لاہور : اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے لاہور میں مینار پاکستان کے سائے تلے بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا۔گوجرانوالا، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور ملتان کے بعد پی ڈی ایم نے لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں میدان سجایا۔مینار پاکستان کے سائے میں منعقدہ جلسے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جبکہ پنڈال کو رہنماؤں کی تصاویر اور جھنڈوں سے سجایا گیا۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ جنوری کے آخر میں یا فروری کے اوائل میں اسلام آباد کی طرف پوری قوم مارچ کرے گی، پارلیمنٹ کے استعفے ساتھ لے کر جائيں گے، ایسی پارلیمنٹ پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں، اس ناجائز حکومت کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ادارے کھوکھلے ہوچکے ہيں، ملک نہیں چل رہا، ہم اس لیے آئےہیں کہ قوم بن کر پاکستان کا مستقبل بچائیں، پارلیمنٹ کی خود مختاری ہوگی، پارلیمنٹ کو کسی کا یرغمال نہيں ہونے ديں گے۔سربراہ اتحاد کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کشمیر کا سودا کردیا ہے، کشمیر بھارت کو بیچ دیا ہے، آج مگرمچھ کے آنسو بہارہا ہے، عمران کشمیر کی تین حصوں میں تقسیم کا فارمولا دیتا رہا، ہم کشمیرکو کچھ نہیں دے سکے، 73 سال کشمیریوں کے خون پرسیاست کی۔انہوں نے کہا سربراہی اجلاس میں ان نکات پر اتفاق کیا کہ پارلیمنٹ کی حکمرانی ہوگی، پارلیمنٹ کو یرغمال نہیں ہونے دیا جائے گا، آزادانہ الیکشن کیلئے اصلاحات اور عوام کے جمہوری حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا، آزادی رائے اور میڈیا کا تحفظ، دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔
بلاول بھٹو کا لاہور جلسے سے خطاب
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا اس شہر میں ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ انھوں نے کہا فوجی آمر ضیاالحق کی آمریت کے خلاف جدوجہد کا آغاز لاہور سے کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ لاہور کے جیالوں نے کوڑے کھائے مگر آمریت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ان کے مطابق لاہور جہانگیر بدر کو جانتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ لاہور کے شہید عثمان غنی، شہید ادریس بیگ نے جمہوریت کے لیے زندگیاں قربان کر دیں۔بلاول بھٹو کے مطابق آج ملک ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔انھوں نے کہا کہ نااہل اور جاہل حکمرانوں کے پاس عقل ہے اور نہ تاریخ کا علم ہے۔ انھوں نے کہا ہم کبھی کسی آمر اور غاصب سے نہیں ڈرے ہیں اور ہم کشتیاں جلا کر اترے ہیں۔ جب عوام اس مضبوطی کے ساتھ کسی تحریک کا ساتھ دیتی ہے تو پھر ظلم کی زنجیریں کٹ جاتی ہیں۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ کٹھ پتلی حکمران یہ سیلیکٹڈ حکمران گھر جانے والا ہے۔بلاول بھٹو کے مطابق آج پاکستان میں تاریخی مہنگائی، تاریخی غربت اور تاریخی بے روزگاری ہے۔ ان حکمرانوں کو درد محسوس نہیں ہوتا کیونکہ یہ آپ کے ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں نہیں آئے بلکہ یہ کسی اور رستے سے آئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پنچاب کے ساتھ کیا مذاق کیا جا رہا ہے، جو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ اس کٹھ پتلی نے یہاں اپنا ایک کٹھ پتلی بٹھایا ہوا ہے۔’ہم نہ اِس کٹھ پتلی کو مانتے ہیں اور نہ اُس کٹھ پتلی کو مانتے ہیں۔‘پاکستان کے محنت کش اور مزدور بے سہارا نہیں ہیں، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ ان کے مطابق ان حکمرانوں کو سننے کا حوصلہ نہیں ہے۔ حزب اختلاف شہباز شریف جیل میں ہیں، سابق حزب اختلاف خورشید شاہ جیل میں ہیں۔بلاول بھٹو نے دونوں رہنماؤں کی رہائی کے مطالبے سے متعلق نعرے بھی لگوائے۔بلاول بھٹو کے مطابق کسان اب یہاں کس طرح اپنا حق مانگیں انھیں شہید کر دیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پسے ہوئی طبقے کی جماعت ہے اور رہے گی۔بلاول بھٹو نے کہا ’ہم کٹھ پتلی کو للکار رہے ہیں، ہم اس کے سہولت کاروں کو للکا رہے ہیں۔ تا کہ ہم عوام کو ان کا حق اقتدار دلا سکیں۔‘اب کوئی اور رستہ نہیں، ڈائیلاگ شائیلاگ کا وقت گزر چکا اب لانگ مارچ ہو گا، اسلام آباد ہم آ رہے ہیں۔ بلاول بھٹوں نے کہا اب فون کرنا چھوڑ دو، اب ہم اسلام آباد پہنچ کر نالائق اور جعلی حکمران کا استعفی چھینیں گے۔آپ کو عوام کا فیصلہ ماننا پڑے گا۔
مریم نواز شریف کا جلسے سے خطاب
مریم نواز نے اپنی تقریر کا آغاز لہوریو، زندہ باد سے کیا۔ انھوں نے کہا ’اللہ دی قسم اے لہوریو اج تسی مینوں خوش کر دتا اے‘۔انھوں نے کہا کہ وہ کون تھا جو کہتا تھا مینار پاکستان میں جلسہ کر کے دکھائیں وہ آج کر دیکھیں کہ نہ صرف مینار پاکستان بلکہ باہر سڑکیں بھی بھر چکی ہیں۔انھوں نے کہا کہ عمران خان کا یہاں 2011 کا جلسہ آئی ایس آئی کے سربراہ شجاع پاشا نے کروایا تھا۔انھوں نے کہا یہ کہتے تھے کہ نہ اجازت دیں اور نہ کرسیاں دیں گے۔ اب ہم کہتے ہیں کہ ’نہ تمھاری اجازت کی ضرورت ہے اور نہ تمھاری کرسیوں کی ضرورت ہے، اپنے پاس ہی رکھو۔‘

