رحجان مذہبی بھی ہورہا ہے۔گلے میں صلیب پہنتا ہے اور اس امر کا خواہاں کہ اس کا ملک مسیحی اقتدار کی حتمی علامت بن جائے۔وہ سنجیدگی سے سوچتا ہے کہ مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام نے جو جمہوریت متعارف کروائی ہے وہ خلقِ خدا کے مسائل کا حل فراہم نہیں کرسکتی۔معاشرے میں امن وسکون یقینی بنانے کے بجائے انفرادی آزادیوں کے چونچلے لوگوں کو خود غرض بنادیتے ہیں۔وہ خاندانی رشتوںکا احترام بھی بھلادیتے ہیں۔فقط اپنی ذات تک محدود ہوئے افراد بالآخر ایک باوقار قوم کی نمائندگی کے بجائے منتشر ہجوم میں تبدیل ہوجاتے ہیں جو قومی سلامتی کے لئے سنگین خطرات کے موجب بھی ہوتے ہیں۔
کامل اختیارات کے حصول کے بعد پوٹن اب مغرب کو کئی محاذوں پر للکارنا شروع ہوگیا ہے۔وہ اس کے خلاف ثقافتی جنگ برپا کرنے کو بھی ہمہ وقت تیار ہے۔ہمارے وزیر اعظم بھی طویل وقت گزارنے کے بعد مغربی اقدار سے بیزار ہوچکے ہیں۔پوٹن اور ان کے مابین نظریاتی ہم آہنگی استوار ہونے کے لہٰذابے پناہ امکانات ہیں۔عمران خان صاحب کو انہیں ٹھوس شکل دینے کی کوشش کرنا چاہیے۔
روس نے کمیونسٹ نظام کے دوران افغانستان کو ازبکستان وغیرہ کی طرح اپنی کالونی بنانے کی کوشش کی تھی۔جہادنے مگر اسے بدترین شکست سے دو چار کیا۔مذکورہ جہاد کا طاقت ور ترین سرپرست ہوتے ہوئے بھی امریکہ مگر نائن الیون کے بعد افغانستان میں درآیا۔دو دہائیوں کی طویل جنگ بھی لیکن اسے افغانستان کا حاکم نہ بناپائی۔ اب ذلت آمیز انداز میں وہاں سے رخصت ہوگیا ہے۔افغانستان کی جان چھوڑتے ہوئے امریکہ کے ذہن میں لیکن یہ سوچ بھی تیزی سے حاوی ہورہی ہے کہ طالبان ویسے ہی سخت گیر اور متشدد رہیں گے جیسے 1997میں کابل پر قبضے کے بعد نظر آتے تھے۔دین کا بزورطاقت فروغ امریکہ کی نگاہ میں طالبان کا حقیقی ہدف ہے۔ اسی باعث واشنگٹن کو گماں ہے کہ افغانستان میں سیاسی اعتبار سے مستحکم اور معاشی حوالوں سے خوش حال معاشرہ تعمیر کرنے کے بجائے طالبان اپنے ہمسایہ ممالک میں وہ نظام پھیلانے کی کوشش کریں گے جو ان کی دانست میں حقیقی اسلام ہے۔
پاکستان بھی مذکورہ امکان سے غافل نہیں۔عمران خان صاحب کو تاہم اعتماد ہے کہ دین سے اپنی ذاتی رغبت کی بنا پر وہ طالبان کے متعارف کردہ ورژن سے پاکستان کو محفوظ رکھ پائیں گے۔ روس اس ضمن میں ان جیسا پراعتماد نہیں۔وسطی ایشیاء میں افغانستان کی ہمسایہ ریاستیں روس کی قیادت میں قائم سوویت یونین کا حصہ رہی ہیں۔کمیونزم کی تباہی کے بعد وہاں بھی احیائے اسلام کی تڑپ اجاگر ہوئی ۔ ازبکستان نے پوری شدت سے اس تحریک کو ابھرنے نہیں دیا۔تاجکستان البتہ طویل عرصے تک خانہ جنگی کا شکار رہا۔ روس ان دونوں ممالک کو ہر صورت اپنے حلقہ اثر میں رکھنا چاہتا ہے۔اسے خدشہ ہے کہ اگر وہاں مذہب کے نام پر پُرتشدد تحاریک کا آغاز ہوگیا تو ماسکو بھی ان کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے گا۔پوٹن نے ذاتی طورپر چیچنیا میں احیائے اسلام کی تحریک کو ناکام بنانے کے عمل کی نگرانی کی ہے۔وہ افغانستان پر بھی کڑی نگاہ رکھنے کو مجبور ہے۔
روسی صدر مزید فکر مند اس لئے بھی ہورہا ہے کیونکہ افغانستان میں بسے تاجک افراد کی اکثریت طالبان کی کابل میں فاتحانہ واپسی سے خوش نہیں۔خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے ان کے ہزاروں کنبے تاجکستان منتقل ہونے کو بے چین ہیں۔تاجکستان کا صدر جو اپنے ملک کی مساجد اور مدارس پر کڑی نگاہ رکھتا ہے اس وجہ سے بہت پریشان ہے۔طالبان نے جس حکومت کا اعلان کیا ہے وہ اس میں تاجکوں کی نمائندگی کے بارے میں مطمئن محسوس نہیں کررہا۔ یہ مطالبہ دہرارہا ہے کہ طالبان حکومت میں تاجک لوگوں کو ان کے جثے کے مطابق حصہ دیا جائے۔
پوٹن کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ وسطی ایشیاء کا غریب ترین ملک ہوتے ہوئے تاجکستان اگر طالبان کے عروج اور استحکام سے واقعتا گھبرا گیا تو خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے امریکہ اور مغرب کے دیگر ممالک کی توجہ کا طلب گار ہوگا۔فرانس کی افغانستان میں بسے تاجکوں کے ساتھ تاریخی دوستی رہی ہے۔وہ احمد شاہ مسعود کا دل وجان سے فریفتہ بھی رہا۔فرانس میں بھی ان دنوں اسلام اور مسلمانوں کو شدید خطرہ بناکردکھایا جارہا ہے۔اسی باعث فرانس کا وزیر خارجہ طالبان حکومت کی تشکیل کی بابت مسلسل سوال اٹھارہا ہے ۔ ہمارے ازلی ویری بھارت کے بھی تاجکستان سے دیرینہ مراسم رہے ہیں۔احمد شاہ مسعود کی طالبان کے خلاف مزاحمت کوفوجی تعاون فراہم کرنے کے لئے بھارت نے تاجکستان سے راستے بنائے تھے۔
پوٹن کی یہ خواہش ہے کہ بھارت ماضی کی تاریخ دہرانے سے گریز کرے۔ اسی وجہ سے وہ بھارتی وزیر اعظم مودی کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہے۔مجھے گماں ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم کے ساتھ روابط بڑھاتے ہوئے پوٹن یہ بھی چاہے گا کہ بھارت کے ساتھ ہمارے معاملات افغانستان کی وجہ سے مزید مخاصمانہ نہ ہوجائیں ۔وہ پاکستان اور بھارت کے مابین بدگمانیوں کو کم ہوتا دیکھنا چاہے گا۔
روس نے ایسا ہی کردار 1966میں بھی ادا کیا تھا۔1965کی جنگ کے بعد امن کے لئے حتمی مذاکرات پاکستان اور بھارت کے مابین ان دنوں ماسکو کے زیر نگین تاشقند جیسے تاریخی شہر میں ہوئے تھے۔معاہدہ تاشقند کے باوجود مگر 1971بھی ہوگیا تھا۔پاکستان کو دولخت کرنے والی اس جنگ کے دوران کمیونسٹ روس بھارت کا قریب ترین اتحادی تھا۔بردباری سے کام لیتے ہوئے ہم تاریخ کو خود کو دہرانے سے یقینا روک سکتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker