Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
پیر, مئی 11, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • منافقت کا موسم اور ایٹمی سیاست : وسعت اللہ خان کا کالم
  • بنیان مرصوص اور سانحہ 9 مئی کا یوم ’اتصال‘ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • بنوں میں پولیس چوکی پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 15 ہو گئی
  • برطانیہ میں تارکین وطن مخالف ’ریفارم یوکے‘ پارٹی کی کامیابی : تجزیہ ۔۔ سید مجاہد علی
  • خیبر پختونخوا میں فتح خیل چوکی پر حملے میں پانچ پولیس اہلکار ہلاک
  • اکڑ بکڑ بمبے بو اور ہُد ہُد کی داڑھی کے باغی بال : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
  • بحرین کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک 41 افراد کی گرفتاری کا دعویٰ
  • 9 مئی 2013 سے 9 مئی 2015 تک :سید علی حیدرگیلانی کےاغواء اور بازیابی کی کہانی : سینیئر صحافی مظہر جاوید سیال کی زبانی
  • باسٹھ برس کی معذرت  : مبارک باد تو بنتی ہے : رضی الدین رضی کی جیون کہانی 
  • مارچ کے بعد پیٹرول پانچویں بار مہنگا : قیمت میں 15 روپے کا اضافہ، نئے نرخ 414.78 فی لیٹر
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»نصرت جاوید کا تجزیہ : ذہن میں آیا ”خلفشار“
تجزیے

نصرت جاوید کا تجزیہ : ذہن میں آیا ”خلفشار“

ایڈیٹرمارچ 15, 20249 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Nusrat Javaid
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

