لاہور : لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے پر 25 پی ٹی آئی کے منحرف اراکین اسمبلی کی رکنیت معطل ہو گئی تھی جن میں سے پانچ مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئے تھے۔
الیکشن کمیشن نے 20 نشستوں پر ضمنی الیکشن کا اعلان کرتے ہوئے فیصلہ کیا تھا کہ مخصوص نشستوں کا فیصلہ بھی ضمنی الیکشن کے بعد ہو گا جب کہ پی ٹی آئی کا موقف تھا کہ مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن فوری طور پر ہونا چاہیے۔پی ٹی آئی کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس شاہد وحید نے سماعت کی جس کے دوران تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کے بعد الیکشن کمیشن ان نشستوں پر نوٹیفکیشن جاری کرنے کا پابند ہے۔
ان کا موقف تھا کہ ’سیاسی جماعتوں کی جانب سے دی گئی فہرست بدل نہیں سکتی جب کہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ 20 سیٹیں خالی ہوئی ہیں، اس لیے پارٹیوں کی کل نشستیں بھی بدلی ہیں جو قانونی موقف نہیں۔‘دوسری جانب ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن جنرل الیکشن کے بعد ہوتا ہے اور 20 نشستوں کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کی پوزیشن بدل گئی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے یہ بھی کہا کہ ’میرا تو خیال تھا کہ یہ لارجر بینچ کا معاملہ ہے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

