اسلام آباد : پاکستان اور افغانستان میں جنگ شدت اختیار کر گئی ہے ۔۔ جمعہ کی شب پاک فضائیہ کے کابل ، قندھار ، پکتیا میں حملوں کے نتیجے میں 133 افغان طالبان ہلاک ہو گئے
پاک فضائیہ کی جانب سے بھی افغانستان میں کارروائی کی گئی، ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، طالبان حکومت کے ترجمان نے کابل، پکتیا اور قندھارپربمباری کی تصدیق کردی ۔ افغان میڈیا کے مطابق رات تقریباً ایک بج کر 50 منٹ پر کابل میں طالبان کے ایک فوجی مرکز کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
افغان میڈیا نے بتایا کہ صوبے پکتیا میں طالبان منصوری کور پردو مرتبہ بمباری کی گئی۔
افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ رات12بجےکے بعد قندھار میں پاکستانی طیارہ پرواز کرتا ہوا دیکھا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مسلح افواج نے جنوبی وزیرستان کے مقابل افغانستان کے پکتیا کے علاقے میں پانچ افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا گیا۔
جمعے کی دوپہر افغان طالبان نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت متعدد شہروں میں فضائی کارروائی کی گئی ہے تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک کے تین شہروں میں چھوٹے ڈرونز سے حملوں کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔
افغان وزارتِ دفاع نے جمعے کی دوپہر ایکس پر جاری کیے گئے پیغام میں دعویٰ کیا کہ ‘فضائیہ کی مدد سے کیے گئے حملوں میں اسلام آباد، نوشہرہ اور ایبٹ آباد میں فوجی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔’
ان دعوؤں کے بعد پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر ہی اپنے پیغام میں کہا کہ ‘فتنہ الخوارج دہشت گردوں نے ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز لانچ کرنے کی کوشش کی۔’
انھوں نے مزید لکھا کہ ‘یہ واقعات ایک بار پھر افغان طالبان حکومت اور پاکستان میں دہشت گردی کے براہِ راست تعلق کو بے نقاب کرتے ہیں۔’

