اسلام آباد : صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں اراکین پر آپس کے اختلاف ختم کرنے اور مل بیٹھ کر اگلے انتخابات کی تاریخ طے کرنے پر زور دیا ہے۔
صدر کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے آغاز پر جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ علی وزیر کو ایوان میں لے کر آؤ جبکہ حکمراں اتحاد مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام نے غیر اعلانیہ بائیکاٹ کیا جس کے بعد ڈاکٹر عارف علوی کے خطاب کے دوران 442 کے ایوان میں پہلے 37 اراکین اور پھر صرف 14 ارکان موجود تھے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت کے خطاب کے موقع پر ایوان میں 14 اراکین میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد حسین سید، وجیہہ قمر، جویریہ اختر، کشور زہرا، ریاض مزاری، سائرہ بانو، نسیمہ احسان شاہ، ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ، انوار الحق کاکڑ، سرفراز بگٹی اور غوت بخش مہر شامل تھے۔
پانچویں پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ اگر تمام ادارے اس انداز سے کام نہ کرتے تو سیلاب سے جانی نقصان بھی بہت ہوتا اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ مالی نقصان بھی بہت ہوتا۔
صدر عارف علوی نے کہا کہ میں یہاں آپ کے سامنے قائد اعظم محمد علی جناح کا قول پیش کرنا چاہتا ہوں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’خدا نے ہمیں ایک عظیم موقع دیا ہے کہ ہم ایک نئی ریاست کے معمار کے طور پر اپنی قابلیت کو ثابت کریں اور کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم اپنی ذمہ داری کے ساتھ انصاف نہ کر سکے۔‘
انہوں نے کہا کہ میں اس ذمہ داری کا بھی احساس دلانا چاہتا ہوں کہ آزادی کا حصول کتنا مشکل ہے اور جمہوریت کو پروان چڑھتے رہنا چاہیے تاکہ ہمارا ملک مزید مضبوط ہو۔
صدر عارف علوی نے کہا کہ سب سے پہلے میں پاکستان کو اس وقت درپیش سب سے اہم بحران یعنی کہ سیلاب پر بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمیں اس سال مون سون کی شدید بارشوں کی وجہ سے ایک ’سیلابِ عظیم‘ کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ہمیں شدید نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اور سیلاب کی وجہ سے اب تک کے اندازے کے مطابق تقریباً 1500 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور گھروں، عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

