پہلے میرا خیال تھا کہ مسئلہ صرف میرے ساتھ ہے لیکن بھلا ہو ایک ماہر نفسیات کا جس نے سمجھایا کہ ہر بندہ ہی اِس کا شکار ہے۔ خاطر جمع رکھیں میں نفسیاتی مریض نہیں ہوں اور اصل مسئلہ میرا نہیں بلکہ ’ڈیپارٹمنٹل سٹورز‘ کا ہے۔ یادش بخیر، ہمارے بچپن میں سپر سٹورز نہیں بلکہ محلے میں دکانیں ہوا کرتی تھیں اور دکانیں بھی ایسی کہ بندہ باہر کھڑے کھڑے ہی بتا سکتا تھا کہ اسے کیا چاہیے، دکاندار اور گاہک کے درمیان ایک کاؤنٹر ہوا کرتا تھا، دکاندار مختلف کونوں کھدروں سے مطلوبہ چیزیں تلاش کر کے لاتا اور انہیں کاؤنٹر پر لا کر رکھ دیتا۔ اُس زمانے میں اشیا کا انتخاب کرنے کی بھی زیادہ آزادی نہیں تھی، بندہ گھر سے آٹا، چینی، گھی، دودھ، پتی، صابن کی فہرست بنا کر لاتا اور اسے دکاندار کے حوالے کر دیتا تھا۔
اب زمانہ بدل گیا ہے، اب تو بندہ چینی لینے جائے تو دس اقسام کے پیکٹ سامنے پڑے ہوتے ہیں اور بندہ چکرا کر سوچتا ہے کہ ساغرِ جَم سے جامِ سفال اچھا ہے یا کوئی دوسرا دیکھوں! اور اصل مسائلِ تصوف تو اُس وقت آشکار ہوتے ہیں جب میرے جیسا بندہ شیمپو خریدنے کی کوشش کرتا ہے، شخصیت کے ساتھ ساتھ چونکہ بالوں میں بھی خُشکی ہے اِس لیے ’ضِدِّ خُشکی‘ (اینٹی ڈینڈرف) شیمپو ہی مناسب رہتا ہے مگر اُس میں بھی بیسیوں آپشن ملتے ہیں، کوئی سستا ہے، کوئی مہنگا ہے، کسی کی بوتل بہت خوبصورت ہے، کوئی ادویاتی ہے تو کوئی نامیاتی۔ ایک گھنٹے کی تحقیق کے بعد جب شیمپو خرید کر باہر نکلتا ہوں تو بھی دل مطمئن نہیں ہوتا، خلش سی رہتی ہے کہ شاید وہ دوسرا بہتر تھا۔ اِس نفسیاتی مخمصے کو امریکی نفسیات دان بیری شوارتز نے اپنی کتاب The Paradox of Choice میں ایسی لطیف انداز میں سمجھایا ہے کہ بندہ سوچتا ہے گویا یہ بھی میرے دل میں تھا۔
اس مردِ دانا نے یہ لطیف نکتہ بیان کیا ہے کہ عام طور پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ انتخاب کی آزادی خوشی کا باعث بنتی ہے جبکہ درحقیقت بہت زیادہ انتخاب پریشانی، بے چینی اور اضطراب کو جنم دیتا ہے۔ شوارتز کے مطابق جب ہمارے سامنے آپشنز بہت زیادہ ہوں تو ہم اکثر فیصلہ کرنے میں الجھ جاتے ہیں اور اس کے پیچھے یہ ’خوف‘ لاحق ہوتا ہے کہ کہیں ہم گھاٹے کا سودا نہ کر بیٹھیں، دستیاب اشیا کے ’پرفیکٹ‘ موازنے کے چکر میں ہم اپنے ذہن کو تھکا دیتے ہیں اور اِس اکتا دینے والے عمل کے بعد بالآخر جب ہم کوئی فیصلہ کر بھی لیتے ہیں تو اکثر پچھتاوا ہی رہتا ہے کہ شاید کوئی اور آپشن بہتر ہوتا، یوں انتخاب کی آزادی، جس نے بظاہر ہمیں خودمختاری دینی تھی، ایک قید بن جاتی ہے۔
بیری شوارتز کہتا ہے کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جنہیں ہم maximizers کہہ سکتے ہیں، یہ حد سے زیادہ سیانے لوگ ہر فیصلے میں بہترین شے کا انتخاب چاہتے ہیں، وہ بہت تحقیق کرتے ہیں، موازنہ کرتے ہیں، اور اکثر غیر مطمئن رہتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ satisficers ہیں جو بس اتنا چاہتے ہیں کہ ان کی ضرورت پوری ہو جائے، انہیں جب ایک مناسب چیز مل جاتی ہے تو وہ رُک جاتے ہیں اور عموماً زیادہ خوش رہتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ انتخاب کو محدود کریں، ”کافی اچھا“ کو قبول کریں اور بہتر سے بہترین کی دوڑ میں حصہ لینے کی بجائے معنی خیز زندگی پر توجہ دیں، اللہ برکت دے گا۔
