کہتے ہیں کہ شاعر اور ادیب معاشرے کے حساس لوگوں میں ہوتے ہیں۔ آج ہم ایک ایسے خطے کی بات کرتے ہیں جسے پسنی یا بلوچستان کا لکھنؤ کہا جاتا ہے۔ یہاں شاعر ، ادیب اور بلوچی زبان کے بڑے مایاناز گلوکار بستے ہیں، اور نوجوان نسل بھی اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چل کر نہ صرف اپنے زبان کی ترقی اور ترویج کے لیے پیش پیش ہے بلکہ اپنی مدد آپ کے تحت ادب کے دیگر شعبوں کو بھی زندہ رکھنے لیے سرگرم عمل ہے ۔
کامران اسلم کا بلوچی ادب کے ساتھ ساتھ اردو ادب سے بھی گہرا لگاؤ ہے، وہ کہتے ہیں کہ پسنی بلوچستان کے دیگر علاقوں کی نسبت ادب کے حوالے سے اس لیے شہرت رکھتا ہے ، کیونکہ 60 اور 70 کی دہائی میں یہاں اس وقت کے شعرا انور صاحب خان اور اکرم صاحب خان نے جو کہ دونوں شعرا کا تعلق بھی اسی شہر ادب پسنی سے ہے، نے بلوچی ادب اور زبان کی ترقی و ترویج کی خاطر اس وقت ایک ماہ نامہ میگزین ” شبینگ“ کی اشاعت شروع کی جو کہ کسی پرنٹنگ پریس نہ ہونے کے باعث یہ میگزین خوش نویس خطاطوں کے ذریعے لانچ کیا گیا، جو کہ ادب اور زبان دوستی کی روشن مثال ہے۔
اسی طرح 80 کی دہائی میں بلوچی زبان کے انقلابی شاعر مبارک قاضی کا دور شروع ہوتا ہے، 80 ہی کی دہائی میں ان کا شعری مجموعہ ” زرنوشت “ شائع ہوتی ہے ، بلوچ سماج میں مبارک قاضی کو انتہائی پزیرائی ملی۔ مبارک قاضی کی شاعری میں اپنی سرزمين اور قوم سے محبت کا سبق ملتا ہے۔ مبارک قاضی آج بھی بلوچ نوجوانوں کے پسندیدہ شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی نظر آتی ہے۔
پسنی واحد ادبی شہر ہے جہاں پہلی بار ادبی تنظيم بنی تھی جس کا نام ”ڈرامیٹک“ رکھا گیا تھا۔ جو کہ بلوچی زبان میں ڈرامے وغيرہ پیش کیا کرتے تھے۔ اسی طرح ” لبزانکی گل پسنی“ اور بعد میں الف لبزانکی گل کے نام سے بھی ادبی تنظيموں کی بنیاد رکھی گئی ۔اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پسنی بلوچستان کے باقی ماندہ شہروں اور معاشروں سے ادب دوستی میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ لیکن سرکاری سرپرستی نہ ہونے اور دیگر بنیادی مسائل کے باعث بلوچی ادب اور زبان کی ترقی میں شعرا ادیب اور دانشور اس طرح کام نہ کرسکے جس طرح وہ 70 اور 80 کی دہائی سے شروعات کرچکے تھے۔
کامران اسلم نے بتایا کہ بلوچی زبان کے ایسے بہت سارے ادیب اور شاعر ہیں جن کے پاس ادب اور زبان سے متعلق بیشمار مواد اب بھی موجود ہیں مگر مالی وسائل نہ ہونےاور اداروں کی عدم دلچسپی کے باعث ان شعرا کے کتابيں نہیں چھپتی ہیں۔
موجودہ دور کے نوجوانوں میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ حالانکہ وہ ادب اور زبان کی اس طرح خدمت کرنے کا درد رکھتے ہیں، لیکن وسائل کی کمی اور حکومتوں کی مسلسل نظرانداز کرنے کے عمل سے نوجوان نسل مایوس اور دلبرداشتہ ہوکر رہ گئی ہے ۔
فیس بک کمینٹ

