Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعہ, دسمبر 5, 2025
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • کے پی کے کی عورت جاگ رہی ہے : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا کتاب کالم
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری ایوان صدر بھجوا دی گئی
  • جب آنچلوں سے پرچم بنے : حامد میر کا کالم
  • ماہ رنگ بلوچ دہشت گردی کے مقدمے سے بری
  • ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس موبائل پر شدت پسندوں کا حملہ، تین اہلکار ہلاک
  • ’کھلے مین ہول میں رات کو ہرگز مت گریں‘ ( شہلا رضا اور ان کے بچوں کی کہانی ) : وسعت اللہ خان کا کالم
  • ہائی کورٹ نے انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور کرلی، فوری رہائی کا حکم
  • خاک صحرا پہ لکیریں اور اختلافی نوٹ : وجاہت مسعود کا کالم
  • کیا سب ٹھیک چل رہا ہے ؟ ۔۔ مظہر عباس کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»نصرت جاویدکا تجزیہ:’’وہ کہے اور سنا کرے کوئی‘‘
تجزیے

نصرت جاویدکا تجزیہ:’’وہ کہے اور سنا کرے کوئی‘‘

رضی الدین رضیجون 9, 20220 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
imran march
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

کسی بھی ملک میں خوف وہراس پھیلانے کے لئے سوشل میڈیا کے استعمال کی بابت دنیا بھر میں بہت تحقیق ہوچکی ہے۔فیس بک کے تقریباََ بانی کارکنوں میں سے ایک بلکہ امریکی پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کے روبرو پیش ہوئی تھی۔ کئی دنوں تک پھیلے اپنے بیان کے ذریعے اس نے ٹھوس مثالوں اور اعددوشمار کے ذریعے احساس جرم سے رندھی آواز میں اعتراف کیا کہ وہ جس پلیٹ فارم کے لئے کام کرتی تھی اسے کس انداز میں بھارت،سری لنکا اور برما میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔بھارت میں کئی مقامات پر ایسے ہندو-مسلم فسادات خونی صورت اختیار کر گئے جن کی بنیاد فیس بک پر لگائی جھوٹی تصاویر ہی نہیں بلکہ واٹس ایپ کے ذریعے پھیلائی افواہیں اور اشتعال دلاتے پیغامات بھی تھے۔
وطن عزیز میں سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا پیغام فروغ دینے کی روایت یقینا تحریک انصاف نے متعارف کروائی تھی۔ اقتدار سے محروم ہوجانے کے بعد عمران خان صاحب اس کے تقریباََ ہر پلیٹ فارم کو مہارت سے استعمال کرتے ہوئے ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ اور ’’میر جعفروں‘‘ کے خلاف غم وغصہ بھڑکائے چلے جارہے ہیں۔ایسی مہارت کو انگریزی میں Message Controlکہا جاتا ہے۔کاش میں اس کا اردو مترادف تلاش کرسکتا۔ ویسے بھی میرا اصل مقصد اصرار کرنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے پیغام سازی اور پیغامبری پر اب تحریک انصاف کا اجارہ نہیں رہا۔ مذہبی جذبات مشتعل کرنے میں تحریک لبیک اس سے کہیں زیادہ کامیاب رہی ہے۔مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ہوئے لانگ مارچ اور عوامی اجتماعات کو بھی ان کے کارکن سوشل میڈیا کی بدولت پر رونق اور پرجوش بنائے رکھتے ہیں۔پیپلز پارٹی اس ضمن میں پنجابی محاورے والی ’’لسی سامی‘‘ یعنی مسکین جماعت ہے۔نواز شریف کے نام سے منسوب پاکستان مسلم لیگ تاہم تحریک انصاف کے ساتھ ’’جوڑ برابردا‘‘ والا ماحول بنائے ہوئے ہے۔
