Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • 6 گیندوں پر 6 چھکے مارنے والے پہلے کرکٹر سرگیری سوبرز انتقال کرگئے
  • ہائبرڈ نظام ۔۔ بے یقینی ، اندیشے اور بے خبر حکومت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ڈیزل 31 روپے، پیٹرول 5 روپے لیٹر مہنگا : روزانہ نئی قیمت مقرر کرنے کا اعلان
  • ملا کھد بدھ ، گرانی اور سانڈ کے میمنا بننے کی کہانی : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
  • محسن نقوی کا اگلا سٹیشن وزارتِ خارجہ؟ : برملا / نصرت جاوید کا کالم
  • ملاّؤں کے سامنے بے بس پاکستانی ریاست : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ملتان کے حاجی صاحب اور اداکارہ کے بولڈ لباس کا تنازع : وجاہت مسعود کا کالم
  • ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ بلوچ کی عمر قید کے خلاف دائر اپیلیں سماعت کے لیے منظور
  • فیفا ورلڈ کپ، آخری 5 منٹ میں بازی پلٹ گئی، ارجنٹائن نے انگلینڈ کا 60 سالہ خواب چکنا چور کر دیا
  • مزید کچھ فتاویٰ کی درخواست ہے – یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»سید مجاہد علی کا تجزیہ : امریکی اڈوں کے لئے پاکستان کا انکار کتنا حقیقی ہے؟
تجزیے