جان کی امان پاتے ہوئے اپنے دل ودماغ میں گزشتہ کئی روز سے اٹکا ایک خیال آج کے کالم میں لکھ دینا چاہتا ہوں۔ جو خیال میرے دل ودماغ کو جکڑے ہوئے ہے اس کے اظہار سے قبل نہایت عاجزی سے اصرار یہ بھی کرنا ہے کہ ذاتی طورپر میں اس سے ہرگز متفق نہیں۔ محض ایک خیال ہے جو دل ودماغ میں گردش کئے چلے جارہا ہے اور میں درحقیقت اسے بیان کرنے کے بعد اس سے جان چھڑانا چاہتا ہوں تاکہ دیگر معاملات پر توجہ مرکوز کی جاسکے۔
بہرحال گزشتہ کئی دنوں سے میرے دل ودماغ کو جکڑنے والا خیال یہ طے کئے ہوئے ہے کہ 8 فروری2024ء کے انتخابی نتائج نے ہماری ریاست کے دائمی اداروں اور وہاں موجود ”ذہن سازوں“ کو یہ سوچنے کو مجبور کردیا ہے کہ ہمارے عوام کی اکثریت واقعتا ”جاہلوں“ پر مبنی ہے۔ وہ اچھے اور برے رہ نماﺅں میں تفریق کے قابل نہیں۔اپریل 2022ء کے آڈیووڈیو لیکس کے ذریعے بے شمار باتیں عوام کے روبرو لائی گئی ہیں۔ان کی بدولت بانی تحریک انصاف کی مبینہ ”اصلیت“ بے نقاب ہوجانا چاہیے تھی۔ ایسا مگر ہوا نہیں۔ بالآخر تحریک انصاف کے بانی کو گرفتار کرنا پڑا۔ ان کے خلاف ایک نہیں کرپشن اور بدعنوانی کے سنگین الزامات کے تحت کئی مقدمات کا آغاز ہوا۔ ایک مقدمہ سائفر کے حوالے سے بھی قائم ہوا۔بعدازاں مبینہ طورپر عدت میں نکاح جیسا سنگین الزام بھی لگا۔ جو الزامات لگے ان کی اڈیالہ جیل میں روزانہ کی بنیاد پر سماعتیں ہوئیں۔بالآخر جیل میں لگی عدالت نے موصوف کے خلاف لگائے الزامات کو درست تسلیم کرتے ہوئے انہیں سزائیں بھی سنادیں۔
عوام نے مگر الزامات لگانے والوں پر اعتبار نہیں کیا۔ 8 فروری 2024ء کے روز تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کے بیلٹ پیپروں پر انتخابی نشان بہت لگن سے ڈھونڈ کر ان پر حمایت کی مہر لگادی۔ تحریک انصاف یوں واحد اکثریتی جماعت کی صورت قومی اسمبلی میں پہنچ گئی۔تمام تر رکاوٹوں کے باوجود تحریک انصاف کے حمایت یافتہ افراد کی اتنی بڑی تعداد میں کامیابی نے عوام کے وسیع تر حصے کو یہ سوچنے پر بھی اکسایا کہ غالباََ تحریک انصاف کے مزید امیدوار بھی کامیاب ہوئے تھے۔ان کی ”کامیابی“ کو البتہ رات گئے کسی بندوبست کے ذریعے مبینہ طورپر ”ناکامی“ میں بدل دیا گیا۔ مذکورہ شک کی وجہ سے فارم 45 سے فارم 47 کا ورد چھڑاجو ابھی تک ہماری جان نہیں چھوڑ رہا۔
عملی صحافت سے عرصہ ہوا ریٹائر ہوجانے کی وجہ سے میں ہرگز اس قابل نہیں ہوں کہ عوام کے وسیع تر حلقوں میں 8 فروری 2024ء کے انتخابی نتائج کی بابت پھیلے شکوک وشبہات کے بار ے میں اعتماد کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کرسکوں۔ ریاست اور اس کی سوچ سے عملی شناسائی کا آغاز میرے لئے 1975ء سے ہوا تھا جب رزق کمانے کی خاطر میں لاہور چھوڑ کر ا سلام آباد آیا تھا۔ 1985ء میں آٹھ برس کے طویل مارشل لاءکے بعد غیر جماعتی بنیادوں پر انتخاب ہوئے۔ان کے نتیجے میں جو قومی اسمبلی تشکیل پائی اس کے اجلاس کا مسلسل مشاہدہ کرتا رہا ہوں۔مذکورہ مشاہدے نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں سمجھ پاﺅں کہ مئی 1988ء میں جنرل ضیا الحق اپنے ہی نامزد کردہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو ان کی اسمبلی سمیت گھر بھیجنے کو کیوں مجبور ہوئے تھے۔
جونیجو صاحب کی فراغت کے بعد میں نے 1988ء سے اکتوبر 1999ء تک محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی قیادت میں حکومتوں کو بنتے اور بگڑتے بھی دیکھا ہے۔ 1990ء کی دہائی پر حاوی حکومتوں کی آنیوں جانیوں سے اکتاکر بالآخر جنرل مشرف کو وطن عزیز میں ایک بار پھر مارشل لاءلگانا پڑا۔ مارشل لاءکے تین سال بعد موصوف نے بھی انتخاب کروائے۔جن کے نتیجے میں ظفر اللہ جمالی وزیر اعظم بنائے گئے۔ وہ پسند نہ آئے تو تھوڑی دیر کو چودھری شجاعت کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھاکر شوکت عزیز کو قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے منتخب کروانے کے بعد وزیر اعظم بنا دیا گیا۔
2002ء میں قائم ہوئی قومی اسمبلی کی آئینی مدت ختم ہونے سے قبل امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے دباﺅپر جنرل مشرف کو محترمہ بے نظیر بھٹو سے سمجھوتہ کرنا پڑا۔وہ مگر وطن لوٹیں تو لیاقت باغ میں شہید کردی گئیں۔ ان کے ہولناک قتل کے باوجود بھی انتخاب ہوئے۔ 2008ء کے انتخاب نے یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم بنایا۔ ”عوام کی حمایت سے“ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے منصب پر لوٹے افتخار چودھری نے مگر انہیں ایک ”چٹھی“ نہ لکھنے کی وجہ سے فارغ کردیا۔ ان کی جگہ راجہ پرویز اشرف آئے اور 2013ء تک اپنے منصب پر فائز رہے۔ 2013ء کے انتخاب کے بعد نواز شریف تیسری بار پاکستان کے وزیر اعظم ہوئے۔ جس انتخاب کی بدولت وہ اس منصب پر پہنچے انہیں مگر ”باریاں لینے والی“ مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کے مقابلے میں ابھرے عمران خان ا ور ان کی تحریک انصاف نے منظور نہیں کیا۔ ”35 پنکچروں“ کی دہائی مچی۔ وہ دہائی کسی کام نہ آئی تو اپریل 2016ء سے پانامہ کا قضیہ شروع ہو گیا۔ مذکورہ قضیے نے ایک بار پھر عدالت کو ایک اور وزیر اعظم ”جھوٹا اور خائن“ پکارتے ہوئے گھر بھیجنا پڑا۔
نواز شریف کی فراغت کے بعد 2016ء کے انتخاب ہوئے تو انہیں عمران خان کے مخالفوں نے ”آر ٹی ایس“ کی پیداوار ٹھہرایا۔ ”وہ“ اور عمران خان مگر ”سیم پیج“ پر بیٹھے تین سال سے زیادہ عرصے تک سکون سے ملک چلاتے رہے۔ مارچ 2021ء سے مگر سیم پیج والوں کے درمیان بدگمانیاں شروع ہوگئیں اور بالآخر اپریل 2022ء آ گیا۔
پاکستان کی حالیہ تاریخ 1985ء سے دہرانے کو اس لئے مجبو ہوا ہوں کہ 8 فروری 2024ء کے روز ہوئے انتخاب کے حتمی نتائج بھی عوام کی اکثریت کو اطمینان دلانے میں اب تک نا کام ہو رہے ہیں اور یوں ملک میں سیاسی استحکام فراہم کرنا دشوار تر ہورہا ہے۔ایسے حالات مجھے یہ سوچنے کو مجبور کررہے ہیں کہ ریاست کے دائمی اداروں ہی کو آگے بڑھ کر ہمارے لئے سیاسی بندوبست طے کرناپڑرہا ہے۔ممکنہ بندوبست میں سیاستدان شطرنج کے مہروں کی طرح چند ”خانوں“ میں بٹھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جو بھی ذہن میں آئے وہ ”خلفشار“ شمار ہوگا جسے ہر صورت روکنے کی کوششیں ہو گی۔ عوام ہی سے آخر ”بندے کی پتر“ بننے کی توقع با ندھی جارہی ہے۔ کم از کم میں تو عمر کے آخری حصے میں اس کے لئے مکمل طور پر تیار ہو چکا ہوں۔