یہ جماعت اب عمران خان کی وزارت عظمیٰ سے فراغت کے بعد قائم ہوئی مخلوط حکومت کی سرکردہ شراکت کار ہے۔اس کے وزراء میں مفتاح اسماعیل،شاہد خاقان عباسی اور مصدق ملک امریکہ کی مشہور ترین یونیورسٹیوں کے طالب علم بھی رہے ہیں۔عباسی صاحب خود میں مگن رہنے والے شخص ہیں۔ معاشی معاملات کو ٹی وی سکرینوں پر منطقی انداز میں بیان کرتے ہیں۔جذبات بھڑکانے یا ان سے کھیلنے کے عادی نہیں۔مفتاح اسماعیل اور مصدق ملک مگر گفتار کے ’’غازی‘‘ بھی ہیں۔کسی بھی موضوع کو زیر بحث لاتے ہوئے ’’وہ کہے اور سناکرے کوئی ‘‘والا سماں باندھ دیتے ہیں۔سوشل میڈیا کی کلیدی حرکیات سے بھی غافل نہیں۔
ان دونوں کے ہوتے ہوئے بھی پاکستانی عوام کی اکثریت یہ سمجھنے میں قطعاََ ناکام رہی ہے کہ عمران خان صاحب کے اقتدار سے رخصت ہوتے ہی کونسا ’’جن‘‘ پاکستان پر قابض ہوگیا اور ’’اچانک‘‘ ہمارے ہاں لوڈشیڈنگ کے طویل دورانیے شروع ہوگئے جو تاریخی اعتبار سے ریکارڈ قرار پائے گرمی کے موسم میں ہمیں ’’جہنم برد‘‘ کرتے محسوس ہورہے ہیں۔پیٹرول کی قیمت کو یکمشت ناقابل برداشت حد تک کیوں بڑھانا پڑا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ 60روپے کا جو تباہ کن اضافہ ہوا ہے اس کے بعد بھی چین سے سانس لینے کی مہلت ملے گی یا نہیں۔ ان سوالات کی بابت یہ دونوں وزراء جن سے میرے بے تکلف مراسم بھی ہیں سفاکانہ عدم دلچسپی اختیار کرتے پائے جارہے ہیں۔
تحریک انصاف موجودہ حکومت کی ’’شریک‘‘ یعنی ’’دشمن‘‘ ہے۔اقتدار سے محروم ہوجانے کے بعد اس کا رویہ ’’کھیڈا ں گے نہ کھیڈن دیاں گے‘‘ والا بھی ہوچکا ہے۔’’شریک‘‘ مگر ایسا رویہ اختیار کریں تو اس کی بابت ماتم کنائی درحقیقت ہارے ہوئے لشکر کی نشاند ہی کرتی ہے۔
یہ بات درست ہے کہ سوشل میڈیا پر کامل گرفت کی بدولت تحریک انصاف لوگوں کو یہ تاثر دینے میں کامیاب رہی کہ پاکستان بہت تیزی سے ’’فنانشل ایمرجنسی‘‘ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس کے نافذ ہوجانے کے بعد صارفین کی جانب سے بینکوں میں رکھی اشیاء،رقوم اور اہم کاغذات حکومت کے ’’قبضے‘‘ میں چلے جائیں گے۔ جو ڈالر اکائونٹس ہیں انہیں بھی حکومت ’’اپنا‘‘ لے گی۔
ٹھوس حقیقت جبکہ یہ ہے کہ اگر ’’فنانشل ایمرجنسی‘‘ لگ بھی جائے تب بھی حکومت ایسے اقدامات لے نہیں سکتی۔ مسلم لیگ (نون) کی حکومت نے 1998میں بھارت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے ایٹمی دھماکے کئے تو اس کے بعد پاکستانیوں کے ڈالر اکاؤنٹس کو پاکستانی روپے میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ سرتاج عزیز صاحب نے بطور وزیر خزانہ کیا تھا۔اس کی پاداش میں خزانہ سے ہٹاکر خارجہ امو ر کے وزیر بنادئیے گئے تھے۔اسحاق ڈار صاحب کو بالآخر ان کی جگہ لینا پڑی۔