سید مجاہد علی کا تجزیہ : امریکی اڈوں کے لئے پاکستان کا انکار کتنا حقیقی ہے؟

ایڈیٹرجون 20, 20211 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
pakistan politics articles of syed mujahid ali at girdopesh.com
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان، امریکہ کو افغانستان میں کارروائی کے لئے کسی بھی صورت اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔’ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا‘۔ عمران خان نے یہ بات ایک غیر ملکی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی ہے۔
اس انٹرویو کے دوران وزیر اعظم سے سوال کیا گیا تھا کہ ’کیا پاکستان امریکی حکومت کو سی آئی اے کے ذریعے افغانستان میں القاعدہ، داعش یا طالبان کے خلاف کراس بارڈر اینٹی ٹیرر مشن جاری رکھنے کی اجازت دے گا؟‘ صحافی جوناتھن سوان کے لئے اس سوال کے جواب میں وزیر اعظم کی طرف سے کسی لگی لپٹی کے بغیر ’ہرگز نہیں ‘ کا جواب اس قدر حیران کن تھا کہ اسے ضمنی سوال میں پوچھنا پڑا کہ ’کیا آپ سنجیدگی سے یہ کہہ رہے ہیں‘؟ پاکستان کی افغان پالیسی کی سنجیدگی کے حوالے سے یہ سوال مختلف فورمز پر مختلف صورتوں میں اٹھایا جارہا ہے ۔ تاہم اس کا کوئی حتمی جواب دستیاب نہیں ۔ اس دوران پاکستان اور افغان حکومت کے درمیان الزامات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔
افغان صدر کے قومی سلامتی مشیر حمداللہ محب نے پاکستان پر افغان طالبان کی سرپرستی کا الزام دہرایا ہے۔ طالبان کو پاکستان کی پراکسی قرار دیتے ہوئے محب کا کہنا ہے کہ پاکستان سے افغانستان میں انتشار اور بدامنی کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ اس یک طرفہ سخت مؤقف پر پاکستانی وزارت خارجہ نے سخت رد عمل دیا ہے۔ حمداللہ محب کے تازہ ٹوئٹ کے بعد وزارت خارجہ نے محب کے بیانات کو امن مذاکرات کو ناکام بنانے کی سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر کے اس بے بنیاد الزام کی مذمت کرتے ہیں کہ پاکستان، افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخیل ہے۔ افغان امن میں پاکستان کے کردار کو عالمی طور سے تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن حمداللہ محب کے غیر ضروری اور پریشان کن بیانات امن عمل کو نقصان پہنچانے کی سوچی سمجھی کوشش ہیں‘۔
پاکستانی وزارت خارجہ کا کہناہے کہ الزام تراشی کی بجائے باہمی تعلقات کے حوالے سے سرکاری ذرائع کو استعمال کیا جائے تاکہ متفقہ منصوبہ کے مطابق معاملات طے ہوں۔ بیان بازی سے باہمی اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ترکی میں انطالیہ ڈپلومیٹک فورم کے اجلاس کے موقع پر افغان مصالحتی کمیشن کے چئیرمین عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی ہے اور انہیں یقین دلایا ہے کہ پاکستان، افغان سیاسی قیادت کے ساتھ مل کر بین الافغان مذاکرات کی کامیابی کے لئے کام کرتا رہے گا تاکہ ملک کودرپیش مسائل کا جامع اور دیر پا حل تلاش کیا جاسکے۔
افغان حکومت کے ساتھ خیر سگالی کے اس مظاہرے کے باوجود پاکستان کی طرف سے ایسے اشارے بھی سامنے آتے ہیں جن سے افغان طالبان کو ’خوش‘ کرنے کی کوشش کا تاثر ملتا ہے۔ حمداللہ محب نے پاکستانی وزیر خارجہ کے ایک تازہ انٹرویو کے بعد ہی پاکستان پر از سر نو الزام تراشی کی تھی۔ شاہ محمود قریشی نے افغان ٹی وی کو دیے گئے اس انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں تشدد اور بدامنی کا سارا الزام طالبان پر عائد نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان کارروائیوں میں وہ عناصر بھی ملوث ہیں جو افغانستان میں امن نہیں چاہتے۔ اب وزیر اعظم کی طرف سے افغانستان میں دہشت گردی کی نگرانی کے لئے امریکہ کو کسی بھی قسم کی سہولت دینے سے دوٹوک انکار کوبھی افغان طالبان کے اس مؤقف کی تائید کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہئے کہ طالبان افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کے خلاف ہیں۔ اسی طرح ہمسایہ ممالک کو بھی افغانستان میں مداخلت کی پالیسی سے گریز کرنا چاہئے ورنہ اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔
افغان طالبان کا یہ بیان ان امریکی کوششوں کے بعد سامنے آیا تھا جن کے مطابق امریکہ افغانستان سے فوجوں کے انخلا کے بعد پاکستان سے دہشت گردی کی نگرانی کے لئے بعض سہولتوں کا تقاضہ کررہا ہے۔ امریکی وزارت دفاع کے نمائیندے نے امریکی سینیٹ کو مطلع کیا تھا کہ پاکستان اس مقصد کے لئے فضائی و زمینی دسترس دینے پر آمادہ ہے۔ اس بیان کو عام طور سے یوں سمجھا گیا تھا کہ پاکستان پھر سے امریکہ کو فضائی و زمینی اڈے فراہم کرسکتا ہے تاکہ وہ افغانستان سے نکلنے کے بعد بھی وہاں دہشت گردی کے تدارک کے لئے ضروری کارروائی کرسکے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے اس امریکی بیان پر براہ راست تو کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا لیکن ان خبروں کی تردید کی گئی تھی کہ پاکستان میں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کئے جاسکتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ سے خطاب میں واضح کیا تھا کہ امریکہ کو پاکستان میں اڈے دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