(بشکریہ نوائے وقت)

 

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleدو سابق وزرائے اعظم کو سزائیں سنانے والےاحتساب عدالت کے جج محمد بشیر ریٹائر ہوگئے
Next Article ڈیزل سستا کر دیا گیا : پیٹرول کی قیمت میں کوئی ردو بدل نہیں
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

منافقت کا موسم اور ایٹمی سیاست : وسعت اللہ خان کا کالم

مئی 11, 2026

بنیان مرصوص اور سانحہ 9 مئی کا یوم ’اتصال‘ : سید مجاہد علی کا تجزیہ

مئی 11, 2026

بنوں میں پولیس چوکی پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 15 ہو گئی

مئی 10, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • منافقت کا موسم اور ایٹمی سیاست : وسعت اللہ خان کا کالم مئی 11, 2026
  • بنیان مرصوص اور سانحہ 9 مئی کا یوم ’اتصال‘ : سید مجاہد علی کا تجزیہ مئی 11, 2026
  • بنوں میں پولیس چوکی پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 15 ہو گئی مئی 10, 2026
  • برطانیہ میں تارکین وطن مخالف ’ریفارم یوکے‘ پارٹی کی کامیابی : تجزیہ ۔۔ سید مجاہد علی مئی 10, 2026
  • خیبر پختونخوا میں فتح خیل چوکی پر حملے میں پانچ پولیس اہلکار ہلاک مئی 10, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.