وزیر اعظم شہباز شریف نے کو کہا ہے کہ دنیا کو عالمی مالیاتی ڈھانچے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ’خامیوں‘ کا خاتمہ کرنا چاہیے، دنیا کو اس وقت حقیقت سے آگاہی کے لمحے کا سامنا ہے، آئیے ہم سب یکجہتی اور ہمدردی کے جذبے کے ساتھ چیلنج کا مقابلہ کرنے کا عہد کریں۔
ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری کو شرم الشیخ میں کوپ۔27 میں کئے گئے وعدوں کو پوراکرنا چاہیے، قدرتی آفات سے سپلائی چین میں خلل پڑنے سے اجناس کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا،معاشی نمو رک گئی، دنیا کو موجودہ معاشی اور موسمیاتی انتشار کواصلاح کے موقع کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایک نئے عالمی مالیاتی معاہدے کے لیے سربراہی اجلاس کے موقع پر میں نے اپنی بات چیت کے دوران عالمی رہنماؤں کی توجہ ان خارجی عوامل کی طرف مبذول کرائی جس سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے شدید بحران پیداہوا۔
انہوں نے کہا کہ ان عوامل کی وجہ سے ترقی رک گئی، سپلائی چین میں خلل پڑنے سے اجناس کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ، پھر شدید موسمی واقعات میں سے بد ترین سیلاب آیا جس سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
شہباز شریف نے کہا کہ عالمی برادری کو شرم الشیخ میں کوپ ۔27میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے جس میں مساویانہ مالیاتی اصول پر لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کو فعال کرنا، ایسی گرانٹس کی فراہمی جو ترقی پذیر ممالک کے بھاری قرضہ میں اضافہ نہ کریں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے خطرے سے دوچار ممالک کو ماحولیاتی خطرے کے انڈیکس کی بنیاد پر فنڈ تک رسائی کے قابل بنانا شامل ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول کے لیے مالیاتی فرق کو پورا کرنے میں ناکامی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی اہداف کو حاصل کرنے کے لئے دنیا کو بھاری قیمت ادا کرناپڑ رہی ہے، جو کہ سالانہ کھربوں ڈالر ہے۔
انہوں نے کہاکہ دنیا کو موجودہ معاشی اور موسمیاتی انتشار کواصلاح کے موقع کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ڈھانچے پر دوبارہ غور اس کا نقطہ آغاز ہو سکتا ہے جہاں آئی ایف آئیز اپنے پروگراموں کو ترقی کے حامی اورایس ڈی جیز اور موسمیاتی انصاف کے اہداف کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے ڈیزائن کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو اس وقت حقیقت سے آگاہی کے لمحے کا سامنا ہے، آئیے ہم سب یکجہتی اور ہمدردی کے جذبے کے ساتھ چیلنج کا مقابلہ کرنے کا عہد کریں۔
خیال رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی دعوت پر 22 اور 23 جون کو ہونے والے نیو گلوبل فنانسنگ پیکٹ (نئے عالمی مالیاتی معاہدے) کے لیے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے پیرس میں موجود تھے۔
اس سربراہی اجلاس کا مقصد ’بریٹن وُڈز سسٹم‘ سے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ایک نئے عالمی فنانسنگ آرکیٹیکچر کی بنیاد رکھنا ہے تاکہ بیک وقت موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع اور ترقی کے چیلنجز سے نمٹا جاسکے اور تمام ممالک کو پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے۔
وزیراعظم سے صدر اسلامی ترقیاتی بینک کی ملاقات،جاری منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ، تعاون کے نئے مواقع پر تبادلہ خیال
وزیراعظم نے اسلامی ترقیاتی بینک ( آئی ایس ڈی بی) کے صدر ڈاکٹر محمد الجاسر سے ملاقات کی، شہباز شریف نے 9 جنوری 2023 کو جنیوا میں منعقد ہونے والی کلائمیٹ ریزیلیئنٹ پاکستان بارے میں بین الاقوامی کانفرنس میں آئی ایس ڈی بی کی شرکت پر پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے ڈاکٹر الجاسر کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کانفرنس میں آئی ایس ڈی بی کے پاکستان کی سیلاب کے بعد بحالی میں معاونت کے لئے 4.2 ارب ڈالر کی فراہمی کے اعلان کو سراہا، انہوں نے اس فراخدلانہ مالی معاونت میں ڈاکٹر الجاسر کے ذاتی تعاون اور قائدانہ کردار کو تسلیم کیا۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ آئی ایس ڈی بی کی پاکستان کے ساتھ مفید شراکت داری ملک کے عوام کو ان کی زندگیوں کی تعمیر نو اور روزگار میں مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کے پائیدار ترقی کے مقاصد کے حصول میں بھی معاون ہو گی۔
وزیر اعظم نے ڈاکٹر الجاسر کو ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو صحیح خطوط پر استوار کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے تمام خدشات کو دور کرنے کے لئے ون ونڈو حل فراہم کرنے کے لئے حال ہی میں تشکیل دی گئی خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے بارے میں بھی بتایا۔
وزیراعظم نے صدر آئی ایس ڈی بی کو جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت کا بھی اعادہ کیا۔
(بشکریہ:ڈان نیوز)
فیس بک کمینٹ