اس حوالے سے البتہ یہ بات نوٹ کی جانی چاہئے کہ دفتر خارجہ نے امریکہ کو اڈے دینے کے بارے میں قیاس آرائیوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے جو بیان جاری کیا تھا اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان 2001سے ایئر لائن آف کمیونی کیشن (اے ایل او سی) اور گراؤنڈ لائنز آف کمیونی کیشن (جی ایل او سی) کوآپریشن کا معاہدہ موجود ہے۔ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ کوئی نیا معاہدہ نہیں کیا۔ پاکستان سے افغانستان کی نگرانی کے سوال پر ہونے والی سیاسی بیان بازی کے باوجود اس بات کی وضاحت سامنے نہیں آسکی ہے کہ 2001 میں امریکہ کے ساتھ فضائی اور زمینی تعاون کے جو معاہدے کئے گئے تھے، وہ بدستور کیوں برقرار ہیں اور کیا ان معاہدوں کے تحت امریکہ افغانستان میں کارروائی کے لئے پاکستان کی فضائی حدود یا زمینی مواصلات استعمال کرنے کا مجاز نہیں ہوگا؟ وزیر خارجہ یا وزیر اعظم کی طرف سے امریکہ کو اڈے نہ دینے اور پاکستانی سرزمین سے افغانستان میں حملہ کرنے کی اجازت نہ دینے کی بات درست بھی ہو تو ان معاہدوں کی موجودگی میں کوئی نہ کوئی بیچ کا راستہ ضرور موجود ہوگا جس کے بارے میں نہ تو بات کی جارہی ہے اور نہ ہی اس کی تفصیلات منظر عام پر ہیں۔ تاآنکہ پاکستان 20 سال پرانے ان دونوں معاہدوں کو ختم کرنے کا اعلان کردے۔ تب ہی ان سرکاری بیانات کو درست مانا جاسکے گا کہ پاکستان افغانستان پر حملے کے لئے امریکہ کو کوئی سہولت نہیں دے گا۔
پاکستان افغان قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب کے ہر بیان کو مسترد کرنے میں تو مستعدی کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن اس کی طرف سے افغان طالبان کے اس دھمکی نما بیان کا کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا کہ اگر خطے کے ملکوں نے افغانستان میں مداخلت کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔ عام خیال ہے کہ یہ بیان امریکی وزارت دفاع کے بیان کے تناظر میں براہ راست پاکستان کو دھمکی دینے کے مترادف تھا۔ تاہم پاکستان نے اس دھمکی کو نظر انداز کرنا ہی مناسب سمجھا ہے جبکہ افغان حکومت کے ساتھ بیان بازی میں الفاظ کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس دوران نیٹو اجلاس میں امریکی صدر جو بائیڈن اور ترک صدر طیب اردوان کی ملاقات ہوئی اور ترک افواج کو اتحادی فوجوں کے انخلا کے بعد کابل ائیرپورٹ کی حفاظت کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حالانکہ افغان طالبان دیگر غیر ملکی افواج کی طرح ترک افواج کے انخلا کا بھی مطالبہ کررہےہیں۔ البتہ صدر اردوان نے افغانستان میں اپنی فوج رکھنے کے لئے امریکہ سے ’سفارتی، عسکری و اسٹریٹیجک‘ امداد کا تقاضہ کیا تھا جو امریکہ نے مان لیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے افغانستان میں قیام امن کا سہرا اپنے سر باندھنے کے بلند بانگ اعلانات کے باوجود کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ اس ’تعاون‘ کے لئے وہ امریکہ سے کیا سہولتیں چاہتا ہے۔
اس وقت پاکستان کی افغان پالیسی دو نکات پر مشتمل ہے۔ 1) افغان حکومت کو امریکہ طالبان معاہدہ سے پیدا ہونے والی صورت حال کا فائدہ اٹھا کر بین الافغان مذاکرات کو بامقصد بنانے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ بیان بازی اور پاکستان پر الزام تراشی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس طرح امن مخالف عناصر کو فائدہ ہوگا ۔ 2) افغانستان میں تشدد کی کل ذمہ داری صرف افغان طالبان پر عائد نہیں کی جاسکتی بلکہ وہاں دیگر ایسی سرکش طاقتیں بھی موجود ہیں جو امن کو ناکام دیکھنا چاہتی ہیں۔ اس مؤقف کی روشنی میں پاکستان بین الافغان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا سارا بوجھ کابل حکومت اور صدر اشرف غنی پر ڈالنا چاہتا ہے حالانکہ طالبان نے بھی مذاکرات کی کامیابی کے لئے کوئی سنجیدہ رویہ ظاہر نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی حکومت کے دعوؤں اور امن کے لئے نیک خواہشات کے اظہار کے باوجود دوحہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور یہ غیر واضح ہے کہ اتحادی افواج نکل جانے کے بعد افغانستان میں مختلف عسکری گروہ کیا رویہ اختیار کریں گے۔
دو باتیں البتہ واضح ہیں۔ ایک: طالبان کسی بھی طرح کابل پر قبضہ کرکےاپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ دوئم: افغان حکومت اور امریکہ کسی مخلوط حکومت کے قیام کے خواہاں ہیں۔ یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اتحادی فوجوں کے انخلا کے باوجود امریکہ کوئی ایسا انتظام کرنا چاہتا ہے کہ طالبان کابل پر قبضہ نہ کرسکیں۔ ترکی کو کابل ائیرپورٹ کی حفاظت پر مامور کرکے اسی مقصد کے لئے اقدام کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے دوسرا قدم افغان سیکورٹی فورسز کو مضبوط کرنے کے علاوہ علاقے میں امریکی نگرانی کے نظام کو مستحکم کرنا ہے۔ اسی لئے پاکستان سے سہولتیں دینے کی باتیں کی جارہی ہیں جن سے پاکستان مسلسل انکار کرتا ہے۔
وزارت خارجہ نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان 2001 میں ہونے والے زمینی و فضائی تعاون کے معاہدوں کا حوالہ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان اگر امریکہ کو اڈے نہ بھی فراہم کرے اور امریکہ اپنے بحری بیڑوں یا بھارتی اڈوں کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان کی نگرانی کرے اور کسی انتہائی صورت میں وہیں سے مناسب عسکری کارروائی کرے تو کیا ان معاہدوں کی موجودگی میں امریکہ کو ایسے حملوں کے لئے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے سے انکار کیا جاسکے گا؟ اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو پاکستان کی طرف سے امریکہ کو اڈے نہ دینے کی پرجوش باتیں بے معنی اور غیر متعلقہ ہوجائیں گی۔ اگر امریکہ کو ایسی ضمانت بھی فراہم نہیں کی جارہی تو افغان امن کے لئے خدمات کے عوض امریکہ سے ’مراعات‘ کی جو امیدیں باندھی گئی ہیں ، ان کا کیا ہوگا۔
حالات کی خرابی کے بارے میں افغان طالبان کی دھمکی کو بھی اس امکان کی روشنی میں پرکھنے کی ضرورت ہے۔ اس قسم کے کسی منصوبہ میں پاکستان کی شمولیت کی سب سے بھاری قیمت بھی پاکستان کو ہی ادا کرنا پڑے گی۔ تحریک طالبان پاکستان اب بھی افغانستان میں موجود ہے اور افغان طالبان کے ساتھ اس کے مراسم بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

پاکستان امریکا عمران خان
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleقتل اور دیگر جرائم میں ملوث ابراہیم رئیسی ایران کے صدر منتخب :ایمنسٹی انٹرنیشنل کا احتجاج ، عمران خان کی مبارک باد
Next Article ڈاکٹر اختر علی سید کا تجزیہ : مولانا کی ویڈیوز پر ایک مختصر گزارش‎
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی : وجاہت مسعود کا کالم

اپریل 25, 2026

راولپنڈی: عمران خان کے علاج سے متعلق اہم پیشرفت

فروری 15, 2026

پی ٹی آئی کی تنظیمی کمزوریاں اور سیاسی عمل سے لاتعلق عوام : برملا / نصرت جاوید کا کالم

فروری 10, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • 6 گیندوں پر 6 چھکے مارنے والے پہلے کرکٹر سرگیری سوبرز انتقال کرگئے جولائی 18, 2026
  • ہائبرڈ نظام ۔۔ بے یقینی ، اندیشے اور بے خبر حکومت : سید مجاہد علی کا تجزیہ جولائی 18, 2026
  • ڈیزل 31 روپے، پیٹرول 5 روپے لیٹر مہنگا : روزانہ نئی قیمت مقرر کرنے کا اعلان جولائی 18, 2026
  • ملا کھد بدھ ، گرانی اور سانڈ کے میمنا بننے کی کہانی : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت جولائی 17, 2026
  • محسن نقوی کا اگلا سٹیشن وزارتِ خارجہ؟ : برملا / نصرت جاوید کا کالم جولائی 17, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.