بیری شوارتز کا بیان ختم ہوا۔ بات اِس مردِ عاقل کی بالکل درست ہے، اختلاف کی گنجایش صرف اِس قدر ہے کہ بلاشبہ چھوٹے چھوٹے معاملات میں زیادہ تردد کی ضرورت نہیں، اِس سے چنداں فرق نہیں پڑتا کہ آپ کون سے کمپنی کا شیمپو یا صابن خریدتے ہیں مگر زندگی کے بڑے فیصلے بہرحال ٹھوس حقائق اور مناسب تحقیق کے بعد کرنے چاہئیں ورنہ پچھتانا پڑ سکتا ہے۔ اِس ضمن میں میری پسندیدہ مثال سویٹر خریدنے کی ہے۔ آپ کپڑوں کی دکان میں جاتے ہیں، درجنوں ڈیزائنز اور متعدد رنگوں کے سویٹرز میں سے ایک پسند آتا ہے، اُس کا معیار بھی عمدہ ہے، جچ بھی رہا ہے، برینڈ بھی اچھا ہے، بُر نہ آنے کے ضمانت بھی ہے، مگر مہنگا ہے۔ دوسری دکان پر جاتے ہیں، وہاں انہی خصوصیات کا سویٹر مناسب قیمت پر سویٹر مل جاتا ہے مگر جب پہن کر دیکھتے ہیں تو اُس میں موٹے لگتے ہیں۔ مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔ اگلی دکان پر جاتے ہیں تو وہاں مطلوبہ رنگ نہیں ملتا اور اُس سے اگلی پر ڈیزائن پسند نہیں آتا۔ یقیناً دنیا میں ایسا مثالی سویٹر ہو گا جس میں وہ تمام خصوصیات ہوں گی جو آپ کو چاہئیں مگر اُس کی تلاش میں آپ کو جتنا سر کھپانا پڑے گا وہ اُس طمانیت سے میل نہیں کھاتا جو اُس کے بدلے آپ کو ملے گی (خواتین شاید اِس سے اتفاق نہ کریں لیکن وہ ایک علیحدہ موضوع ہے، خدا میرے گناہ معاف کرے ) ۔
مدعا یہ ہے کہ کوئی ایسا فیصلہ کرنا جس میں تمام ’چیک باکسز ٹِک‘ ہو جائیں ممکن نہیں۔ آپ کو کارنر کا پلاٹ چاہیے، پارک کے سامنے، اچھی ہاؤسنگ سوسائٹی میں، مناسب دام میں۔ یہ تمام چیک باکسز ٹِک نہیں ہو سکتے۔ زندگی بھی ایسی ہی ہے اور جب ہم زندگی میں تمام چیک باکسز ٹِک کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو نتیجہ اضطراب، بے چینی اور بے سکونی کی صورت میں نکلتا ہے۔ کیسے؟
انتخاب کا مخمصہ فلسفیوں کے لیے بھی درد سر بنا رہا ہے، آپ اُس راستے کا انتخاب نہیں کر سکتے جہاں آپ کو کچھ بھی منتخب نہ کرنا پڑے، یعنی آپ غیر جانبدار نہیں رہ سکتے، آپ کو کسی نہ کسی راہ نکلنا ہی پڑتا ہے۔ بقول شوپنہار، بے شک ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں لیکن ہم جو چاہیں، چاہ نہیں سکتے۔ اب دوسری طرف ایک حد سے زیادہ سیانے بندے کا تصور کریں جو یہ چاہتا ہو کہ اُس کی زندگی کا ہر فیصلہ درست ہو۔ ایسا شخص غیر ضروری حد تک منظم زندگی گزارنے کی کوشش کرے گا، ایک ایک لمحے کا حساب رکھے گا، ہر پل کو کیش کروا کر مطمئن ہونا چاہے گا، سویٹر خریدنے سے لے کر پلاٹ خریدنے تک اُس کی کوشش ہوگی کہ ہر چیک باکس ٹِک ہو، اور عین ممکن ہے کہ وہ یہ سب کچھ کرنے میں کامیاب بھی ہو جائے مگر اِس ساری عمل میں زندگی سے مُسرّت ہوا ہو جائے گی۔
اگر آپ محبت نہیں کرتے، دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں، کچھ ایسے کاموں کا رِسک نہیں لیتے جو ممنوعہ سمجھے جاتے ہیں اور کتابوں میں بتائی ہوئی تراکیب اور کلیوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اور ایسی زندگی میں خوشی تلاش کرنے کی مسلسل کوشش کرتے ہیں تو آخری تجزیے میں وہ خوشی بھی نہیں مل پائے گی اور ایسا شخص اضطراب اور بے چینی کا شکار ہی رہے گا، کبھی وہ کسی صوفی سے زندگی کا راز پوچھے گا اور کبھی کسی بابے کی گفتگو میں سکون تلاش کرے گا۔ اور اگر بات بابوں پر ہی آ گئی ہے تو بابے بیری شوارتز کی بات زیادہ مناسب ہے، بہت سیانا بننے سے گریز کریں، اسّی روپے کا ٹوتھ پیسٹ اور دو سو روپے کا شیمپو خریدیں اور خوش رہیں۔
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )

