ایک بار ایک دیہاتی کو خیال آیا کہ کب تک وہ یہاں بے روزگار پڑا رہے اور بھوکوں مرے وہ بھی دوسروں کی طرح شہر جاکر روزگار تلاش کرے اور پکا مکان اور موٹر سائیکل خریدے ، اس نے گٹھڑی میں کل سامان باندھا اور بس میں چڑھ گیا ، شہر کے بس اڈے پر اترا تو اسے احساس ہوا کہ اس سفر میں اس کی جیب کٹ گئی ہے۔
جب وہ بس سے اترا اس کو بھوک لگ رہی تھی اس نے دائیں بائیں دیکھا کہ جیب میں پیسے بھی نہیں اور کھانا بھی کھانا ہے تو وہ سامنے ایک ہوٹل پہ گیا اور اس سے کھانا کھایا ۔کھانا کھانے کے بعد جب اس نے اسے بتایا کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو ہوٹل والے نے اس کا وہ سامان بھی رکھ لیا ۔اب وہ آ گے بڑھا تو دیکھتا ہے کہ سامنے ایک بہت بڑی سی بلڈنگ ہے اور وہ جس میں بہت سارے لوگ کام کر رہے ہیں اس کے پاس بس ایک پتا تھا جو اس کے دوست کا تھا جس کی طرف وہ پیدل ہی جانا چاہ رہا تھا اس نے پوچھا یہ بلڈنگ کس کی ہے تو کسی نے اس سے کہا کہ یہ بلڈنگ حاجی عبداللہ کی ہے جو شہر کے ایک بہت بڑے امیر آ دمی ہیں اس نے کہا ماشاءاللہ ماشاءاللہ خدا جسے دے ۔ ابھی وہ یہ کہہ کے آ گے بڑھ ہی رہا تھا اس نے دیکھا کہ تھوڑا سا آگے جا کر ایک سینما ہے کسی سے اس نے پوچھا کہ یہ سینما کس کا ہے اس نے کہا اس شہر کے بہت بڑے تاجر ہیں حاجی عبداللہ ان کا ہے اس نے کہا اچھا ماشاءاللہ ماشاءاللہ اللہ جسے دے وہ آ گے بڑھتا گیا اور آ گے جا کے دیکھتا ہے کہ ایک پٹرول پمپ ہے پیٹرول پمپ پہ بھی خاصہ رش ہے اس نے پوچھا یہ پمپ کس کا ہے اس نے کہا یہ پمپ بھی حاجی عبداللہ کا ہے اس نے کہا ماشاءاللہ ماشاءاللہ لیکن اس کی فرسٹریشن بڑھتی گئی ، آ گے بڑھتے اس کو مختلف کاروباری ادارے اور مراکز نظر آ ئے جس سے بھی پوچھتا وہ کئی دیگر نام لیتے اور کوئی حاجی عبداللہ کا بھی لیتے ۔ آ خر میں شہر کے ایک مرکزی حصے میں پہنچا جہاں پر بڑی خوبصورت سی کوٹھیاں تھیں اور وہاں پر کچھ لوگ ایک بڑی گاڑی کو کھڑے ہوئے دھو رہے تھے اس نے پوچھا کس کا گھر ہے اس نے کہا حاجی عبداللہ کا بس اب کیا سننا تھا کہ اس سے فرسٹریشن اتنی ہوئی اس نے اپنا آ خری زاد را اپنی دھوتی اتاری اور اس کو آسمان کی طرف پھینک کر کہا یا اللہ جہاں تو نے اتنا کچھ حاجی عبداللہ کو دیا ہے تو میری آخری دھوتی بھی حاجی عبداللہ ہی کو دے دے کیونکہ شہر کی ساری چیزیں تو حاجی عبداللہ کے پاس چلی گئی ہیں۔
اگر میں گزشتہ روز ہونے والی ایک پریس کانفرنس کا جائزہ لوں جس میں سندھ کی ایک بہت بڑی روحانی شخصیت پیر صاحب آف پگاڑا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمیں تو بہت ساری سیٹوں کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن دی صرف دوہی ہیں تو ہم یہ سیٹیں بھی اسٹیبلیشمنٹ کو واپس کرتے ہیں تو مجھے ان کی کیفیت اسی شخص کی سی لگی اس دیہاتی کی سی جو بنیادی طور پہ آیا تو شہر میں کمائی کرنے تھا لیکن شاید شہر کے حالات کا غلط اور معروضات کا غلط اندازہ لگا کر بہت جلدی فرسٹریشن کا شکار ہو گیا اصل میں پیر صاحب پگاڑا کے خاندان کی فرسٹریشن نئی نہیں ہے یہ اور اصل میں شروع تو 1988 میں ہوئی تھی 1988 میں جب پیر صاحب پگاڑا ( سید علی مردان شاہ) جو موجودہ پیر پگارا کے والد کے خلاف پرویز علی شاہ نامی ایک پی ایس ایف کے نوجوان کو میدان اتارا گیا تو بنیادی طور پر پیپلز پارٹی تصور کرتی تھی کہ یہ سیٹ شاید ہم نہ جیت سکیں تو چلیں ٹکٹ پرویز علی شاہ کو دیتے ہیں لیکن پرویز علی شاہ نے 78 ہزار ووٹوں کے مارجن سے بڑے پگاڑا صاحب کو شکست دی ، 1990 میں 63000 ووٹوں سے اور 1993 میں 78000 ووٹوں سے اور پھر پیر سائیں نے انتخابی سیاست سے توبہ کر لی بس وہ دن اور ا
آج کا دن بدقسمتی سے کہ پیر صاحب اف پگاڑا کی سیاسی کشتی ہمیشہ ایک بھونچال کا شکار رہی ہے کبھی کبھار اگر حالات بہت اچھے ہوتے ہیں تو دو چار پانچ سیٹیں جیت لیتے ہیں اگر حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ اس کے بعد صورتحال ایسی ہی رہی ہے لیکن اس کے بعد جب کہ اب سندھ میں پیپلز پارٹی نے مسلسل خصوصا جب سے مراد علی شاہ جیسا ایک موثر وزیراعلی آنے کے بعد جب سندھ میں پیپلز پارٹی نے بہت ساری چیزیں ڈیلیور کی ہیں گو کہ وہ چینلز سے نظر نہیں آتیں یا شاید ہمارے ہاں جو مختلف قسم کے ٹیلی ویژن چینلز کے لینز قریب کی چیزیں دیکھ سکتے ہیں لیکن دور کی چیزیں نہیں دیکھتے جیسے انہیں قریب کے لاہور میں بنی ہوئی سڑکیں تو نظر اتی ہیں لیکن لاہور کے گرد و نواح اور دیگر کی سڑکیں نظر نہیں آتیں اور خصوصا اندرون پنجاب کی تو بالکل ہی نظر نہیں آتا انہیں سندھ کی خرابیاں دور سے ہی نظر آجاتی ہیں ، اگر آپ کسی ایسے شخص سے ملیں جس نے پچھلے 20 سال سے چونگی کراس نہیں کی وہ سندھ کی صورتحال پر میڈیا رپورٹس کے بعد ماتم کناں نظر آتا ہے اس صورتحال میں پیر صاحبہ پگاڑا کی سیاسی فرسٹریشن سمجھ آتی ہے کہ وہ ان کے اس سے پہلے کبھی کبھار ان کے بھائی صدر الدین راشدین پھر بھی ایک سیٹ جیت جایا کرتے تھے اس بار تو وہ بھی ہار گئے ہیں یہ دراصل بنیادی طور پہ ان کے اس سیاسی تصور کی شکست ہے کہ وہ گھر سے باہر ہی نہیں نکلتی اور پیپلز پارٹی نے موثر کردار کے ذریعے سندھ میں اپنے موثر حکمت عملی کو بڑھایا اور جبکہ پنجاب کی پارٹی ایک دن بدن جو ہے وہ محدود سے محدود تر ہوتی رہی ہے اور موجودہ انتخابات میں تو نتائج اپ کے سامنے ہیں ہمیں سیاسی طور پر فرسٹریشن ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ نوبت یہی آئے گی کہ ہماری بچی ہوئی دو سیٹیں بھی آپ لے لیں یہ بنیادی طور پر یہ دو سیٹیں اپ نے نہیں لی ‘ وہ بھی عوام کی امانت ہیں جن کی قدر کریں ، آپ اپنے حر مریدین کو دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں مگر وہ حر گھر میں جاکر نعرہ لگاتے ہیں۔
پیر جو نہ میر جو ووٹ بینظیر جو
فیس بک کمینٹ