مذکورہ ’’تاریخ‘‘ کے تناظر میں ’’فنانشل ایمرجنسی‘‘ کے عنوان تلے ابھرتے امکانات پر مبنی افواہوں نے جنہیں یقینا تحریک انصاف کے انٹرنیٹ مجاہدین نے مہارت سے پھیلایا ہے منگل کے روز ہمارے کاروباری حلقوں میں سراسیمگی پھیلادی۔ڈالر ایک بار پھر آسمان کی آخری حدوں تک پروان کو مچلتا محسوس ہوا۔ اس سے زیادہ خوف وہراس پیٹرول کے صارفین میں پھیلا۔ افواہ پھیلی کہ منگل کی رات اس کی قیمت میں ایک بار پھر ’’شب خون‘‘ دکھتے اضافے کا اعلان ہونے والا ہے۔پاکستان کے ہر شہر میں اس کے بعد پیٹرول پمپوں کے سامنے گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی طویل قطاریں لگنا شروع ہوگئیں۔
دگنی حیرت یہ سوچتے ہوئے بھی ہورہی ہے کہ ہمارے بازاروں میں سراسمیگی کا یہ ماحول عین اس روز نظر آیا جب وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے وزیر ومشیر ہمارے اجارہ دار سیٹھوں اور معاشی ماہرین کے اجتماع سے پورے دن تک پھیلی ’’مشاورت‘‘ میں مصروف تھے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل صاحب نے وہاں اپنے خطاب کے دوران ’’تیسری قطار‘‘ میں بیٹھے چند سیٹھوں کی جانب اشارہ کیا جو نجی جہازوں میں سفر کرتے ہیں ۔ان سے پیٹرول کے نرخوں میں اضافے کی بابت مسخرہ پن دکھتی شرمساری کا اظہار کیا۔جو کلمات انہوںنے ادا کئے وہ روایتی اور سوشل میڈیا پر عاجلانہ رفتار کیساتھ پھیل گئے اور پیٹرول پمپوں کے باہر قحط کی زد میں آئے ممالک سے مختص افراتفری نمودار ہونا شروع ہوگئی۔مفتاح اسماعیل ایک کامیاب کاروباری شخص ہیں۔وہ مجھ سے کہیں بہتر جانتے ہیں کہ زبان سے ادا ہوئے لفظ کی کیا اہمیت ہے اور حکومت کا ’’بھرم‘‘ رکھنے کے لئے احتیاط بھرے الفاظ استعمال کرنا لازمی ہے۔ حکومتوں کو ’’مشورے‘‘ دینے کی مجھے علت لاحق نہیں۔ شہباز شریف صاحب کا دربار ویسے بھی ان دنوں کئی ’’صحافتی نورتنوں‘‘ سے بھرا ہوا ہے۔ پاکستان کا بے حس ولاچار شہری ہوتے ہوئے ان سے فریاد ہی کرسکتا ہوں کہ عوام سے روزانہ کی بنیاد پر رابطہ استوار کریں اور انہیں مشکل کی اس گھڑی میں ٹھوس حقائق سے مسلسل آگاہ رکھتے ہوئے امید کی لو جگانے کی کوشش کریں۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleعبدالرشید شکورکاکالم:پاکستان کی ویسٹ انڈیز کے خلاف پانچ وکٹوں سے فتح، بابر اعظم نے اپنا انعام خوشدل شاہ کو دیا
Next Article خالد مسعود خان کا کالم:ملک میں کیا ہو رہا ہے!
رضی الدین رضی
  • Website

Related Posts

آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی : سید مجاہد علی کا تجزیہ

دسمبر 4, 2025

کے پی کے کی عورت جاگ رہی ہے : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا کتاب کالم

دسمبر 4, 2025

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری ایوان صدر بھجوا دی گئی

دسمبر 4, 2025

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی : سید مجاہد علی کا تجزیہ دسمبر 4, 2025
  • کے پی کے کی عورت جاگ رہی ہے : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا کتاب کالم دسمبر 4, 2025
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری ایوان صدر بھجوا دی گئی دسمبر 4, 2025
  • جب آنچلوں سے پرچم بنے : حامد میر کا کالم دسمبر 4, 2025
  • ماہ رنگ بلوچ دہشت گردی کے مقدمے سے بری دسمبر 3, 2025
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2025 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.