تہران : ایران میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں جج ابراہیم رئیسی نے بھاری اکثریت سے فتح حاصل کر لی ہے جس کے بعد سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک کے سربراہان کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے۔ابراہیم رئیسی پر انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے ۔
ابراہیم رئیسی کے مقابلے میں تین اور امیدوار بھی ہیں، جنھیں وہ شکست دے کر برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ خیال رہے کہ ایران میں صدارتی انتخابات میں کئی امیدواروں کو حصہ لینے سے روکا بھی گیا ہے۔پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے ابراہیم رئیسی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایک ٹویٹ کیا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کے تیرہویں صدارتی انتخابات میں تاریخی فتح سمیٹنے پر میں عزت مآب برادر ابراھیم رئیسی کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
’دونوں ممالک کے مابین برادرانہ تعلقات میں مزید پختگی، علاقائی امن، ترقی اور خوشحالی کےحصول کے لیے میں ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں۔‘
ابراہیم رئیسی ایران کے منصف اعلیٰ کے منصب پر بھی فائز رہے ہیں اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت سخت گیر خیالات رکھتے ہیں۔ ابراہیم رئیسی پر امریکہ نے متعدد پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور ان پر ماضی میں سیاسی قیدیوں کی پھانسی دینے جیسے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔
اگرچہ صدر کا داخلہ اور خارجہ پالیسی پر گہرا اثر و رسوخ ہوتا ہے مگر سپریم لیڈر یعنی رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای کی ہر ریاستی معاملے پر بات حرف آخر ہوتی ہے۔
ابراہیم رئیسی 60 برس کے ہیں اور وہ اپنے کرئیر میں زیادہ وقت پراسیکوٹر کے طور پر فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں۔ انھیں 2019 میں عدلیہ کا سربراہ منتخب کیا گیا۔ سنہ 2017 میں وہ صدر حسن روحانی سے بڑے مارجن سے ہار گئے تھے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق ابراہیم رئیسی نے مارچ 2016 میں ایران کے سب سے امیر اور اہم ترین مذہبی ادارے امام رضا فاؤنڈیشن۔۔۔آستان قدس رضوی۔۔۔ کا انتظام سنبھال لیا۔ یہ ادارہ مشہد میں امام رضا کے مزار کی نگرانی کرتا ہے۔یہ عہدہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس ادارے کا بجٹ اربوں ڈالر کے برابر ہے اور یہ فاؤنڈیشن ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں اور تیل و گیس کمپنیوں اور کارخانوں میں آدھی اراضی کی مالک ہے۔
ایران میں متعدد لوگوں کے خیال میں اس منصب پر ان کی تقرری کا مطلب یہ ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای انھیں آئندہ انتخابات میں کامیاب کرانے کے بھی خواہشمند تھے۔ابراہیم رئیسی اپنے آپ کو بدعنوانی کے خاتمے اور معاشی مسائل کے حل کے لیے بہترین انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ تاہم متعدد ایرانی اور انسانی حقوق کے علمبردار ان کے 1980 کی دہائی میں سیاسی قیدیوں کے بڑے پیمانے پر قتل میں کردار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔
ایران نے کبھی بڑے پیمانے پر قتل کو تسلیم نہیں کیا ہے اور ابراہیم رئیسی نے بھی کبھی اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر کچھ نہیں کہا۔
ادھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نومنتخب ایرانی صدر ابراہیم رئیسی پر انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابراہیم رئیسی قتل، اذیت اور جبری گمشدگیوں جیسے جرائم میں ملوث ہیں۔
ابراہیم رئیسی کی ایرانی انتخابات میں کامیابی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رپورٹ جاری کی ہے جس میں ان کے خلاف تحقیقات نہ ہونے اور صدارتی عہدے تک پہنچنے کی مذمت کی گئی ہے۔رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل آنیئس کلامار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ابراہیم رئیسی کے قتل، اذیت اور جبری گمشدگیوں کے جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود تحقیقات نہ ہونا اور صدارتی عہدے تک پہنچ جانا اس امر کی یاددہانی ہے کہ جرائم پر استثنیٰ ملنا ایران کا سب سے اہم پہلو ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2018 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ابراہیم رئیسی کے ’ڈیتھ کمیشن‘ کا رکن ہونے کے حوالے سے لکھا تھا جو جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہے۔اس کمیشن کے تحت 1988 میں ہزاروں کی تعداد میں سیاسی مخالفین کو خفیہ طور پر تہران کے قریب واقع ایون اور گوہر دشت کی جیلوں میں موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔
تاہم متاثرین کی لاشیں آج تک لاپتہ ہیں جن کے بارے میں تمام تر معلومات کو ایرانی حکام نے منظم طریقے سے خفیہ رکھا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ منصف اعلیٰ کے طور پر ابراہیم رئیسی نے انسانی حقوق کے خلاف کریک ڈاؤن کے مقدمات کی سربراہی کی ہے جن کے تحت سینکڑوں کی تعداد میں پرامن مخالفین، انسانی حقوق کے علمبردار اور اقلیت سے تعلق رکھنے والوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
ناقدین کے خیال میں مضبوط حریفوں کو نااہل قرار دے کر انتخابات میں ابراہیم رئیسی کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ تاہم ابراہیم رئیسی کے حامیوں کے خیال میں نو منتخب صدر ہی مغربی ممالک کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں اور معاشی مسائل سے ریلیف فراہم کر سکتے ہیں۔
منصف اعلیٰ کے منصب پر فائز رہتے ہوئے انہوں نے بدعنوان افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی بھرپور حمایت کی تھی۔
فیس بک کمینٹ

