اہم خبریں

اومیکرون ویرینٹ: اسکولوں میں 50 فیصد حاضری کا فیصلہ، انڈور تقریبات پر پابندی

اسلام آباد:کورونا وائرس کے اومیکرون ویرینٹ کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے کیسز کی 10 فیصد سے زائد مثبت شرح والے علاقوں میں اِن ڈور اجتماعات، 12 سال سے کم عمر طلبہ کیلئے 50 فیصد حاضری سمیت متعدد پابندیاں عائد کردیں۔
این سی او سی کا اجلاس وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور نیشنل کوآرڈینیٹر میجر جنرل محمد ظفر اقبال کی سربراہی میں ہوا جس کے دوران ملک میں وبا کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
این سی او سی کی نئی پابندیوں کا اطلاق 20 سے 30 جنوری تک جاری رہے گا اس دوران 27 جنوری کو صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا البتہ شادیوں کے لیے عائد کردہ پابندیاں فروری تک جاری رہیں گی۔
اجلاس میں وفاقی اکائیوں سے مشاورت اور غور و خوص کے بعد مندرجہ ذیل اقدامات پر اتفاق کیا گیا:
وہ علاقے جہاں کیسز مثبت آنے کی شرح 10 فیصد سے زائد ہے:
انڈور شادیوں، اور ہر قسم کی تقریبات پر پابندی
آؤٹ ڈور شادیوں، تقریبات کی صرف 300 مہمانوں کی شرکت کے ساتھ اجازت
ریسٹورنٹس میں انڈور ڈائننگ پر پابندی
آؤٹ ڈور ڈائننگ کی صرف مکمل ویکسینیٹڈ افراد کو اجازت
صرف مکمل ویکسینیٹڈ افراد کو 50 فیصد گنجائش کے ساتھ جمز، سینما گھروں، تفریحی پارکس اور مزارات پر جانے کی اجازت
براہ راست رابطے میں آنے والے کھیلوں مثلاً کراٹے، مارشل آرٹس، رگبی، واٹر پولو، کبڈی اور ریسلنگ پر پابندی
12 سال سے کم عمر بچوں کی ایک دن چھوڑ کر ایک دن 50 فیصد گنجائش کے ساتھ اسکولوں میں حاضری کی اجازت
12 سال سے زائد عمر کے بچوں کے مکمل ویکسینیٹڈ ہونے کی صورت میں 100 فیصد حاضری کی اجازت
وہ علاقے جہاں کیسز مثبت آنے کی شرح 10 فیصد تک ہے:
انڈور تقریبات، شادیوں میں صرف 300 مکمل ویکسینیٹڈ افراد کو شرکت کی اجازت
آؤٹ ڈور تقریبات، شادیوں میں 500 مکمل ویکسینیٹڈ افراد کو شرکت کی اجازت
صرف مکمل ویکسینیٹڈ افراد کو انڈور اور آؤٹ ڈور ڈائننگ کی اجازت
صرف مکمل ویکسینیٹڈ افراد کو ہر قسم کے کھیلوں کی اجازت
12 سال سےکم عمر بچوں کے لیے کووڈ پروٹوکولز کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت
12 سال کی عمر سے زائد مکمل ویکسینیٹڈ طلبہ کے لیے کووڈ پروٹوکولز کے ساتھ تعلیمی سرگرمیوں کی اجازت
ملک بھر میں نافذ کردہ عمومی پابندیاں
طبی استثنٰی کے علاوہ یکم فروری سے 12 سال سے زائد عمر کے تمام طلبہ کے لیے کووڈ ویکسین کا کم از کم ایک ٹیکہ لگوانا لازمی ہے۔
تعلیمی اداروں میں بھرپور ٹیسٹنگ کی جائے گی اور بیماری کے زیادہ پھیلاؤ کی صورت میں متاثرہ اداروں کو بند کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں وفاقی اکائیاں صحت حکام کے ساتھ تعلیمی اداروں کی بندش کے لیے کیسز کی تعداد یا شرح کا تعین کریں گے۔
مارکیٹس، کاروباری ادارے بغیر وقت کی پابندی کے اپنا کام جاری رکھیں گے۔
پبلک ٹرانسپورٹ مسافروں کی 70 فیصد گنجائش کے ساتھ چلائی جائے گی جس میں ہر مسافر کے لیے ماسک پہننا لازم ہوگا جبکہ کھانے پینے کی اشیا فراہم کرنے پر پابندی ہوگی۔
ریلویز میں 80 فیصد گنجائش کے ساتھ مکمل ویکسینیٹڈ مسافروں کو سفر کی اجازت ہوگی۔
دفتروں میں مکمل ویکسینیٹڈ ملازمین کو 100 فیصد حاضری کے ساتھ کام جاری رکھنے کی اجازت ہوگی البتہ گھر سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
اندرونِ ملک فضائی سفر کے دوران کھانے، مشروبات پر پابندی اور ماسک پہننا لازمی ہوگا۔
تمام وفاقی اکائیاں مساجد، عبادت گاہوں میں ماسک پہننے سمیت احتیاطی تدابیر کا نفاذ یقینی بنائیں گی۔
خطرے کے حساب سے ٹارگٹڈ لاک ڈاؤنز لگائے جاسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ اومیکرون ویرینٹ کے بعد سے ملک بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روز بروز بڑھتا جارہا ہے اور کیسز کی مثبت شرح 9 فیصد سے بھی زائد ہو چکی ہے۔
اس سلسلے میں این سی او سی نے 18 سال سے زائد عمر کے وہ افراد جو ویکسین کی مکمل خوراک حاصل کر چکے ہیں انہیں بوسٹر شاٹس لگوانے کی ہدایت دی ہے۔
دو روز قبل ہوئے اجلاس میں این سی او سی نے کورونا وائرس کی پانچویں لہر کے پیش نظر تعلیمی اداروں سے متعلق فیصلے کو مؤخر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ کیسز کی مثبت شرح کو دیکھ کر کیا جائے گا۔
ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وائرس سے مزید 5 ہزار 472 کیسز سامنے آئے جبکہ فعال کیسز کی تعداد بڑھ کر 44 ہزار 717 تک جا پہنچی ہے۔
(بشکریہ: ڈان نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker